0
Saturday 9 Nov 2019 15:51

بیروت اور بغداد میں شیطان کی چال

بیروت اور بغداد میں شیطان کی چال
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی
 
بعض اوقات تصور کئے جانے والی بات کے برعکس ایران سے امریکہ کی دشمنی میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ اسی طرح مسلسل ناکامیاں اور شکست بھی اس بات کا باعث نہیں بنی کہ امریکہ ہار مان کر پیچھے ہٹ جائے۔ عراق اور لبنان کے موجودہ حالات بخوبی ان دو ممالک میں اسلامی مزاحمت بلاک سے امریکہ کی دشمنی میں اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ لہذا یہ دشمنی مستقبل میں بھی نہ صرف باقی رہے گی بلکہ ماضی کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اس کی شدت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔ تحریر حاضر میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ امریکہ کی یہ دشمنی اور اس کی شدت میں اضافہ کس حد تک اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک اور ان کی سرگرمیوں کو متاثر کرے گا۔ اس بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
 
1)۔ اپنے مقصد کے حصول کیلئے امریکہ کی جانب سے ایران سے دشمنی پر مرکوز ہونے کے بارے میں متعدد موارد کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے اور وہ تمام موارد درست ہیں لیکن اگر سوال یہ ہو کہ اس وقت اور آئندہ چند سالوں میں ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک کے مقابلے میں امریکہ کی توجہ کن اقدامات پر مرکوز ہو گی؟ تو اس کا جواب ایک مورد پر مشتمل ہو گا۔ میری نظر میں امریکی حکام نے موجودہ حالات میں اسلامی مزاحمتی بلاک کے خلاف خطے کے پالیسی ساز مراکز پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ اس مقصد کیلئے واشنگٹن سوشل میڈیا کی نامحدود فضا کے ذریعے نت نئے گروہ تشکیل دینے کی کوشش میں مصروف ہے تاکہ ان کے ذریعے اسلامی مزاحمتی بلاک سے وابستہ حکومتوں اور گروہوں کو شدید دباو کا شکار کر سکے۔ چونکہ اسلامی مزاحمتی بلاک ان نئے تشکیل پانے والے گروہوں کو کنٹرول کرنے کا تجربہ نہیں رکھتا اور ان کے بارے میں کافی حد تک معلومات نہیں رکھتا لہذا جب تک سوشل میڈیا پر اسلامی مزاحمتی بلاک کا کنٹرول بحال ہوتا ہے اس وقت تک یہ گروہ اسلامی مزاحمتی قوتوں کو دباو کا شکار رکھ سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور سائبر اسپیس نے امریکہ کو بہت بڑا موقع فراہم کر رکھا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تقریبا 2 کروڑ عراقی شہری فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے گذشتہ چند سالوں کے دوران تقریبا 40 ہزار عراقی جوانوں کو ایک سے تین مہینے کی ورکشاپس کی صورت میں امریکہ میں خاص قسم کی ٹریننگ فراہم کی ہے۔
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس امریکی اقدام کے پیچھے مخصوص اہداف کارفرما تھے اور تربیت پانے والے عراقی جوانوں کو خاص گروپس میں منظم کیا گیا ہے۔ ورکشاپس کیلئے انتخاب کئے گئے عراقی جوانوں کی اکثریت شیعہ، تعلیم یافتہ، دین سے دوری اور بظاہر دینی احکام کی خلاف ورزی جیسی خصوصیات کی حامل تھی۔ اسی طرح حال ہی میں ایسی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغداد کے تحریر اسکوائر میں دھرنا دے کر بیٹھے جوانوں میں مختلف قسم کی بے راہروی کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ اس حقیقت کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ یہ نئے جنم لینے والے سوشل گروپس منظم ہونے کی صلاحیت سے برخوردار ہیں اور ان میں شامل افراد کی اکثریت جوان ہونے کے ناطے وہ خطرناک اقدامات انجام دینے کی جرات بھی رکھتے ہیں۔ اخلاقی اقدار سے غافل ہونے کے سبب یہ جوان قتل و غارت کے مرتکب بھی ہو سکتے ہیں اور دشمن کی انٹیلی جنس ایجنسیز کے مدنظر بھی اسی قسم کی سرگرمیاں ہیں۔ اس سے پہلے ہم کئی بار "تعمیری انارکی" نامی تھیوری کے بارے میں سن چکے ہیں اور یہ کہ امریکہ نے اسے اپنے مخالفین پر غلبہ پانے کیلئے اہم ترین ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ امریکہ اس ہتھکنڈے کے ذریعے اب تک کئی طاقتور حکومتوں کو بھی سرنگون کر چکا ہے۔ امریکی حکام کی نظر میں اگر ایسے نئے گروپس جو ابتدا میں کسی آئیڈیالوجی، لیڈر اور عوامی محبوبیت سے عاری ہوں کو کچھ عرصے تک عوام کی نظروں کے سامنے رکھا جائے تو انہیں آئیڈیالوجی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ لیڈرشپ بھی مہیا کی جا سکتی ہے اور معاشرے میں محبوب بھی بنایا جا سکتا ہے۔
 
2)۔ امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف "جام کر دینے والی پالیسی" اختیار کر رکھی ہے۔ اس پالیسی کے تحت امریکی حکومت کا خیال ہے کہ اگر وہ انقلاب اسلامی ایران یا اسلامی مزاحمتی بلاک کا وجود ختم نہیں کر سکتی تو کم از کم اسے اپنے خطے سے باہر نکل کر دیگر خطوں تک سرایت کر جانے سے روک سکتی ہے۔ اس حکمت عملی کی روشنی میں امریکہ نے ایران کے دوست ممالک اور قوتوں کو گھیرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ گھیراو ایک لحاظ سے قانونی پہلووں پر مشتمل ہے جس کے تحت عالمی اداروں اور ان کی قراردادوں کے ذریعے ان پر دباو بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان پر غیر قانونی اور نامشروع ہونے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف سماجی پہلو کو مدنظر قرار دیا گیا ہے۔ سماجی محاذ پر اسلامی مزاحمتی بلاک سے وابستہ حکومتوں کے سامنے ایک نظر نہ آنے والا محاذ کھولا گیا ہے۔ یوں ان حکومتوں کو دباو کا شکار کر کے برسراقتدار ایران نواز عناصر کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کا کام انجام دیا جائے گا۔
 
ہم مذکورہ بالا صورتحال کا مشاہدہ ایک ہی وقت میں عراق، لبنان اور یمن میں کر رہے ہیں۔ ماضی میں یہی فارمولا یعنی قانونی، سماجی اور سیاسی توانائیوں کے ذریعے حکومت گرانا، شام میں صدر بشار اسد حکومت کے خلاف آزمایا جا چکا ہے۔ البتہ 8 برس کی کوشش کے باوجود اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور معلوم ہو گیا کہ اسلامی مزاحمت کی چٹان امریکہ کی طوفانی لہروں کے مقابلے میں انتہائی مضبوط اور مستحکم ہے۔ ایران کے علاقائی اتحادیوں کو گھیرنے کی پالیسی خاص طور پر لبنان میں بہت شدت سے جاری ہے۔ گذشتہ چند دنوں میں امریکہ نواز عناصر نے لبنان کے حکومتی اداروں میں ہڑتال شروع کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کیلئے دارالحکومت بیروت خاص طور پر اس کے شیعہ نشین جنوبی علاقوں کی راستے بند کر دیے گئے۔ امریکہ ان اقدامات کے ذریعے حزب اللہ لبنان کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر اس نے امریکی مطالبات کو قبول نہ کیا تو ایسے عناصر کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہو جائے جو بظاہر لبنانی ہیں لیکن درحقیقت اس کے ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ دوسری طرف امریکی حکام اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ حزب اللہ لبنان ملک کے اندر کسی تنازعہ کا حصہ نہ بننے کی پالیسی پر گامزن ہے کیونکہ حزب اللہ لبنان کے اعتبار کا بڑا حصہ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔
 
3)۔ اسلامی مزاحمتی بلاک کے مقابلے میں امریکی منصوبے بہت زیادہ رکاوٹوں اور مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک طرف ایسا نہیں کہ امریکہ اور خطے میں ان کی آلہ کار حکومتوں اور قوتوں کیلئے میدان زیادہ ہموار ہو اور اسلامی مزاحمتی بلاک کیلئے محدود ہو۔ دوسری طرف خطے میں امریکہ کو درپیش رکاوٹیں اور ان کی ناکامی کے اسباب بہت زیادہ ہیں۔ ہم ان میں سے صرف دو کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ پہلا مسئلہ "اسلام پسندی" کا ہے۔ پورے خطے میں شیعہ اور اہلسنت عوام کی اکثریت اسلام پسند ہے۔ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے باسی اسلام کی حکمفرمائی چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند سال پہلے خطے میں رونما ہونے والی ان عوامی تحریکوں کے نتیجے میں اسلام پسند عناصر برسراقتدار آئے جنہیں امریکہ اور اس کی حامی قوتیں "عرب اسپرنگ" کا نام دے کر مذہب سے لاتعلق ظاہر کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ جن ممالک میں یہ عوامی تحریکیں کامیاب ہوئیں وہاں بعد میں منعقد ہونے والے انتخابات میں بھی اسلام پسند قوتیں ہی کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ اسی طرح ان ممالک میں جب نیا آئین تشکیل دیا گیا تو اس میں اسلام کو سرکاری مذہب کا درجہ دینے کے ساتھ ساتھ کسی قسم کے غیر اسلامی قانون کی منظوری کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔
 
لہذا امریکہ اپنے منصوبوں کا آگے بڑھانے میں خود اسلامی معاشروں کے اندر بہت بڑی رکاوٹ سے روبرو ہے۔ یہ رکاوٹ شیعہ معاشروں میں زیادہ بڑی ہے۔ امریکہ کسی معاشرے کا تشخص تبدیل کر کے اس پر اپنا اثرورسوخ قائم نہیں کر سکتا۔ خطے میں موجود یہ اسلام پسندی کی لہر ہر چیز پر حاوی ہے اور اسے متاثر کرتی ہے۔ امریکی پالیسیوں کی راہ میں دوسری بڑی رکاوٹ اسلامی مزاحمتی بلاک میں شامل طاقت کے روایتی مراکز ہیں۔ گذشتہ چند عشروں کے دوران امریکہ نے دو بڑے حوزہ علمیہ یعنی قم اور نجف کے درمیان موجود مدیریتی اور فکری اختلافات سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ امریکہ ان دونوں علمی مراکز کے درمیان پائے جانے والے فقہی اختلافات کو سیاسی اور حکومتی شعبوں تک سرایت دے کر عراق میں ایک مذہبی حکومت برسراقتدار آنے سے روکنے کے درپے تھا۔ دوسری طرف امریکہ کو گمان ہے کہ وہ شیعہ معاشرے میں مرجع تقلید بننے کے عمل میں مداخلت کر سکتا ہے اور اپنے پسندیدہ افراد کو اس مقام تک پہنچا کر ایک طرح سے اس "مقدس فضا" کو اپنے کنٹرول میں لا سکتا ہے۔ لہذا ہم امریکہ کی جانب سے مراجع تقلید کے خلاف پروپیگنڈہ مہم کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ بغداد کے تحریر اسکوائر میں چند محدود افراد کی جانب سے "کلا للمرجعیہ الایرانیہ و کلا للمرجعیہ العجمعہ" (ایرانی مرجعیت نامنظور، عجمی مرجعیت نامنظور) کے نعرے سننے کو ملے ہیں۔ یہ نعرہ ایک طرف آیت اللہ العظمی سیستانی کے خلاف ہے جبکہ دوسری طرف شیعہ مرجعیت کو نشانہ بنائے ہوئے ہے کیونکہ پوری شیعہ تاریخ میں جب بھی شیعہ مرجع تقلید کا انتخاب کیا گیا ہے اس میں قومیت کے عنصر پر بالکل توجہ نہیں دی گئی۔
 
امریکہ کو کامیابی کے حصول میں دیگر اہم رکاوٹوں اور مشکلات کا بھی سامنا ہے جن میں ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران، عالم اسلام کے علماء اور اسلامی انقلاب کے نتیجے میں تشکیل پانے والے قانونی ادارے ہیں۔ امریکہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ان رکاوٹوں پر قابو پانے سے قاصر ہے۔ جی ہاں، ایک وہ زمانہ تھا جب امریکی حکام ایران سے ایک عظیم مرجع تقلید کو جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ یا ایران کے دارالحکومت تہران میں اپنے خلاف احتجاج کرنے والے ایرانی طلبہ کا سینہ گولیوں سے چھلنی کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ اسی طرح ایک وہ زمانہ تھا جب وہ تہران میں موجود اپنے سفارتخانے کے ذریعے پورے خطے کی جاسوسی کرتے تھے اور اسے اسلامی انقلاب کے خلاف فتنوں کا مرکز بنا چکے تھے۔ لیکن آج ایسا ممکن نہیں ہے۔ امریکہ آج نہ تو عراق میں مرجعیت کی طاقت پر اپنا کنٹرول قائم کر سکتا ہے اور نہ ہی عراق کے سیاسی نظام کو امریکہ مخالف عراقی جوانوں کے خلاف اقدام پر مجبور کر سکتا ہے اور نہ ہی عراقی حکومت کے اندر سے ایک ایسا ٹولہ خرید سکتا ہے جو ملک میں امریکی پالیسیوں کی راہ ہموار کرنے میں اس کا مددگار ثابت ہو سکے۔
 
خبر کا کوڈ : 826447
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب