1
Wednesday 6 Nov 2019 23:05

ابوبکر البغدادی کی موت اور القاعدہ کا احیاء

ابوبکر البغدادی کی موت اور القاعدہ کا احیاء
تحریر: علی احمدی

حال ہی میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے فخر سے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوجیوں نے ایک آپریشن کے ذریعے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو ہلاک کر دیا ہے۔ دوسری طرف بعض سیاسی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ابوبکر البغدادی کی موت خطے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خاتمے کا باعث نہیں بنے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ امر القاعدہ کے دوبارہ سرگرم ہو جانے کا باعث بنے گا۔ اخبار انڈیپنڈینٹ عربی کی ویب سائٹ نے نام ذکر نہ ہونے کی شرط پر ایک اہم ذریعے کا انٹرویو شائع کیا ہے۔ اس شخص نے خود کو القاعدہ کا مرکزی رہنما بتایا اور کہا کہ القاعدہ کے رہنما داعش کو اپنے لئے ایک بہت بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں۔ اس نے کہا: "داعش نے القاعدہ کو بہت نقصان پہنچایا اور اس کی وجہ سے القاعدہ میں بہت ٹوٹ پھوٹ ہوگئی ہے۔ اسی طرح داعش کی وجہ سے القاعدہ میں سرگرم عناصر اس گروہ کو چھوڑ کر جانا شروع ہوگئے تھے۔ القاعدہ کی بہت سی ذیلی شاخیں داعش کے معرض وجود آنے کے بعد مرکز سے علیحدہ ہوگئی تھیں۔ اگرچہ القاعدہ کی ٹوٹ پھوٹ کی اور بھی وجوہات تھیں لیکن اصل وجہ داعش تھی۔"

اس شخص نے مزید کہا کہ القاعدہ کیلئے داعش کا خطرہ صرف اس کے اسٹرکچر تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے مرکزی رہنماوں کو بھی متاثر کیا۔ القاعدہ کے ان مرکزی رہنماوں کی علیحدگی کے نتیجے میں القاعدہ سے وابستہ بعض ذیلی شاخیں بھی الگ ہوگئیں اور اس طرح ہمیں بہت زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں القاعدہ کے بعض ماہرین بھی ہم سے جدا ہوگئے۔ لہذا اب ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کیلئے سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی تنظیم نو کرے۔ اس وقت ہم اپنا مرکزی نیٹ ورک دوبارہ تشکیل دینے کی کوشش میں مصروف ہیں اور علیحدہ ہونے والے مرکزی رہنماوں کو دوبارہ واپس لوٹا رہے ہیں۔ انڈیپنڈینٹ عربی کے مطابق القاعدہ داعش کے باعث عراق اور شام میں اپنا اسٹرکچر تباہ ہو جانے پر بہت افسوس میں مبتلا ہے۔ القاعدہ کی نظر میں یہ نقصان بعض نالائق مرکزی رہنماوں کی وجہ سے برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ عراق اور شام میں ہمارے بعض ذمہ دار افراد کی غلطیوں کے باعث ہماری گذشتہ تمام محنتوں پر پانی پھر گیا ہے۔

القاعدہ کے اس مرکزی رہنما نے شمالی افریقہ میں سلفی طرز فکر کی حامل اپنے بقول "اسلام پسند" مسلح تنظیموں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ اور داعش دونوں اس خطے میں ان افراد کو اپنے ساتھ شامل کرنے کیلئے کوشاں تھے۔ مثال کے طور پر القاعدہ مالی، نائیجیریا اور الجزائر پر مشتمل مثلث سے افرادی قوت جمع کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور ان علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہے۔ دوسری طرف داعش بھی اس مثلث کے جنوبی حصے یعنی نائیجیریا، مالی اور بورکینافاسو کے درمیان علاقے پر مسلط ہے۔ شمالی اور شمالی مغربی افریقہ میں سرگرم مسلح گروہوں کے ماہر الحسین عیسیٰ نے بھی انڈیپنڈینٹ عربی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: "ان علاقوں میں دونوں گروہ آپس میں مقابلہ کر رہے ہیں۔ اگر ایک گروہ کوئی کارروائی انجام دیتا ہے اور اسے جہادی کارروائی کا نام دیتا ہے تو دوسرا گروہ اس سے بڑھ کر کارروائی انجام دینے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ دونوں گروہ آپس میں جھڑپوں کا بھی انکار نہیں کرتے۔"

انٹرویو کے آخر میں اخبار اس رائے کا اظہار کرتا ہے کہ داعش خود کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے، لیکن اس کو پہنچنے والا نقصان اس قدر شدید ہے کہ اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ اس کے باوجود ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ داعش کی جانب سے انتقامی کارروائیوں سے غفلت نہیں برتنی چاہیئے۔ خطے کے امور سے آگاہ ماہرین کا خیال ہے کہ داعش کی عدم موجودگی میں مستقبل قریب میں القاعدہ ایک انتہائی خطرناک گروہ کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ داعش نے ابوبکر البغدادی کی جگہ ابو ابراہیم الہاشمی القرشی کو نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش اپنے وجود کو باقی رکھنے پر مصر ہے۔ دوسری طرف القاعدہ موجودہ حالات کو اپنے لئے سنہری موقع تصور کرتا ہے اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا ارادہ کرچکا ہے۔ یہ گروہ داعش کی نسبت زیادہ طویل ماضی اور تجربات سے برخوردار ہے۔ دوسری طرف یہ امکان بھی موجود ہے کہ آخری سانسیں لیتے ہوئے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے وابستہ بچے کھچے عناصر القاعدہ کا رخ کریں گے۔ ان تمام قرائن و شواہد کی روشنی میں مستقبل قریب میں نئی القاعدہ کی شکل میں ایک بڑا خطرہ سامنے آنے کا قوی امکان پایا جاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 825985
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب