1
Saturday 9 Nov 2019 11:57

بابری مسجد پر قانونی حملہ

بابری مسجد پر قانونی حملہ
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

آج ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ آج ہندوستانی مسلمانوں کا ہندوستان کے سیکولرانہ دکھنے والے نظام سے اعتبار اٹھ گیا ہے۔ تعجب ہے جدید قانون کے تعلیم یافتگان اور سیکولر انڈیا کے محافظین نے یہ سیاہ فیصلہ لکھا ہے۔ انہوں نے بابری مسجد کی ساری زمین ہندوتوا کے پیروکاروں کے حوالے کر دی اور مسلمانوں کو اس کے بدلے میں پانچ ایکڑ زمین دی، عجیب تماشہ ہے، بابری مسجد اور اس کے ارد گرد اڑسٹھ ایکڑ زمین کئی دہائیاں پہلے مسلمانوں سے حکومت نے لے لی تھی۔ وہ اڑسٹھ ایکڑ زمین بھی ہضم، بابری مسجد بھی ہضم اور بدلے میں پانچ ایکڑ زمین۔؟ یہ انصاف نہیں ظلم ہے۔ مغل بادشاہ ظہیرالدین محمد بابر کے نام سے منسوب بابری مسجد ایودھیا میں سنہ 1528ء میں ایک مقامی فوج کے کمانڈر نے بنوائی تھی۔ انتہا پسند ہندووں کا کہنا تھا کہ یہ مسجد رام مندر کو توڑ کر بنائی گئی اور اس دعویٰ کو مزید تقویت دینے کے لیے کہا گیا کہ یہاں رام پیدا بھی ہوئے تھے۔ رام کب پیدا ہوئے تھے؟ یہ تو ہزاروں سال پہلے کی بات ہے، کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟ جی نہیں سنی سنائی کہانیاں ہیں۔ ہندوستانی معاشرہ بڑی تیزی سے  انتہا پسندی کا شکار ہو رہا ہے، ایل کے ایڈوانی کی جماعت برسراقتدار ہے، یہ وہی ایڈوانی ہیں جن کی قیادت میں بابری مسجد پر چڑھائی کی گئی تھی اور بانوے میں اسے مکمل طور پر شہید کر دیا گیا۔

یہ فیصلہ دور رس نتائج کا حامل ہے، اس سے مسلم شناخت کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ایک مسجد جو سینکڑوں سالوں سے قائم تھی اور جہاں رام مندر کے کسی قسم کے شواہد نہ تھے، اسے پہلے گرایا گیا اور پھر اس کی جگہ قانونی طور پر رام مندر بنانے کی اجازت دے دی گئی۔ اب اس فیصلے پر جشن ہوگا، خدا ہند کے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے، جب بھی اس جیسی صورتحال پیدا ہوئی، ہمیشہ مسلمانوں کی بستیوں کو جلایا گیا، انہوں خوفزدہ کیا گیا اور مزید دیوار سے لگا دیا گیا۔ اس فیصلے کا ایک ردعمل انڈیا میں آئے گا، وہ یقیناً تکلیف دہ ہوگا اور اس میں مسلمانوں کو زدوکوب کیا جائے گا اور ممکن ہے کہ کہیں دنگا فساد بھی ہو جائے۔ اگرچہ مودی نے امن کا پیغام دیا ہے، جو بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کا مصداق ہے۔ ایک دوسرے ردعمل کا پاکستان میں خطرہ ہے، جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو وسعت اللہ خان کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں چالیس مندر تباہ کیے گئے تھے اور ہندووں کے گھروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ پاکستان میں ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیئے، پاکستان کی سیاسی قیادت، انتظامیہ اور مذہبی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اسلام کی بنیادی تعلیمات کے مطابق ہم کسی کے جرم کی سزا دوسرے شخص کو نہیں دے سکتے، جو اس کا ہم مذہب یا رشتہ دار ہے۔ یہاں بسنے والے ہندو دارالسلام کے مقیم ہیں اور فقہاء نے ان کے مال، جان، عزت و آبرو کی حفاظت کو تمام مسلمانوں کی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اگر کوئی کسی ہندو کے مال کو تلف کرتا ہے یا اس کو جانی نقصان پہنچاتا ہے تو وہ ایک فعل حرام کا مرتکب ہوتا ہے اور حاکم شرع یعنی مسلمان حاکم کی ذمہ داری ہے کہ اسلامی قانون کے مطابق ان کو اس کی سزا دے۔ سب سے اہم بات خاتم الانبیاءؑ نے فرمایا جاہلیت کے اس طریقہ کار کہ باپ کے جرم کا بیٹا یا بیٹے کے جرم کا باپ ذمہ دار ہوتا ہے، کو پاوں تلے روندتا ہوں، اب جرم کی سزا صرف مجرم کو ملے گی۔ ہمیں سیرت نبی اکرمﷺ کے اس روشن پہلو پر عمل کرنا ہے اور بتانا ہے کہ جس نبی کے پیرو ہیں، اس نے اقلیتوں کو کتنے اعلیٰ حقوق دیئے ہیں۔ فکری طور پر ہندوستانی سماج کدھر جا رہا ہے؟ اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ مجھے لگتا ہے کہ مودی صیہونی ماڈل پر عمل کر رہا ہے، جس میں مدمقابل کی کسی قسم کی عزت نہیں کی جاتی اور آہستہ آہستہ اس کو اتنا مجبور اور کمزور کر دیا جاتا ہے کہ اس کے پاس سوائے اسرائیلی بات ماننے کے اور کوئی چارہ ہی نہیں رہتا۔

پچھلے چند اقدامات کا بغور جائزہ لیتے ہیں، بڑے عرصے سے انڈیا میں تین طلاق کے مسئلے کو مسلمان عورتوں کا ایک بڑا مسئلہ بتایا جا رہا تھا اور بار بار اسلامی فقہ کی توہین کی جاتی تھی۔ میں اگرچہ ایک وقت کی تین طلاقوں کے خلاف ہوں، مگر ٹاپ ریٹنگ ٹائم میں پورا ہندوستانی میڈیا اس مسئلے پر صرف اور صرف مسلم خواتین کے درد میں بات کرے اور اس کے پیچھے کوئی اور وجہ نہ ہو۔؟ یہ سمجھنا مشکل بھی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مودی سرکار نے ہندوستانی خواتین کا ووٹ بنک توڑنے کے لیے اس ایشو کو بہت استعمال کیا اور کہا کہ ایک ظالمانہ عمل کو ہم نے ختم کیا ہے۔ اس مسئلے کو  فقط ایک قانونی مسئلہ نہیں رہنے دیا گیا بلکہ مسلم شناخت کا مسئلہ بنایا گیا، تاکہ جب اس کے خلاف فیصلہ آئے تو سارے مسلمانوں کو اس سے تکلیف پہنچے۔ یہی ہوا اور پھر جو قانون سازی کی گئی، اس میں طلاق دینے  والے مسلمان مرد کو جیل کی سزا اور بھاری جرمانے کا بھی مستحق قرار دیا گیا۔ یہ مسلمانوں کے بنیادی حق مذہبی آزادی پر کھلا ڈاکہ تھا۔

5 اگست کو ہندوستانی پارلیمنٹ نے کشمیر کی ریاست کو اپنے استعماری قبضے میں لینے کے لیے قانون سازی کر لی۔ اس دن سے آج تک وہاں کرفیو جاری ہے اور اہل کشمیر بے بس کر دیئے گئے ہیں۔ کشمیریوں کے ساتھ کیے گئے سارے وعدے توڑ دیئے گئے ہیں اور انہیں ایک غلام علاقے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مودی نے بالکل اسرائیلی طریقہ کے مطابق پہلے قانونی قدغنین ختم کی ہیں اور اب وہ بڑے طریقے سے اربوں ڈالر سے ان کی زمینیں خریدنے جا رہے ہیں، تاکہ وہاں پر بڑی تعداد میں غیر کشمیروں کو بسا کر آبادی کی اکثریت کو توڑا جا سکے اور کشمیر کو مکمل بھارتی تسلط میں لے لیا جائے۔ وہ لوگ جو کشمیر میں ہونے والی آئینی تبدیلی کے حوالے سے انڈیا کی سپریم کورٹ میں دائر رٹ سے اچھی امیدیں لگائے بیٹھے تھے،  وہ کچھ اور سوچ لیں، جو سپریم کورٹ چند ایکڑ زمین مسلمانوں کو نہیں دیتی، وہ اتنی بڑی قانونی تبدیلی کو کیسے ریورس کرکے مسلمانوں کو ریلیف دے سکتی ہے۔؟؟؟

ایسے موقع پر قائداعظم ؒکی بصیرت کو سلام کرنا چاہیئے، جنہوں نے کانگریس کے  سیکولرازم میں چھپی ہندوتوا کی وہ خواہش بھانپ لی تھی کہ یہ ایک دن طاقت کے بل بوتے پر ہمیں قانونی طور پر بے دست و پا کر دیں گے۔ پاکستان ہو یا موجودہ بنگلہ دیش، دونوں جگہ کی مسلم اکثریت صرف اور صرف قائد اعظم ؒ کی دور بین نگاہوں کی وجہ سے آج ہندوستانی استعمار کی دسترس سے باہر ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ آج ہندوستان جس اسرائیلی روڑ میپ کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے، اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ یہ تو طے ہے کہ ضرورت سے زیادہ کسی کمیونٹی کو دبانے کے نتائج اچھے نہیں ہوتے۔ معاشرے میں فکری تبدیلیاں دوررس نتائج کی حامل ہوتی ہیں اور ان کو دہائیوں تک بھگتا پڑتا ہے، ابھی فکری انجئنرنگ کی جا رہی ہے، جب یہ بیک فائر کرے گی تو اسے سنبھالنے میں دہائیاں لگ جائیں گے۔ جب کہیں مسجد بن جاتی ہے تو وہ زمین قیامت تک مسجد رہتی ہے، اس کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، بابری مسجد بھی ان شاء اللہ اسی شان و شوکت سے ایک دن دوبارہ تعمیر ہوگی اور قوموں کی زندگیوں میں ایک دو صدیاں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔
خبر کا کوڈ : 826410
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے