1
Monday 11 Nov 2019 23:26

آل سعود عالمی سطح پر دہشتگردی کی حامی رژیم

آل سعود عالمی سطح پر دہشتگردی کی حامی رژیم
تحریر: رامین حسین آبادیان

ایک عرصے سے سعودی حکام مختلف مواقع پر بیانات میں خود کو خطے میں امن کا حامی ظاہر کرتے ہیں اور یوں انسانی حقوق کا مدافع ہونے کا بھی دعویٰ کرتے ہیں۔ دوسری طرف وہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک پر خطے میں بدامنی اور دہشت گردی پھیلانے کا الزام بھی عائد کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے اس اقدام کا مقصد دنیا کے مختلف مقامات پر اپنی مجرمانہ سرگرمیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔ آج دنیا میں کم ہی ایسے افراد ہوں گے، جو خطے میں انجام پانے والی دہشت گردی، شدت پسندی، وہابیت کے فروغ اور قتل و غارت میں سعودی حکام کے ملوث ہونے میں شک و تردید کا شکار ہوں۔ یہاں ہم ثبوت کے طور پر چند موارد ذکر کرتے ہیں:

1)۔ داعش اور القاعدہ کی حمایت
اس وقت سعودی حکومت یمن، عراق، شام، فلسطین اور حتیٰ لبنان میں قتل و غارت میں ملوث پائی جاتی ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں آل سعود رژیم کی جانب سے خطے میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی حمایت سعودی حکومت کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ایک سیاہ باب ہے۔ خطے خاص طور پر عراق اور شام میں سعودی حکمرانوں کی جانب سے داعش کی حمایت کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں عام شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اسی طرح دہشت گرد گروہ القاعدہ کی حمایت بھی سعودی حکومت کے کالے کرتوتوں میں لکھی جا چکی ہے۔ 26 اکتوبر 2016ء کے دن واشنگٹن میں قطر کے سفارت خانے سے کچھ دستاویزات منظر عام پر آئیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے ولیعہد محمد بن زاید نے یمن میں القاعدہ اور داعش کے کمانڈرز کی حمایت کی ہے۔ ان دستاویزات کے مطابق یہ دونوں شہزادے القاعدہ کے مرکزی کمانڈرز علی ابکر الحسن اور عبداللہ فیصل الاھدل سے مسلسل رابطے میں تھے۔

2)۔ اسرائیل کی ریاستی دہشتگردی کی بھرپور حمایت
آل سعود رژیم گذشتہ ایک عشرے کے دوران اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی بے چون و چرا حمایت کرتی آئی ہے۔ دوسری طرف غاصب صہیونی رژیم بھی اس حمایت کی آڑ میں ریاستی دہشت گردی کرتا آیا ہے۔ دیگر عرب ممالک کی نسبت سعودی حکومت نے بہت تیزی سے اسرائیل سے تعلقات استوار کئے ہیں۔ مزید برآں، سعودی حکمران دیگر اسلامی ممالک کو بھی اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات پر ابھارنے میں مصروف ہیں۔ اب تک اسرائیلی حکام کئی بار اپنی حمایت اور مدد کرنے پر سعودی حکمرانوں کا شکریہ بھی ادا کرچکے ہیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک تقریر کے دوران کہا: "اسرائیل کم از کم 6 عرب ممالک سے تعلقات استوار کئے ہوئے ہے اور ان سے دوستانہ تعلقات قدم با قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔" اس کے علاوہ اسرائیلی حکمرانوں سے سعودی حکمرانوں کی متعدد خفیہ ملاقاتیں بھی اس ریاستی دہشت گرد حکومت کے ساتھ آل سعود رژیم کے تعاون اور ہمراہی کو ظاہر کرتی ہیں۔

3)۔ یمن کیخلاف دہشتگردانہ اتحاد کی تشکیل
خطے اور دنیا میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے فروغ میں آل سعود رژیم کا ایک اور کالا کرتوت یمن کے بے آسرا اور بیگناہ عوام کے خلاف دہشت گردانہ اتحاد تشکیل دینا ہے۔ 2015ء میں سعودی عرب نے 17 ممالک کی مدد سے یمن کے خلاف غیر قانونی اور ظالمانہ جارحیت کی خاطر اتحاد تشکیل دیا۔ اس دن سے لے کر آج تک سعودی حکمران دسیوں ہزار یمنی شہریوں کو شہید کرچکے ہیں، جبکہ ہزاروں دیگر شہری زخمی اور بے گھر ہوچکے ہیں۔ ایک دہشت گردانہ اتحاد کی شکل میں یمن کے خلاف شروع ہونے والی سعودی جارحیت نے اس غریب ترین عرب ملک کا انفرااسٹرکچر تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ سعودی اتحاد کی جانب سے یمن پر انجام پانے والے فضائی حملوں میں واضح ترین انسانی اور اخلاقی اقدار پامال کی گئی ہیں اور اسپتالوں اور اسکولوں تک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان ظالمانہ حملوں کے نتیجے میں یمن کے 80 فیصد اسپتال عوام کی خدمت کرنے سے محروم ہیں۔

4)۔ صدام دور کی بعث پارٹی کی باقیات کی حمایت
امریکہ کی جانب سے عراق پر فوجی چڑھائی کے بعد عراق آرمی کو توڑ دیا گیا، جس کے نتیجے میں صدام دور کی بعث پارٹی سے وابستہ ایک بڑی تعداد نے دہشت گرد گروہوں کا رخ کیا۔ بعد میں عراق اور شام میں سامنے آنے والا تکفیری دہشت گرد گروہ داعش بہت حد تک انہی عناصر پر مشتمل تھا۔ سعودی حکومت نے عوام کی منتخب عراقی حکومتوں کے خلاف بعث پارٹی کی اس باقیات کی بھرپور حمایت اور مدد کی ہے۔ میڈیا ذرائع کے بقول اردن میں سعودی عرب کے سفیر خالد بن فیصل آل سعود نے صدام حسین کی بیٹی رغد صدام سے ملاقات کی اور عراق میں جاری عوامی مظاہروں کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ اسی طرح یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اردن میں سعودی سفیر نے رغد صدام کو ایک دعوت نامہ بھی دیا، تاکہ وہ ریاض میں عراق سے متعلق منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں شرکت کرسکے۔
خبر کا کوڈ : 826871
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب