0
Wednesday 13 Nov 2019 11:23

عراق اور امریکی ڈکٹیشن

عراق اور امریکی ڈکٹیشن
اداریہ
عراق میں اکتوبر کے اوائل میں عوامی مظاہرے شروع ہوئے، لیکن اربعین حسینیؑ کی وجہ سے عارضی طور پر رک گئے۔ تاہم اربعینِ حسینیؑ کے فوراَ بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوا، جو کم و بیش ابھی تک جاری ہے۔ عام مظاہرین بدعنوانی، بے روزگاری اور بری حکمرانی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور خاص مظاہرین ان مظاہروں کو پرتشدد بنا کر اپنا الو سیدھا کرنے میں مصروف ہیں۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق کئی عراقی شہری جاں بحق اور عراق کی اقتصاد کو کروڑوں ڈالر کا خسارہ ہوچکا ہے۔ مظاہرین میں پایا جانے والا غم و غصہ اپنی جگہ پر صحیح تھا، لیکن اس میں شامل ہونے والے جلاؤ گھیراؤ کرنیوالے عناصر دور رس اہداف کے خواہاں تھے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا یہ کہنا تھا کہ عراق و لبنان کے پرتشدد مظاہروں میں بیرونی ہاتھ ہے اور یہ بیرونی ہاتھ امریکہ کے علاوہ کسی اور کا نہیں۔ وقت گزرنے کیساتھ اور مظاہروں کی دھول بیٹھنے کے بعد منظرنامہ واضح و شفاف ہونا شروع ہوگیا ہے۔

دو دن پہلے امریکی انتظامیہ نے ان مظاہروں میں اپنے وجود کا احساس دلاتے ہوئے تاکید کی ہے کہ عراق میں نئے انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے۔ امریکہ کا یہ بیان ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ عراق میں انتخابات کے انعقاد کے دو سال بھی پورے نہیں ہوئے ہیں۔ امریکہ کے اس بیان پر عراقی قیادت اور سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں کا ردعمل فطری تھا۔ عراقی صدر نے تو بڑے واضح الفاظ میں یہ کہا ہے کہ امریکہ کی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے۔ عراقی صدر کے بیان میں عراق کے اندرونی معاملات میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عراق کے عوام قومی مفادات کی ترجیحات کے مطابق مرجعیت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ملکی آئین کے مطابق آزادانہ فیصلہ کریں گے۔ مرجع عالی قدر آیت اللہ سیستانی نے بھی عراق کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے تمام بیرونی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ عراق کے اقتدار اعلیٰ کا احترام اور اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔

مقتدٰی صدر نے حسبِ توقع بڑا زور دار بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نے ہمارے اندرونی معاملات میں دوبارہ مداخلت کی کوشش کی تو اسکے خلاف ملین مارچ شروع کیا جائے گا۔ اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ امریکہ ماضی کیطرح اب بھی اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا چوہدری سمجھتا ہے، وہ ہر ملک بالخصوص ان ممالک میں جہاں اس کے خلاف عوامی مخالفت زور پکڑ رہی ہو، پینترے بدل بدل کر مداخلت کا مرتکب ہوتا ہے۔ حکومتیں گرانا، اپنی مرضی کے حکمران لانا، عوام کو سڑکوں پر لا کر پرتشدد مظاہرے کروانا اور ملکوں کے اقتدارِ اعلیٰ کو چیلنج کرکے افراتفری کی صورتحال پیدا کرنا امریکہ کا وطیرہ ہے۔ امریکہ عراق کی طرح یہی عمل لبنان سمیت بعض دیگر ممالک میں بھی انجام دے رہا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کے عوام و خواص میں شعوری بیداری پیدا ہو رہی ہے اور وہ آسانی سے امریکہ کی سازشوں میں نہیں آئیں گے۔ شاید اسی تناظر میں عراقی صدر نے بھی برملا کہا ہے کہ عراقی امریکہ کی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 827082
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب