0
Wednesday 6 Nov 2019 09:59

دھرنے کا کمبل اور مولانا فضل الرحمان

دھرنے کا کمبل اور مولانا فضل الرحمان
تحریر: تصور حسین شہزاد

کراچی سے 27 نومبر کو شروع ہونیوالا مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اس وقت اسلام آباد میں ’’براجمان‘‘ ہے۔ مولانا کو اس مارچ نے کم از کم اپنوں اور غیروں میں فرق سمجھا دیا ہے۔ سیاسی جماعتیں واقعی ’’سیاسی‘‘ ہوتی ہیں اور پاکستان میں معذرت کیساتھ ’’سیاست بمعنی منافقت‘‘ رائج ہے۔ جو جتنا بڑا منافق ہوگا، اسے اتنا ہی بڑا سیاستدان سمجھا جائے گا۔ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی ہیں۔ دونوں جماعتوں کی قیادتیں اس وقت حکومتی احتساب کے شکنجے میں ہیں۔ دونوں جماعتوں کے قائدین بقول حکومتی وزراء ’’ابو بچاو مہم‘‘ چلائے ہوئے ہیں۔ اس ’’مہم‘‘ کی وجہ سے ہی دونوں جماعتوں کی جانب سے حکومت کیخلاف محتاط رویئے کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے اوکھے سوکھے ہو کر مارچ کو سندھ سے رخصت کیا۔ پنجاب پہنچے تو (ن) لیگ نے کوئی خاطر خواہ تعاون نہیں کیا۔ حتیٰ مولانا فضل الرحمان کو لیگی قیادت کے موبائل فونز بھی بند ملے۔ نون لیگ کے اس رویئے پر مولانا کو کہنا پڑا کہ ’’میرا دل کرتا ہے نواز لیگ کو گالیاں دوں۔‘‘ مولانا کے مینار پاکستان چوک میں ہونیوالے جلسے میں مسلم لیگ کا کوئی رہنما شریک نہیں ہوا۔ جاوید ہاشمی ملتان سے میاں نواز شریف کی عیادت کیلئے لاہور آئے ہوئے تھے، وہ بھی اپنے طور پر ہی مارچ میں جا پہنچے، انہیں بھی بعد میں پتہ چلا کہ اس جلسے میں شریک نہیں ہونا چاہیئے تھا، تاہم تب تک پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا تھا۔ مولانا کے ’’ردعمل‘‘ کا میاں شہباز شریف کو پتہ چلا تو وہ اسلام آباد پہنچ گئے اور میاں نواز شریف کی علالت کے باعث جلسے میں نہ آنے پر معذرت کی۔ شہباز شریف نے مولانا کو بتایا کہ وہ ہسپتال میں بہت زیادہ مصروف تھے، جس کے باعث نہیں آسکے۔ خیر انہوں نے گرما گرم خطاب کرکے مولانا کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ شہباز شریف نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ملک کو بحرانوں سے نہ نکال سکے تو ان کا نام ’’عمران نیازی‘‘ رکھ دینا، جبکہ پیپلز پارٹی پہلے ان کا نام ’’شوباز شریف‘‘ رکھ چکی ہے۔

بہرحال لگ ایسے رہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) محتاط انداز میں کھیل رہی ہیں۔ مولانا کا بیانیہ بھی جارحانہ سے تبدیل ہو کر معاندانہ ہوچکا ہے۔ مولانا نے وزیراعظم کو مستعفی ہونے کی ڈیڈلائن دی۔ وہ وقت بھی گزر گیا تو مولانا نے کہا کہ اے پی سی کے بعد اہم اعلان کیا جائے گا۔ اے پی سی میں بھی مولانا کی اتحادی  جماعتوں کی اعلیٰ قیادت شریک نہیں ہوئی۔ دوسرے درجے کے قائدین اے پی سی میں شریک ہوئے اور انہوں نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے کہ وہ کسی بھی فیصلے کی پوزیشن میں نہیں، فیصلہ جو بھی ہوگا، وہ اعلیٰ قیادت ہی کرے گی۔ یوں مولانا کو اے پی سی سے جو اُمیدیں تھیں، وہ بھی دم توڑ گئیں۔ اس وقت مولانا کا دھرنا وہ کمبل بن چکا ہے جسے مولانا تو چھوڑنا چاہتے ہیں مگر کمبل مولانا کو نہیں چھوڑ رہا۔ اب مولانا کے خطاب میں وہ طنز اور کاٹ نہیں رہی بلکہ نرم خو بیانات جاری ہو رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے مثبت رویہ نہ ہونے پر مولانا کا پلان اے فلاپ ہوچکا ہے۔ اب واقفان حال کہتے ہیں کہ مولانا پلان بی پر عمل کریں گے۔

مولانا کا پلان بی یہ ہے کہ وہ اپنے والد مولانا مفتی محمود کی طرح ملک بھر میں اجتماعات کریں گے اور ان اجتماعات سے اپنی آواز ایوانوں تک پہنچائیں گے جبکہ پلان سی بھی ابھی پڑا ہے، جس کے تحت تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر استعفے دیں گی، جس سے حکومت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ مگر پی پی پی اور پی ایم ایل این استعفے کے حق میں نہیں، اس لئے مولانا کا پلان سی بھی پلان اے کی طرح ناکام ہو جائے گا۔ اب مولانا کے پاس پلان ’’بی‘‘ ہی بچتا ہے، جس پر عمل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ادھر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور مولانا عبدالغفور حیدری کی ’’خفیہ ملاقاتیں‘‘ بھی چل رہی ہیں۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ اب تک جو نرمی مولانا فضل الرحمان کی گفتگو میں آئی ہے، وہ صادق سنجرانی اور مولانا غفور حیدری کی خفیہ ملاقاتوں کا ہی نتیجہ ہے اور چودھری برادران بھی درمیان میں آچکے ہیں۔ چودھری برادران نے بھی معاملے کو حل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

چودھری برادران کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اب فوج کے کہنے پر نہیں بلکہ حکومت کے کہنے پر میدان میں آئے ہیں اور ان کی کوشش ہوگی کہ معاملہ کسی طرح حل کر لیا جائے۔ چودھری برادران کے مولانا فضل الرحمان کیساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔ انہی تعلقات کی بنیاد پر ہی چودھری پرویز الہیٰ نے کہا کہ وہ اس معاملے کو احسن انداز میں حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کا کردار اس وقت بہت اہم ہوچکا ہے۔ وہ اپنی عزت بچانے کیلئے کوئی راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اب تو پُرامن دھرنے میں بھی آہستہ آہستہ شدت بھی آتی جا رہی ہے اور انصارالاسلام کے کارکن صحافیوں کیساتھ بدتمیزی بھی کرتے ہیں، جبکہ کئی چینلز کے رپورٹرز کیساتھ شرکاء کو بات کرنے سے بھی روکا گیا۔ سماء اور ڈان نیوز کے رپورٹرز کیساتھ جو سلوک ہوا، وہ تشویشناک اور اس طرف اشارہ ہے کہ معاملات مولانا کے کنٹرول سے نکلتے جا رہے ہیں۔

دھرنے میں شرکاء کی اکثریت مدارس کے طلبہ ہیں۔ جنہیں صرف یہ بات ازبر کروائی گئی کہ وزیراعظم عمران خان یہودی ایجنٹ ہیں، ان کے بچے یہودیوں کے گھر میں پَل رہے ہیں، عمران خان نے کشمیر کا سودا کر دیا ہے، عمران خان صحابہ کا گستاخ ہے۔ اس کا وجود پاکستان کیلئے خطرہ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ جب کارکنوں سے پوچھا جائے کہ آپ کو کیسے پتہ ہے کہ عمران خان یہودی ایجنٹ ہے، کشمیر کا سودا کر چکا ہے؟ تو جواب ملتا ہے کہ ’’ہمیں مولانا صاحب نے بتایا ہے اور مولانا صاحب جو بھی کہتے ہیں درست کہتے ہیں۔‘‘ جہاں یہ صورتحال ہو، وہاں ایسی ’’قوم‘‘ کو کچھ بھی کہہ کر کہیں بھی چڑھائی کروائی جا سکتی ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہیئے کہ معاملے کو جلد حل کرے۔ اس کیلئے مذاکراتی عمل کو تیز کیا جائے، تاکہ حالات مزید خرابی کی طرف نہ جائیں۔

مولانا کو اندازہ ہوگیا ہے کہ جن کے وعدوں پر وہ سڑکوں پر نکلے تھے، انہوں نے کوئی وعدہ وفا نہیں کیا۔ اپوزیشن جماعتوں اور مولانا میں اس وقت ایک خلا پیدا ہوچکا ہے، جس کا فائدہ حکومت اُٹھا سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے چودھری برادران کا مذاکرات کیلئے انتخاب اچھا فیصلہ ہے، مگر اس میں تساہل نہیں، بلکہ تیزی دکھانے کی ضرورت ہے، تاکہ دھرنے کا کمبل مولانا کو چھوڑے اور مولانا خیر و عافیت سے گھر جائیں، کیونکہ مولانا کو جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہی ہوا دینے لگے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 825831
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب