0
Monday 11 Nov 2019 21:49

ریاست مدینہ کیا ہے؟

ریاست مدینہ کیا ہے؟
تحریر: سید اسد عباس

عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بننے کے پہلے روز سے ہی پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز کی ایک ریاست بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ ابھی کل ہی رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روز ولادت کی مناسبت سے عمران خان نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ ’’ہمارے رسول محترم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قانون کی بالادستی، انسانی حقوق، رحم، قابلیت و اہلیت جیسے اوصاف سے مزین تحصیل علم کو مقدس فریضے کے طور پر اپنانے والی جدید ’’ریاست مدینہ‘‘ کی بنیاد ڈالی، جو بھی ریاست یہ راہنما اصول اپنائے گی، یقیناً عروج پائے گی۔‘‘ ایک اور ٹوئیٹر پیغام میں عمران خان نے لکھا: ’’ہمارے رسول پاک (ص) رہتی دنیا تک کے لیے عظیم المرتبت انسان اور ہم سب کے لیے مینارہ نور ہیں۔ جو بھی ان کے نقش پا کی پیروی کرے گا، مراد پا جائے گا اور وہ تمام زنجیریں ٹوٹ گریں گی، جو اسے پست رکھتی ہیں اور رب العزت کی جانب سے عطا کردہ صلاحیتیں بروئے کار لانے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔‘‘

اسے حسن اتفاق کہیئے یا فہم کی یکسانیت کہ قائد اعظم محمد علی جناح بھی پاکستان سے متعلق ویسے ہی تصورات رکھتے تھے، جو عمران خان کے ریاست مدینہ کے حوالے سے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے 25 مارچ 1948ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "نبی کریم ایک عظیم استاد تھے۔ وہ ایک عظیم قانون دہندہ تھے۔ وہ ایک عظیم سیاستدان اور حریت پسند تھے، جنہوں نے حکومت کی۔ مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ہم اپنی تقاریر میں اسلام کا ذکر کریں۔ اسلام! فقط رسوم و روایات اور روحانی اعمال کا ہی مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ ہر مسلمان کے لیے ضابطہ ہے، جو اس کی زندگی، سیاست حتیٰ معیشت کے اسالیب کو وضع کرتا ہے۔ اسلام کے قوانین تمام لوگوں کے لیے احترام، سالمیت اور انصاف پر مبنی ہیں۔ ایک خدا پر ایمان اور مساوات اسلام کے بنیادی قوانین ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں افراد کے مابین کوئی تفریق نہیں۔" اسی طرح فروری 1948ء میں امریکی عوام سے ریڈیو پر خطاب کرتے ہوئے آپ نے کہا، "اسلام کے قوانین آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں، جیسا کہ وہ تیرہ سو سال قبل تھے۔"

ہمارے معاشرے کی مشکل یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ریاست مدینہ کا تصور جدا جدا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی جماعتیں عمران خان کے پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر چلانے کے اعلان کو ہمیشہ آڑے ہاتھوں ہی لیتی ہیں۔ ان کے ہر اقدام پر ریاست مدینہ کا ہی طعنہ دیا جاتا ہے۔ عمران خان نے اپنے ایک بیان میں اگرچہ وضاحت بھی کی ہے کہ ریاست مدینہ کا قیام ایک دن میں ممکن نہیں ہے، ہم اس ریاست کو ریاست مدینہ کی ڈگر پر ڈالنے کی کوشش کریں گے، تاہم مذہبی طبقات کی ایک ہی رٹ ہے کہ ریاست مدینہ میں یہ تو نہیں ہوتا، ریاست مدینہ میں وہ نہیں ہوتا۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر پاکستان کے مسلمانوں کے کندھوں پر ریاست مدینہ کی تشکیل کی ذمہ داری ڈالی جائے تو اس کا نظارہ کیسا ہوگا۔ پاکستان میں بسنے والے مختلف طبقات ان کے عقائد و نظریات اور ان عقائد میں پائی جانے والی شدت کو مدنظر رکھا جائے تو ہمیں ریاست مدینہ میں پہلی جنگ امامت و خلافت کا نظام نافذ کرنے پر ہوتی نظر آئے گی، اس کے بعد اگلا مرحلہ حدیث کے اصولوں پر جنگ کا ہوگا، پھر فقہ کے اطلاق پر بھی ایک یدھ دیکھنے کو ملے گا۔ ایک وقت آئے گا کہ یہاں گلی کوچوں میں ریاست کے باغیوں کے سر لٹک رہے ہوں گے اور پھر نہ جانے کیا کیا۔۔۔

بجائے اس کے کہ آپ ریاست مدینہ کی تشکیل کے حوالے سے معاشرے میں ایک یکجہتی اور ہم آہنگی کو جنم دیں اور تمام تصورات سے ایک مشترکہ تصور کو سامنے لا کر عمران خان کی راہنمائی کریں، ہم پہلے مرحلے میں ہی عمران کے اس اعلان کو ہی پڑ گئے کہ تم کیسے پاکستان کو ریاست مدینہ بنا سکتے ہو۔ کوئی ہم سے سوال کرے کہ گذشتہ بہتر برسوں میں آپ پاکستان کو کس نہج پر لے جانا چاہ رہے تھے۔؟ اب جبکہ ایک شخص خود اس ڈگر پر جانے کا کہہ رہا ہے تو آپ کو پریشانی لاحق ہوگئی ہے، کوئی کہتا ہے کہ عمران ایک یہودی ایجنٹ ہے، کوئی کہتا ہے کہ اس کے قادیانی کمیونٹی سے روابط ہیں، کوئی اس کو قانون ناموس رسالت کا مخالف قرار دے رہا ہے۔

ہم نے کب تک مذہب کے کارڈ کو اپنی سیاست اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا ہے۔ قائد اعظم اور عمران خان کے تصور ریاست مدینہ کو پرکھیں تو سہی، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق، رحمدلی، قابلیت و اہلیت، بھائی چارہ، احترام انسانیت، سالمیت، انصاف، مساوات، کرپشن اور اقربا پروری کا خاتمہ اور رواداری نیز مذہبی آزادی کے علاوہ ریاست مدینہ بھلا کیا ہے؟ پاکستان انہی اصولوں اور بنیادوں پر تشکیل پایا تھا، لیکن گذشتہ بہتر برسوں میں ان تمام اصولوں کی موجودگی میں بھی ہم اپنی ریاست کو ریاست مدینہ کی ڈگر پر نہ ڈال سکے، جس کی بنیادی وجہ ان اصولوں کا زبان سے اعلان تو تھا، تاہم کردار و عمل میں ان کا ناپید ہونا تھا۔ وہ اقوام جو ان اصولوں پر عمل پیرا ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہے، کی پشرفت اور ترقی ہم سب کے سامنے ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی اب زبانی جمع خرچ سے توبہ تائب ہوں اور پاک نبی کی چودہ سو برس قبل سکھائی ہوئی تعلیمات کو عملاً اپنے اوپر نافذ کریں، تاکہ حقیقی معنوں میں ریاست مدینہ تشکیل دے کر دنیا کے لیے ایک مثال بن سکیں۔ یہ کام فقط ریاست کے کرنے کا نہیں بلکہ ہر فرد کو ملت کا ستارہ بننا ہوگا۔
 
خبر کا کوڈ : 826867
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے