0
Friday 8 Nov 2019 13:52

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں
تحریر: ثاقب اکبر
 
”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی ہیں نہ دوستیاں۔ دوام صرف ضرورت اور مفاد کو ہے۔ بھارت امریکا کی جانب کھچے گا تو پاکستان، چین اور روس میں قربت بڑھے گی۔“ یہ الفاظ وسعت اللہ خان کے ہیں، جو انہوں نے 17 اکتوبر 2015ء بی بی سی اردو ڈاٹ کام میں چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں لکھے ہیں، جس کا عنوان تھا ”پاک روس معاشقہ۔“ روزنامہ پاکستان میں چھپنے والے عمر جاوید کے ایک مضمون کا عنوان ہے ”پاک روس تعلقات میں مثبت تبدیلیاں۔“ یہ مضمون 29 جون 2019ء کو شائع ہوا۔ عمر جاوید کی رائے بھی وسعت اللہ خان سے ملی جلتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”پاکستان اور روس کے تعلقات کی تاریخ اور نوعیت بہت منفرد اور دلچسپ رہی ہے۔ پاک روس تعلقات یہ سبق سکھاتے ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات میں جذباتیت، دوستی اور دشمنی جیسے عناصر کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ جدید ریاستی نظام میں یہ قومی مفادات ہی ہوتے ہیں، جن کی بنیاد پر دو ریاستیں ایک دوسرے کے قریب آجاتی ہیں اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد کرتی ہیں۔“
 
عمر جاوید کے مضمون کا آخری پیرا بھی مطالعے کے قابل ہے: ”پاک چین اقتصادی کوریڈور منصوبے میں بھی روس دلچسپی دکھا رہا ہے، جبکہ پاکستان سے نزدیکیوں کا ایک اہم محرک بھارت اور امریکی حربی گٹھ جوڑ بھی ہے، جو روس کو کھٹک رہا ہے۔ مجموعی طور پر پاک روس تعلقات میں 2011ء تا 2016ء کے عرصے میں اعتماد سازی میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ چین روس تعلقات میں گرم جوشی بھی پاکستان کے لیے ایک مثبت پہلو اجاگر کرتی ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اب کریملن، دلی کی اس طرح اندھی حمایت نہیں کرتا جو ماضی کا خاصہ رہی ہے۔ یہ بہترین وقت ہے کہ گلوبل سیاست کے تیزی سے بدلتے ہوئے تناظر میں نئی حقیقتوں کو تسلیم کرکے کریملن اور اسلام آباد، ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ایک نئے دور کی بنیاد رکھیں، تاکہ خطے میں امن و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوسکے۔“
 
پاک روس تعلقات گذشتہ دو دہائیوں سے رفتہ رفتہ بڑھ رہے ہیں اور سرد جنگ کے زمانے کی سرد مہری کسی حد تک ختم ہو رہی ہے۔ گذشتہ روز پاکستان اور روس کے مابین چوبیس سال سے جاری ایک تجارتی تنازع حل ہونے کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائیں گے اور دونوں ملکوں کے مابین تجارت میں حائل بعض رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور روس کے مابین 24 سال بعد 117 ملین ڈالر کا تجارتی تنازع حل ہوگیا ہے۔ روسی اور پاکستانی کمپنیوں کے مابین تمام تجارتی رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں، جبکہ پاکستانی سفیر کو روس کے ساتھ بین الحکومتی معاہدہ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ حکومت نے 5 پاکستانی کمپنیوں کو 23.8 ملین ڈالر جاری کرنے کی منظوری دی ہے جبکہ باقی رقم روسی کمپنیوں کو ادا کی جائے گی۔
 
یہ بات قابل ذکر ہے کہ روس مختلف ایسے ممالک سے تجارتی اور دفاعی تعلقات کو فروغ دے رہا ہے، جو ایک عرصے سے امریکا کے حلقہ دام محبت میں چلے آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں ترکی جو ناٹو کا رکن ہے، کے ساتھ روس کے دفاعی تعلقات کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔ روس نے S400 میزائل سسٹم ترکی کو فروخت کرنے کا معاہدہ کیا ہے، جس کی امریکا نے سخت مخالفت کی ہے۔ تاہم ترک صدر طیب اردگان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ یہ سسٹم روس سے بہر صورت حاصل کرے گا۔ اس سے پہلے روس نے یہی سسٹم چین کو بھی فروخت کیا ہے، جس کے بعد امریکا نے چین پر خاص طرح کی فوجی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ روس نے S400 میزائل بھارت کو ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی نقد ادائیگی پر فروخت کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے، جس کے خلاف امریکا نے شاید اس لیے کوئی اقدام نہیں کیا کہ بھارت اس سے پہلے امریکا سے 18 ارب ڈالر کے دفاعی ساز و سامان کے معاہدے کرچکا ہے۔ روسی صدر پیوٹن نے حال ہی میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کیا ہے، جس میں دونوں ملکوں کے ساتھ کئی ایک معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
 
امریکا کا جہاں بھی بس چلتا ہے، وہ روس اور چین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے طرح طرح کی پابندیاں عائد کرتا رہتا ہے۔ پاکستان اور روس کے مابین 2015ء میں کراچی سے لاہور تک مائع گیس کی منتقلی کے لیے پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے پر عملدرآمد میں رکاوٹیں بھی امریکا ہی کی طرف سے ڈالی جا رہی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اور دیگر ممالک امریکا کی ان جارحانہ اور دہشتگردانہ معاشی پابندیوں کا مقابلہ بالآخر کس طرح سے کرتے ہیں۔ جب تک چین، روس، ملائیشیا، ایران، ترکی اور پاکستان جیسے ممالک مشترکہ طور پر امریکی معاشی پابندیوں کا توڑ کرنے کے لیے جرات مندانہ اور مشترکہ فیصلے نہیں کرتے، باہمی معاہدے اپنی رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ امریکا تو دباﺅ میں لانے کے لیے کینیڈا، آسٹریلیا اور اپنے یورپی اتحادیوں پر پابندیاں عائد کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔
 
بہرحال مختلف محاذوں پر پاکستان اور روس کے مابین تعلقات بہتری کی طرف رواں دواں دکھائی دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں چین، روس اور پاکستان نے افغان مسئلے کو حل کرنے کے لیے اسی انداز سے سہ فریقی کوششیں کی ہیں، جیسے شام کے مسائل کو مشترکہ طور پر حل کرنے کے لیے روس، ترکی اور ایران نے کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ شام میں اگرچہ تینوں ملکوں کے مفادات بعض مقامات پر مختلف دکھائی دیتے ہیں، تاہم بعض اہم امور میں ان کی ہم آہنگی کی وجہ سے شام سے امریکا ایک حد تک پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ تاہم افغانستان کا موضوع ابھی تک حل طلب ہے۔ ہمیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ جب امریکا محسوس کرتا ہے کہ پاکستان اب اس کے ہاتھ سے پوری طرح نکلتا چلا جا رہا ہے تو وہ ایک مسکراہٹ سے مسائل کے حل کو کئی برس کے لیے ملتوی کروا دیتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جب کھل کر پاکستان کے خلاف بیانات دینے شروع کیے تھے تو پاکستان میں اس امر کا زیادہ احساس پیدا ہوگیا تھا کہ اسے اپنی خارجہ پالیسی کو از سر نو ترتیب دینا ہے، جس سے امریکا پر اعتماد کرنے کے بجائے علاقے کی دیگر حقیقتوں کے ساتھ ہم آہنگی کی صورتیں تلاش کی جائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں امریکا کے ساتھ تلخ تعلقات کی تاریخ ہمیں بہت کچھ سیکھنے پر آمادہ کرتی ہے اور امریکا کی کہہ مکرنیوں پر مزید بھروسہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت اپنے آغاز میں ان بدلتے ہوئے حالات کے بارے میں آگاہ اور سنجیدہ معلوم ہوتی تھی، لیکن رفتہ رفتہ اس سنجیدگی میں کمی واقع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ کیا روس سے چوبیس سال پرانا تجارتی تنازع ختم کرکے پاکستان نے ایک مرتبہ پھر حقیقت شناسی کا ثبوت دیا ہے؟ اس سلسلے میں کوئی رائے قائم کرنے کے لیے ہمیں کچھ مزید انتظار کرنا ہوگا۔
 
پاکستان اور روس کے مابین 2016ء میں دو ہفتے تک جاری رہنے والی جنگی مشقوں نے دونوں ملکوں کے مابین جو خوشگوار امیدیں پیدا کی تھیں، ابھی وہ باقی ہیں۔ ان مشقوں کی بنیاد پاکستان کے سابق آرمی چیف کے دورہ ماسکو میں رکھی گئی تھی، جس میں انھوں نے روسی حکام کے ساتھ دفاعی تعلقات کے حوالے سے بنیادی امور پر بات چیت کی تھی۔ اس سے پہلے روسی وزیر دفاع نے 20 نومبر 2014ء کو پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس میں دفاعی تعاون کا تاریخی معاہدہ کیا گیا تھا، جس کے تحت روس نے پاکستان کو 20 جدید ترین ایم آئی 33 ہیلی کاپٹر فراہم کیے۔ پاکستان نے جے ایف تھنڈر کے انجن بھی روس سے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روس کے جدید ترین لڑاکا طیارے سخوئی خریدنے کے معاملے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔
 
جون 2019ء کے وسط میں شنگھائی تعاون تنظیم کا 19واں اجلاس بشکیک میں منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس کے دوران میں پاکستان کے وزیراعظم اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی باہمی خوشگوار ملاقاتوں کی تصویریں میڈیا پر سامنے آئیں تو یہ سمجھا گیا کہ پاکستان اور روس کے مابین تعلقات اب تیز رفتاری سے آگے بڑھیں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا: ”مجھے خوشی ہے کہ بدلتی دنیا اور بدلتے حالات میں روس اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں، ہم روسی ہتھیاروں کی خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔“ اگر امریکا سے تعلقات کی وقتی اونچ نیچ کو چین، روس اور علاقے کے دیگر اہم ممالک سے دور رس تعلقات پر اثرانداز نہ ہونے دیا جائے تو یقینی طور پر پاکستان خارجہ تعلقات نیز معاشی پالیسیوں کے لحاظ سے مثبت راہ پر گامزن ہوسکے گا۔
خبر کا کوڈ : 826289
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب