7
Tuesday 5 Nov 2019 00:56

امریکا کی ڈیجیٹل ڈپلومیسی کے معجزات!

امریکا کی ڈیجیٹل ڈپلومیسی کے معجزات!
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
تمہیدی نکات پر معذرت کے ساتھ۔ بزرگان کے مطابق ایسا واقعہ جو عقل کو عاجز کر دے، اسے معجزہ کہتے ہیں، جبکہ ویبوپیڈیا نے لفظ ڈیجیٹل کی تفصیلی تعریف میں یہ وضاحتی جملہ بھی لکھا ہے: Although digital representations are approximations of analog events, they are useful because they are relatively easy to store and manipulate electronically. یہ ذرا مشکل تعریف ہوگئی، مگر ڈیجیٹل میڈیا کی تعریف آسان ہے۔ Digital media is digitized content that can be transmitted over the internet or computer networks. This can include text, audio, video, and graphics. This means that news from a TV network, newspaper, magazine, etc. that is presented on a Web site or blog can fall into this category. جبکہ ڈپلومیسی جس کا اردو ترجمہ سفارتکاری کیا جاتا ہے۔ یعنی وہ کام، سرگرمی یا ہنر ہے، جو کسی بھی ملک کا نمائندہ بین الاقوامی تعلقات کے سلسلے میں دیگر ممالک میں انجام دیتا ہے۔ ڈپلومیسی کے شعبے میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ جدت آتی رہی اور آج نوبت یہ آچکی ہے کہ صدور مملکت، وزرائے اعظم، وزراء اور سرکاری محکمے ٹوئٹر پر اہم اطلاعات دیتے ہیں یا تبصرے کرتے ہیں۔
 
امریکی ڈیجیٹل ڈپلومیسی کے شعبے کی طرف بہت پہلے سے متوجہ تھے۔ یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کے تھنک ٹینک مرکز برائے تزویراتی و بین الاقوامی مطالعات سے وابستہ ولسن ڈیزرڈ جونیئر نے ڈیجیٹل ڈپلومیسی: انفارمیشن ایج میں امریکی خارجہ کے عنوان سے سال 2001ء میں ایک کتاب لکھی تھی اور اسی برس نائن الیون ہوگیا اور تب سے امریکا افغانستان سے عراق اور وہاں سے شام و لبنان تک نئے بہانوں سے کہیں اعلانیہ اور کہیں غیر اعلانیہ حملہ آور ہوا۔ البتہ امریکا کی ان جنگوں اور لڑائیوں میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ پہلے صرف اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی چینلز ہوا کرتے تھے۔ پھر ویب سائٹ آئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ویب سائٹ آگئیں اور ڈیجیٹل  ٹیکنالوجی نے سوشل میڈیا کو روشناس کروایا۔
 
محکمہ ڈاک اور روایتی ٹیلیفون کا نظام تو بہت پہلے ہی پیچھے رہ گیا تھا۔ تیز ترین برق رفتار ایمیل نظام سیکنڈوں میں پیغام رسانی کا ذریعہ بن گیا تھا۔ مگر فیس بک، ٹوئٹر، اسکائپ، واٹس ایپ، انسٹا گرام، یعنی اب آپ ایپس کے دور میں داخل ہوگئے۔ اب بعضوں کے لئے یہ ایپس (Apps) ہیں اور بعض اس کے چکر میں apes بنے ہوئے ہیں اور امریکا کی ڈیجیٹل ڈپلومیسی نے اول الذکر ایپس استعمال کرکے مختلف ممالک میں ُُٓٓانسانوں کو apes میں تبدیل کر دیا ہے۔ امریکا کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے سال 2014ء میں مستقبل کے منصوبے منکشف کر دیئے تھے۔ اکیسویں صدی میں امریکی اسٹیٹ کرافٹ، نیٹ ورکڈ دنیا میں ڈیجیٹل سفارتکاری ان کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ہارڈ چوائسز کے 24ویں باب کا عنوان تھا اور یہ باب کتاب کے چھٹے اور آخری حصے میں شامل تھا، جس کا عنوان تھا مستقبل جو ہم چاہتے ہیں۔ اس چوبیسویں باب میں انہوں نے جون 2011ء کے ایک ٹریننگ ورکشاپ کا تذکرہ کیا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے لتھوانیا میں ٹیک کیمپ کے عنوان سے بیلاروس حکومت کے مخالفین کو اس میں تربیت دی تھی۔
 
ہیلری کلنٹن کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ماہرین کی ٹیم وہاں موجود تھی، یہ سمجھانے کے لئے کہ کس طرح وہ آن لائن سرگرمیوں کو بیلاروسی حکومت سے چھپا کر جاری رکھ سکتے یا رکھ سکتی ہیں اور وہاں ٹوئٹر، فیس بک، مائیکروسافٹ اور اسکائپ سے ایگزیکیٹیوز بھی وہاں تھے۔ اس میں ایران، شام، چین اور روس کا تذکرہ بھی ہوا۔ ہیلری کلنٹن نے لکھا ہے کہ بیورو آف پنلک افیئرز نے ایک ڈیجیٹل ڈویژن قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد امریکی حکومت کے پیغامات کو دنیا بھر میں مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے مختلف زبانوں میں پھیلانا تھا۔ پلیٹ فارمز میں ٹوئٹر، فیس بک، فلکر، ٹمبلر اور گوگل پلس شامل تھے۔ 2013ء تک 26 لاکھ سے زائد ٹوئٹر صارفین نے امریکی حکومت کی 301 آفیشل فیڈز کو اردو، فارسی، عربی، چینی، ترک اور روسی سمیت 11زبانوں میں فالو کیا تھا۔ یہ مثالیں تحریر کرنے کا مقصد اس حقیقت کی سمت توجہ مبذول کروانا ہے کہ سوشل میڈیا کی بہت ساری تحریکیں منظم ہوتی ہیں اور اس کے قائدین بھی ہوتے ہیں اور اہداف بھی ہوتے ہیں۔ ان ممالک کے محب وطن عوام کو ہیلری کلنٹن کی کتاب میں وہ اعترافات دکھا دیئے جائیں کہ امریکا نے ہی ہزاروں کی تعداد میں سرگرم فعال کارکنان کو ان کاموں کی تربیت دی ہے۔ نہ صرف تربیت بلکہ مال و دیگر ذرایع بھی فراہم کیے ہیں۔
 
لبنان اور عراق میں ہنگامہ آرائی اور تشدد میں جہاں جاسوسی اداروں اور ان کے روایتی ہتھکنڈوں کا تعلق ہے، اس سے بڑھ کر امریکی محکمہ خارجہ کی ٹیک کیمپ جیسی تربیت کا کردار ہے۔ یہ طریقہ کار امریکی ہے۔ گو کہ اب نہ ہیلری کسی قابل ذکر اہم سرکاری عہدے پر ہیں اور نہ ہی ان کی ڈیموکریٹک پارٹی حکمران ہے۔ لیکن ری پبلکن پارٹی سے وابستہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں بھی شد و مد کے ساتھ ڈیجیٹل ڈپلومیسی ہو رہی ہے۔ یعنی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو استعمال کرکے مختلف ممالک میں امریکی مفادات کے لئے ہنگامہ آرائی کروائی جاتی ہے۔ اس تحریر کا عنوان امریکا کی ڈیجیٹل ڈپلومیسی کے معجزات اس لئے رکھا ہے کہ لبنان کے بعض حصوں اور وسائل پر قابض اسرائیل کے سب سے بڑے سرپرست امریکا کے اشاروں پر لبنان کو نئے بحران سے دوچار کرنے والوں کی بندر چال پر حیران ہوں۔ اسی طرح عراق کے شیعہ نشین علاقوں میں ہنگامہ آرائی اور بلوے کرنے والوں کی ان حرکتوں نے بھی عاجز کر دیا ہے کہ حیراں ہوں، سر کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں!!۔ یعنی جس امریکا اور اسکے ایجنٹوں نے، پراکسیز نے عراق کو تباہ و برباد کیا، ان کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔ چین سے لے کر بولیویا تک امریکا کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ مسائل حل کروانے ہیں یا مسائل ایجاد کرنے والے امریکی بلاک کو اپنے اپنے ممالک میں سیاہ و سفید کا مالک بنا دینا ہے کہ جب و جیسا چاہے، ویسا ہونے لگے۔ ڈیجیٹل دور کی اس نادان نسل سے کوئی پوچھ کر بتائے!!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریفرنس:
https://www.webopedia.com/TERM/D/digital.html
https://wikispaces.psu.edu/display/IST432SP11Team14/Definition+of+Digital+Media
https://techcamp.america.gov/about/
https://techcamp.america.gov/map/
https://techcamp.america.gov/techcamps/techcamp-south-asia/
Digital diplomacy: U.S. foreign policy in the information age
https://www.amazon.co.uk/gp/product/B06XDX32MV/ref=dbs_a_def_rwt_bibl_vppi_i1
https://www.simonandschuster.com/books/Hard-Choices/Hillary-Rodham-Clinton/9781476751474
TechCamps are a public diplomacy program hosted in the Bureau of Educational & Cultural Affairs (ECA) at the U.S. Department of State.
TechCamps are hands-on, participant-driven workshops that connect private sector technology experts with key populations — journalists, non-governmental organizations, civil society advocates, and more — to explore and apply innovative tech solutions to global issues. TechCamps are focused on results, with participants identifying real-world challenges and working in partnership with trainers to apply technology solutions to these challenges. Each TechCamp also includes ongoing impact-oriented programs and efforts to help participants
implement their projects post-workshop and stay connected and engaged with each other, their trainers, and U.S. State Department staff.
TechCamp began at the U.S. State Department in 2010; the Bureau of International Information Programs (IIP) took over the program in 2015 and conducted more than 40 TechCamp workshops all over the world, training more than 2,100 participants from more than 110 countries. In May 2019, the TechCamp program transitioned into the Bureau of Educational and Cultural Affairs (ECA).
خبر کا کوڈ : 825658
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب