0
Monday 11 Nov 2019 11:05

انصار اللہ یمن کے سربراہ کا انتباہ

انصار اللہ یمن کے سربراہ کا انتباہ
اداریہ
یمن میں رضاکار انقلابی و عوامی جماعت انصاراللہ کی مقبولیت میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی ایک علامت یمن کے دارالحکومت صنعاء میں انصاراللہ کی دعوت پر ہونے والے عظیم الشان اجتماع ہیں۔ انصاراللہ کی ایک کال پر لاکھوں یمنی سعودی اتحاد کی شدید ترین بمباری اور حملوں کے باوجود کھلے آسمان تلے جمع ہو کر انصاراللہ سے اپنی وفاداری ثابت کرتے ہیں۔ ان مظاہروں میں جہاں انصاراللہ کی حمایت کا اعلان کیا جاتا ہے، وہاں امریکہ اور اسرائیل کیخلاف فلک شگاف نعرے بھی بلند ہوتے ہیں۔ دنیا میں جمہوریت اور عوامی رائے کے احترام کا دعویٰ کرنے والے ممالک اور ادارے اگر جانبداری اور سعودی عرب کے پیٹروڈالر کو پس پشت ڈال کر یمنی عوام کے انصاراللہ کی حمایت میں بلند ہونیوالے نعرے سنیں، تو وہ "میثاقِ ریاض" اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جھوٹے دعوؤں پر کبھی یقین نہ کریں۔

انصار اللہ کے سربراہ عبدالمالک حوثی نے نو نومبر عید میلاد النبیؑ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مناسبت سے ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب میں ایک نئے نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے، جس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی اقتصادی پستی اور کمینگی مزید کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ عرب قوم پرستی کا دعویٰ کرنے والے اور اپنے آپ کو عربوں کا سب سے بڑا ہمدرد ظاہر کرنے والا سعودی عرب ایک طرف عربوں میں سب سے غریب ملک یمن کو اپنے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے، تو دوسری طرف یمن کے تیل پر بھی بری طرح ہاتھ صاف کر رہا ہے۔ انصار اللہ کے سربراہ عبدالمالک حوثی نے عید میلاد کی مناسبت سے اپنی تقریر میں سعودی عرب کے ہاتھوں یمن کے تیل کے ذخائر کی لوٹ مار کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے، یمن کی جنگ کے آغاز سے اب تک ایک سو بیس ملین بیرل سے زائد تیل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے زیرقبضہ علاقوں سے لوٹ کر باہر لے جایا گیا ہے۔

یمن تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار نہیں ہوتا، لیکن خود امریکہ کے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق یمن کے رجسٹرڈ ذخائر تقریباً تین ارب بیرل ہیں اور 2015ء تک یعنی یمن پر سعودی جارحیت سے پہلے یمن تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار بیرل روزانہ کی اوسط سے تیل پیدا کرتا تھا۔ 2015ء سے لیکر اب تک تیل کی یہ آمدنی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جیب میں گئی ہے۔ یمن کے وزیر پیٹرولیم احمد داس کا کہنا ہے کہ صرف گذشتہ سال اٹھارہ ملین سے زائد بیرل تیل جارح اتحاد کے ممالک نے لوٹا ہے اور اس کی آمدنی سعودی عرب کے سنٹرل بینک میں ڈالی گئی۔ انصار اللہ تحریک کے سربراہ کا یہ انکشاف اس پہلو کو مزید اجاگر کرتا ہے کہ سعودی عرب یمن کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے اور اس ملک کے انفراسٹرکچر کو بھی مکمل طور پر تباہ کرنے کا خواہاں ہے۔ اہل یمن کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ آلِ سعود کی ڈکٹیشن ماننے کو تیار نہیں۔ سعودی عرب اور ان جیسے مسلمانوں کو دیکھ کر علامہ اقبال نے کہا تھا؎
وضع میں تم نصاریٰ ہو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
خبر کا کوڈ : 826716
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے