0
Tuesday 12 Nov 2019 20:33

کراچی کے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنیوالے ادارے کے پاس صرف دو ہی ماہرین دستیاب

کراچی کے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنیوالے ادارے کے پاس صرف دو ہی ماہرین دستیاب
رپورٹ: ایس ایم عابدی

ایک طرف کراچی کی آبادی میں روز بروز اضافہ کے باعث شہر بے ہنگم عمارتوں کا جنگل بنتا جا رہا ہے تو دوسری طرف شہریوں کو بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں، مگر اس کے باوجود شہر کے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے بنائے گئے ادارے کے پاس صرف دو ہی ماہرین دستیاب ہیں۔ ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ، پلاننگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ڈیمارٹمنٹ اور ڈیزائن بیورو پر مشتمل ماسٹر پلان گروپ کی ذمہ داری ہے کہ کراچی کو کس طرح آگے بڑھایا جائے اور یہاں کے لوگوں کو ہاسنگ اسکیمز، کمرشل سینٹرز اور تعلیمی اداروں سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے منصوبہ بندی کرے۔ ماسٹر پلان گروپ کے 150 ملازمین میں شامل ٹاؤن پلانرز، ریجن پلانرز اور انجنیئرز کو کراچی کی منصوبہ بندی پر مامور کیا گیا ہے، مگر حیرت انگیز طور پر 150 میں سے صرف 2 ملازمین ہی اپنے شعبے کے ڈگری ہولڈرز ہیں، جن میں سینیئر ڈائریکٹر اور آرکٹیک محمد ولایت اور گریڈ 19 کے ٹاؤن پلانر محمد اختر شامل ہیں۔

ان کے علاوہ ماسٹر پلان گروپ کے 148 ملازمین وہ ہیں، جو 80ء اور 90ء کی دہائی میں چھوٹی پوسٹوں جیسے کہ کلرک، ہیلپر اور اسٹینو ٹائپسٹ کے طور پر بھرتی ہوئے اور اب ترقی کرکے ڈپٹی ڈائریکٹرز، اسسٹنٹ ٹیکنیکل ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ریسرچ آفیسرز بن گئے ہیں۔ حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ایک سینیئر ڈائریکٹر کے مطابق ماسٹر پلان گروپ میں شامل تمام اداروں کے ملازمین نان ٹیکنکل ہیں اور ان میں شہر کی منصوبہ بندی کی صلاحیت موجود ہی نہیں، وہ صرف معمول کا دفتری کام کرتے ہیں، ان کو شہر کے لئے منصوبہ بندی کرنے کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی بغیر کسی منصوبہ بندی کے پھیلتا جا رہا ہے، ایسے وقت میں شہر کو ٹاؤن پلانرز اور ماہرین کی اشد ضرورت ہے، ورنہ کراچی برباد ہو جائے گا۔ ریٹائرڈ ڈائریکٹر نے کہا کہ جب افتخار قائم خانی ماسٹر پلان گروپ کے سربراہ تھے تو ہم دونوں نے ماہرین کی تعیناتی کیلئے سندھ حکومت کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا اور 2017ء سے اب تک متعدد خطوط لکھے، مگر سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔

اربن پلانر عارف حسین نے بتایا کہ ماسٹر پلاننگ ڈیپارٹمنٹ ایک اچھا ادارہ تھا، جس نے کراچی کی بہت خدمت کی، مگر بعد ازاں سیاسی بھرتیوں نے ادارے کا بیڑہ غرق کر دیا۔ عارف حسین کے مطابق ماسٹر پلان گروپ کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ صرف اس کے ساتھ نہیں بلکہ سندھ گورنمنٹ کے ماتحت دوسرے اداروں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ سندھ حکومت نے 2011ء میں ماسٹر پلان گروپ کو کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے کنٹرول سے نکال کر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ماتحت کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے متعدد ایماندار افسروں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ کراچی ڈیولپمنٹ کے لیبر یونین کے سربراہ محمد اشرف نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ماسٹر پلان گروپ کے ملازمین کے پاس ٹاؤن پلاننگ کی تعلیم ہی نہیں ہے۔ محمد اشرف نے ماسٹر پلان گروپ کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ماتحت کرنے کے اقدام کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ایک افسر نے بتایا کہ وہ اپنے باس کو ناں نہیں کرسکتے، ان کے باس سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سربراہ ہیں اور اس کے ساتھ ہی ماسٹر پلان گروپ کی سربراہی بھی باس کے پاس ہی ہے۔ افسر نے بتایا کہ ماسٹر پلان گروپ کو علیحدہ ادارے کے طور پر کام کرنا چاہیئے، کیونکہ اس ادارے نے کراچی کی مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی ہے اور اس کا سربراہ کوئی اور ہوگا تو ہم اس کے ساتھ مختلف ایشوز پر بحث کرسکیں گے۔ محکمہ بلدیات کے سیکرٹری روشن علی شیخ کے مطابق سندھ حکومت صورتحال سے اچھی طرح واقف ہے اور اس کو جلد ٹھیک کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ماہرین کے مشورے پر الگ سے ماسٹر پلان اتھارٹی بنانے پر سوچنا شروع کر دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 827005
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب