0
Tuesday 12 Nov 2019 16:47

رواداری کی روشنی میں دھندلاتا کشمیر

رواداری کی روشنی میں دھندلاتا کشمیر
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

پوری دنیا میں پاکستان کو مذہبی شدت پسندی اور عدم رواداری کی مثال بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، دوسری جانب بھارت سیکولرازم کا ڈھونگ رچا کر مسلمانوں سمیت تمام اقلیتیوں پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ لیکن بابا گورونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور کا راستہ کھول کر سکھوں کے لیے مسرت اور خوشی کا سامان بہم پہنچایا تو دوسری جانب بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس میں تعصب اور تنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کرنے اور مرکزی حکومت کو مندر تعمیر کرنے کا حکم دے کر بھارت کے سیکولر آئین کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ چند دہائیاں قبل پورے بھارت سے انتہاء پسند ہندو ایودھیا میں جمع ہوئے اور ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں انھوں نے 16ویں صدی کی تاریخی بابری مسجد کو شہید کر دیا، جس کے خلاف نہ صرف ہندوستان بلکہ پاکستان میں بھی مسلمانوں نے بھرپور احتجاج کیا۔

ہندوستان کے مسلمانوں نے انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، مگر اب بھارتی سپریم کورٹ نے بظاہر انصاف پر مبنی مگر حقیقتاً تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخی بابری مسجد کی متنازعہ زمین ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل 5 ایکڑ زمین دی جائے گی۔ ہندو انتہا پسندوں نے 6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد شہید کی تھی، ان کا دعویٰ ہے کہ مسجد کی تعمیر سے پہلے یہاں ایک مندر تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ خطے میں امن و استحکام، مذہبی رواداری اور انسان دوستی کا پیغام اپنے سفر کی نئی شاندار روایتوں کے تناظر میں کرتار پور راہداری کا بہترین استعارہ ہے۔ وزیراعظم کا اس موقع کی مناسبت سے یہ کہنا صائب ہے کہ آج کا دن خطے کے امن کے لیے ہماری کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کرتار پور راہداری کی تکمیل ایک کمٹمنٹ تھی اور اسے متعدد مشکلات کے باوجود مکمل کیا گیا، یہ سکھ برادری سے کیا گیا وعدہ تھا، جس کی تکمیل کی گئی۔

دو ایٹمی طاقتوں اور کشمیر جیسے فلیش پوائنٹ کے حامل خطے کی سیاسی، تاریخی اور مذہبی ڈائنامکس کو دیکھتے ہوئے ماہرین قانون، تجزیہ کاروں اور سیاسی اکابرین نے بابری مسجد کے کیس کے فیصلہ اور کرتار پور راہداری کی پہلے سے طے شدہ افتتاحی تقریب کے دن کے حسن اتفاق کو بھارتی حکومت کی ایک طے شدہ بدنیتی قرار دیا اور یہ حقیقت بھی ہے کہ جس دن پاکستان نے سکھ برادری کو راہداری دینا تھی، بھارتی مذموم عزائم اس روز بھی چھپے نہ رہ سکے۔ پاکستان کے دشمن روایتی ہیں، لیکن زمانہ بدلنے کیساتھ ان کے ہتھکنڈے بھی نئے روپ دھار رہے ہیں، دنیا کی واحد اسلامی طاقت کو ہائبرڈ وار کا سامنا ہے۔ اس کا جواب پاکستان نے کرتار پور راہداری کا دروازہ کھول کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس تاریخ ساز تقریب کا افتتاح کیا، بابا گورونانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر کرتار پور راہداری کی تعمیر و تکمیل کے شاندار کارنامے پر دنیا بھر میں سکھ مذہب سے وابستہ یاتریوں نے بے پناہ اظہار مسرت کیا ہے۔

پاکستان کی نسبت بھارت میں کئی گنا زیادہ آبادی رکھنے والے سکھ یاتریوں کی افتتاحی تقریب میں آمد کا منظر یادگار بتایا گیا۔ وزیراعظم نے تقریب کے مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہل پاکستان کے دل دیگر مذاہب کے لیے کھلے ہیں، پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول کر امن کے راستے بھی کھول دیئے ہیں۔ افتتاحی تقریب گوردوارے کے احاطے میں منعقد ہوئی، جس میں بھارت کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، بھارتی پنجاب کے سابق کرکٹر اور سابق سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو، فلمسٹار سنی دیول سمیت وفاقی و صوبائی وزراء، ممتاز سکھ مذہبی شخصیات اور بڑی تعداد میں سکھ یاتریوں نے شرکت کی۔ جس سے بھارت سمیت دنیا بھر میں پاکستان کیخلاف ہونیوالے پروپیگنڈہ کا بہترین جواب دیا گیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو پورا برصغیر ترقی کے لحاظ سے بہت آگے جا سکتا ہے۔

اس کامیاب تقریب میں آئے ہوئے سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راہداری کھولنے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئے گی۔ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے کہا کہ امید ہے راہداری کھلنے سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے۔ اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان نے اسلامی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرتار پور کا راستہ کھول کر اور سکھوں کو اپنی مذہبی عبادات کے لیے جو سہولتیں فراہم کی ہیں، اس پر پوری سکھ برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اب روزانہ 5 ہزار سکھ یاتری بغیر ویزے کے کرتار پور گردوارہ کی یاترا اور وہاں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے آسکیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے، یہ تنازع حل ہونے سے ہی پورا برصغیر ترقی کے راستے میں گامزن ہوسکتا ہے۔

دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں انسانوں سے جانوروں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، 9 لاکھ بھارتی فوجیوں نے 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، مودی کے لیے یہ پیغام ہے کہ انصاف سے امن اور ناانصافی سے انتشار پھیلتا ہے۔ ایک جانب بھارتی حکومت نے تنگ دلی اور تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے، اس کے اس ظالمانہ فعل سے پوری وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ وہ اپنے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی آزادی کی تحریک کو دبانے اور اس جنت نظیر وادی کو ہمیشہ کے لیے اپنا حصہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ مگر مقبوضہ وادی کے کشمیریوں نے لاکھوں جانیں دے کر بھی یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی طور آزادی کے حق سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں اور بھارت کا کوئی بھی ظالمانہ اور پرتشدد فعل انہیں اس حق سے محروم نہیں کرسکتا اور وہ بہرصورت اپنے اس حق کو لے کر رہیں گے۔

دوسری جانب پاکستان کا اقلیتوں کے ساتھ رویہ یہ ہے کہ پاکستان میں چار سو مندروں کی نشاندہی کر دی گئی ہے، جن کی تزئین نو کی جائے گی۔ بھارتی حکومت اور سپریم کورٹ کو اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیئے کہ انصاف، رواداری اور امن سے ملکوں کو استحکام ملتا ہے، جبکہ ان عناصر کے انکار سے نفرت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بھارت کا مذہبی تعصب خطے کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ پاکستان میں خارجہ پالیسی اور بالخصوص پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے سب سے زیادہ موثر کردار فوج کا ہے، اس لیے یہ کہنا بے جا ہے کہ حکومت نے کشمیری مسلمانوں کی صورت حال سے پہلو تہی کا ثبوت دیا ہے، کرتار پور راہداری کھولے جانے میں جہاں حکومت کا کردار ہے، وہیں آرمی چیف کے سدھو کیساتھ کیے گئے وعدے کا بھی پورا عمل دخل ہے۔ بھارتی یاتریوں سے خطاب میں وزیر خارجہ اور وزیراعظم نے جس اچھے انداز میں کشمیر کا ذکر کیا ہے، یہ ایک اچھی سفارتی موو ہے۔ پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اپنی جگہ وزن رکھتے ہیں، لیکن کشمیر کی آزادی اور مسلمانوں کو بھارتی مظالم کے عذاب سے چھٹکارا دلوانے کیلئے سنیجدہ فیصلوں اور زیادہ موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 826967
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے