0
Sunday 10 Nov 2019 20:37

تاریخ کے مجبور کردار

تاریخ کے مجبور کردار
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، غلطی جس کی بھی تھی، دونوں کے ڈرائیور آپس میں الجھے، ڈرائیور بھی کوئی ان پڑھ نہیں تھے، پڑھے لکھے تھے، دونوں نے ایک دوسرے کو زدوکوب کیا، لوگوں نے آکر چھڑوایا، لیکن پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو مارنے کیلئے اچھل رہے تھے، ایسے واقعات ہم میں سے کون ہے، جس نے نہ دیکھے ہونگے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں بچپن سے یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ اگر کوئی حادثہ ہو جائے تو اس کے بعد فریقِ مخالف کے ساتھ کیسے برتاو کرنا چاہیئے!؟ ہم بحیثیت قوم حادثہ ہو جانے کی صورت میں اتنا صبر نہیں کرسکتے کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کو حل کریں، حادثے صرف سڑکوں پر نہیں ہوتے، بلکہ گھروں، تنظیموں اور پارٹیوں میں بھی ہو جاتے ہیں، اتفاق سے وہ حادثے جو ہمارے گھروں، تنظیموں اور پارٹیوں میں ہوتے ہیں، وہ ٹریفک حادثات سے زیادہ مہلک اور خطرناک ہوتے ہیں، اگر گھروں، تنظیموں اور پارٹیوں کے لوگ غیر متوقع واقعات اور حادثات سے نمٹنا نہ جانتے ہوں تو بعض اوقات کسی کی ایک غلطی سے گھر، تنظیم یا پارٹی کا شیرازہ ہی بکھر جاتا ہے۔

اسی طرح دین کی دنیا میں بھی حادثات رونما ہوتے ہیں، بعض اوقات ایک اچھا خاصا معتبر انسان بھی دین کے اساسی اور بنیادی عقائد کے بارے میں ایسی بات کر جاتا ہے کہ جس سے عوام النّاس گمراہ ہو جاتے ہیں۔ گمراہی کو معاشرہ نہیں روک سکتا، چونکہ ہمارا معاشرہ ابھی تک ہمیں گاڑی کی ٹکر کے بعد جو کرنا چاہیئے، وہ بھی نہیں سکھا سکا، وہ ہمیں عقائد کیا سکھائے گا۔ لوگوں کو گمراہی سے بچانا اور انہیں درست عقائد سمجھانا یہ معاشرے کا نہیں بلکہ خواص یعنی متخصصین کا کام ہے۔ ایک آدمی جس نے علمِ کلام اور عقائد کو تخصص کے ساتھ حاصل نہیں کیا تو یہ واضح ہے کہ وہ عقیدے کی دنیا میں ایک غیر ماہر شخص ہے اور غیر ماہر ہونے کے لحاظ سے ایک نومولود اور ستر سال کے آدمی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ دونوں غیر ماہر ہونے کے اعتبار سے ایک جیسے ہوتے ہیں، بلکہ عقائد کے سلسلے میں بالکل کورے جاہل کی نسبت ایک نیم حکیم زیادہ مضر اور مہلک ہوتا ہے۔

جب ہم عقیدے کے منبر پر کسی غیر متخصص اور غیر ماہر کو بٹھا دیں گے تو وہ   اپنی عدم مہارت کے باعث اپنی محبوب شخصیات کو ایسے بڑھا چڑھا کر پیش کرے گا کہ غلو، شرک اور کفر کا مرتکب ہوگا اور اپنی ناپسندیدہ شخصیات کے بارے میں ایسی گالی گلوچ اور لعن طعن سے کام لے گا کہ دین کے ایک عظیم حکم وحدتِ اسلامی کو ہی پامال کر دے گا۔ ایسا شخص چونکہ مطلوبہ علم میں مہارت نہیں رکھتا، اس لئے وہ غلو اور شرک کی حدوں کو نہیں پہچانتا اور اسی وجہ سے وہ اختلافی ابحاث میں بھی کسی حدود و مرز کی شناخت اور منطقی و کلامی استدلال سے عاری ہوتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اب علوم اس حد تک زیادہ ہوچکے ہیں کہ کسی بھی علم میں متخصص کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی رائے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ اس دور میں قرآن مجید کی یہ آیہ مجیدہ ماضی کی نسبت  کئی گنا زیادہ شدت کے ساتھ ہمیں جھنجوڑ رہی ہے کہ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں۔[1]

البتہ یہ ایک عقلی مسئلہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک باشعور اور عقلمند انسان اپنے دل کے آپریشن کیلئے کسی ان پڑھ یا نیم حکیم کے پاس نہیں جاتا، چونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسا کرنے سے اس کی زندگی ختم ہو جائے گی۔ جسمانی زندگی کے حوالے سے ہمارا معاشرہ اتنا بالغ ہوچکا ہے کہ وہ کسی غیر متخصص یا نیم حکیم سے علاج کروانے کو قبیح سمجھتا ہے، لیکن ابھی تک ہمارا معاشرہ اس بات کو نہیں سمجھا کہ ایک مسلمان کیلئے جسم کی زندگی کی طرح اس کے عقیدے کی زندگی بھی ضروری ہے۔ جس طرح انسان کے دل کے ساتھ اگر کوئی نالائق آدمی چھیڑ چھاڑ  کرے تو اس سے بدن کی موت واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح اگر مسلمان کے عقیدے کے ساتھ کوئی ان پڑھ یا نیم حکیم چھیڑ خانی کرے تو اس سے عقیدے کی موت واقع ہو جاتی ہے، جس سے انسان مشرک اور کافر ہو جاتا ہے۔

آج اسلامی معاشرے میں غلو، کفر، شرک، مقصریت اور ناصبیت کا سکہ چل رہا ہے، اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ منبر پر ان پڑھ اور نیم حکیم حضرات کا غلبہ ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اہلِ زر اپنی ہوا و ہوس کی تسکین کیلئے جید اور ماہر علمائے کرام کو نہیں خرید سکتے بلکہ وہ غیر متخصص اور نیم حکیم افراد کو خرید لیتے ہیں اور جب بِکے ہوئے، نیم حکیم منبر پر بیٹھتے ہیں تو وہ غلو اور شرک کو غلط سمجھتے ہوئے بھی اس کا ظاہری طور پر دفاع کرتے ہیں، چونکہ یہ ان کی مجبوری ہے۔ یہی تو تاریخ کے وہ مجبور کردار ہیں، جن کے بارے میں امیرالمومنین ؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے (زبردستى) اپنا نام عالم ركھ ليا ہے، حالانكہ وہ عالم نہيں ہے، اس نے جاہلوں اور گمراہوں سے جہالتوں اور گمراہيوں كو بٹور ليا ہے، اس نے لوگوں كے لئے مكر و فريب كے پھندے اور غلط سلط باتوں كے جال بچھا ركھے ہيں، قرآن كو اپنى رائے اور حق كو اپنى خواہشوں کے مطابق بیان کرتا ہے۔

یہ بڑے سے بڑے جرائم كا خوف لوگوں كے دلوں سے نكال ديتا ہے اور كبيرہ گناہوں كى اہميت كو كم كرتا ہے۔ كہتا تو يہ ہے كہ ميں شبہات ميں توقف كرتا ہوں، حالانكہ انہيں ميں پڑا ہوا ہے۔ اس كا کہنا يہ ہے كہ ميں بدعتوں سے الگ تھلگ رہتا ہوں، حالانكہ انہى ميں اس كا اٹھنا بيٹھنا ہے۔ صورت تو اس كى انسانوں كى سى ہے اور دل حيوانوں كا سا۔ نہ اسے ہدايت كا دروازہ معلوم ہے كہ وہاں تک آسكے اور نہ گمراہى كا دروازہ پہچانتا ہے كہ اس سے اپنا رخ موڑ سكے۔ يہ تو زندوں ميں (چلتى پھرتى) لاش ہے۔[2]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] هَلْ یسْتَوی الذینَ یعْلَمُونَ والذینَ لَا یعْلَمُونَ۔زمر ۹
[2] نهج البلاغه، خطبه نمبر ۸۵ ، ص:۲۲۱
خبر کا کوڈ : 826665
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب