0
Wednesday 13 Nov 2019 14:05

مہنگائی میں اضافہ اور حکومت کی ذمہ داریاں

مہنگائی میں اضافہ اور حکومت کی ذمہ داریاں
تحریر: طاہر یاسین طاہر

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھائو معمول کا معاملہ ہے۔ لیکن یہ معمول کا معاملہ جب "مسئلہ" بن جائے تو اس کے محرکات ہوتے ہیں، اس کے پیچھے ذخیرہ اندوزوں کی ہوس ہوتی ہے، حکومتوں کی نااہلی بھی بلاشبہ اس عوام دشمن اقدام کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ معاشی ماہرین تو معاملات کو اعداد و شمار کے ذریعے دیکھتے ہیں اور لفظوں کے گورکھ دھندے میں سماج کو الجھنا دیتے ہیں، مگر جو چیز سامنے اور نظر آرہی ہوتی ہے، اسے کسی معاشی اشاریئے سے ثابت یا رد کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ سبزیوں کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ اس کی ذمہ دار حکومت ہے، جس نے رسد اور طلب جیسی معاشی اصطلاح کو نظر انداز کیا اور قبل از وقت اقدامات نہیں اٹھائے۔ کیا صرف ٹماٹر اور مٹر، گوبھی اور دیگر سبزیاں ہی مہنگی ہوئی ہیں یا اشیائے ضروریہ کی دیگر اشیا بھی مہنگی ہوئی ہیں؟ بالکل اشیائے ضروریہ کی تمام اشیا مہنگی ہوئی ہیں۔ ماہرین اس مہنگائی کو ڈالر کی اڑان اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ منسلک کرتے ہیں۔ معاشیات کے ماہرین اپنے علمی قد و قامت سے درست ہی کہہ رہے ہیں۔ لیکن ہم نے جس چیز کا جائزہ لینا ہے وہ حکومتی ذمہ داریاں ہیں۔

کوئی بھی حکومت اسی وقت تک عوام الناس میں مقبول رہ سکتی ہے، جب تک عام آدمی کی زندگی میں سہولت لانے کے لیے وہ حکومت عملی اقدامات اٹھاتی رہتی ہے۔ موجودہ حکومت کو جہاں کئی مسائل یکمشت درپیش ہیں، وہاں اہم ترین عوامی مسئلہ "ٹماٹر" کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ بھی ہے۔ قاف لیگ، یعنی سابق آمر جنرل مشرف کے دور میں چینی کی مصنوعی قلت پیدا کر دی گئی تھی، اس وقت عدالتی مداخلت پر اور جنرل مشرف کی ذاتی دلچسپی سے یہ معاملہ قابو کیا گیا تھا، لیکن چینی کی مصنوعی قلت ختم ہونے تک ذخیرہ اندوز عوام کی جیبوں سے کم و بیش دو ماہ میں دو سو ارب سے زائد منافع حاصل کرچکے تھے۔

یاد دہانی کے طور پر لکھا جا رہا ہے کہ شوگر کے بڑے تاجر جہانگیر ترین اس وقت مشرف کی کابینہ کا حصہ تھے۔ نون لیگ کے دور میں بھی آٹے اور دیگر اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کی جاتی رہی۔ مرغی کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے محرکات سے اب صحافیوں کے ساتھ ساتھ عام آدمی بھی واقف ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اسی طرح پیپلز پارٹی کے دور میں بھی ٹماٹر کی قیمتیں عام خریدار کی پہنچ سے دور تھیں، ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمت کے بارے میں ایک صحافی نے پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر، جو، کے پی کے، سے تھے، ان سے سوال کیا تو ان کا جواب بڑا حیران کن تھا۔ "کہنے لگے اگر ٹماٹر مہنگے ہیں تو لوگ ٹماٹر کے بجائے دہی استعمال" کریں۔ ان کے اس بیان پر میڈیا نے تنقید کی اور عوام الناس نے بھی اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔

موجودہ حکومت بھی عوام کو ریلف دینے میں ابھی تک ناکام ہے۔ اس حکومت کا "فوکس" نیب کے ذریعے کرپٹ سیاستدانوں کے احتساب کے ساتھ ساتھ عوام الناس سے مختلف اعداد و شمار کے حیلوں سے ٹیکس اکٹھا کرنے پر ہے۔ لہٰذا موجودہ حکومت سے یہ توقع اندھے سے خبریں پڑھوانے کے مترادف ہے کہ وزیراعظم کے مشیر اور وزراء عام آدمی کی زندگی میں سہولت لانے کے لیے کابینہ میں کوئی تجویز پیش کریں گے۔ لیکن مشیر خزانہ کے بیان نے عوام کے غضب کو مہمیز کر دیا۔ حکمران طبقے کا یہ معاملہ مشترک ہے کہ انہیں عام ضروریاتِ زندگی کی اشیا کی قیمتوں کا درست ادراک نہیں ہوتا۔ اگرچہ سبزیوں کی فراہمی میں آنے والے تعطل کی ایک وجہ بھارت کے ساتھ واہگہ بارڈر سے درآمد نہ ہونا ہے، جبکہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر نئی دہلی سے تجارت رکنے کے باعث بھی مقامی مارکیٹ میں سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن یہ ایک زاویہ ہے۔ اس مہنگائی اور تجارتی تعطل کے باعث پیش بندی کرنا حکومت ہی کا فرض ہے۔

گذشتہ پندرہ برسوں میں ٹماٹر کی قیمت کبھی بھی 17 روپے کلو نہیں رہی۔ کراچی سے خیبر تک اگر ایسی کوئی مثال ملے تو میرے لیے کم از کم بہت حیرت افروز ہوگی۔ ٹماٹر کی کم از کم قیمت 25 سے 30 روپے ہی رہی۔ اب جبکہ ٹماٹر 240 سے 280 روپے فی کلو گرام تک فروخت ہو رہا ہے تو حکومت نے ایران سے ٹماٹر کی درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ آپ جب یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو معاشی کمیٹی اس حوالے سے کسی نتیجہ پر پہنچ چکی ہوگی۔ حکومت کو احساس ہوا ہے کہ دھرنے کے ساتھ ساتھ اگر سبزیوں کی قیمتیں بھی کنٹرول نہ ہوئیں تو حکومت کے لیے کئی طرح کے مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔ کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے ٹماٹر سمیت دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ پر اپنی ناراضگی کا بھی اظہار کیا اور ہدایت کی کہ آئندہ کم از کم چھ ماہ کا سٹاک یقینی بنایا جائے اور ایسا میکنزم تیار کیا جائے، جس سے اشیا کی قلت کا بروقت پتہ چل سکے۔ وزیر توانائی نے کابینہ میں بتایا کہ وہ مٹر کے کاشت کار ہیں، مڈل مین کے ذریعے وہ مٹر 5 روپے کلو فروخت کرتے ہیں، جو مارکیٹ میں 100 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ مہنگائی کے حوالے سے وزیر توانائی کا بیان ہی حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ اگر مٹر 5 روپے کلو کاشتکار سے خریدا جا رہا ہے تو وہ کون لوگ ہیں، جو مارکیٹ میں 100 روپے کلو تک فروخت کر رہے ہیں؟ ان ذخیرہ اندوزوں پر حکومت ہاتھ کیوں نہیں ڈالتی؟ طلب و رسد کے معاشی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت بروقت اقدامات کیوں نہیں اٹھاتی؟ ذمہ دار حکومتیں اپنی کارکردگی کے ذریعے "خود احتسابی" کو بھی جمہوری روایات کا حصہ سمجھتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ایسی کوئی روایت نہیں۔ ہم دنیا بھر کے مسائل بیٹھے بیٹھے حل کرنے کے کلیے تو پیش کر دیتے ہیں، لیکن کوئی حکومت پرائس کنٹرول کی طرف توجہ نہیں دیتی۔ اگر اشیائے ضروریہ لوگوں کی قوت خرید سے تجاوز نہ کریں تو حکومتوں کو "سستے رمضان" بازار لگانے کی ضرورتیں کیوں پیش آئیں۔؟

اصل میں ہم ایسے سماج کا حصہ ہیں، جہاں ذخیرہ اندوز جب چاہیں، مصنوعی قلت پیدا کرکے عوام کی جیب سے اربوں روپے چند ہفتوں میں نکال لیتے ہیں۔ مگر حکومتیں ان ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کچھ بھی نہیں کرسکتیں، اس لیے کہ ذخیرہ اندوزوں کے پشتی بان کسی نہ کسی طرح حکومتوں کا ہی حصہ ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کو چاہیئے کہ ایک دو اجلاس اس حوالے سے بھی بلائیں، جن میں صرف ذخیرہ اندوزوں سے سختی سے نمٹنے کی بھی منظوری لی جائے۔ کیا ٹماٹر کے بعد چینی؟ یا آٹے کی قلت پیدا ہوسکتی ہے؟ کیا موسمی بے اعتنائی کا بہانہ کرکے حکومتیں بری الذمہ ہو جاتی ہیں؟ بالکل نہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ فی الفور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تعین کرے، بلکہ روز مرہ کی بنیاد پر اشیا کی قیمتوں کا تعین کیا جائے۔ اگرچہ مقامی سطح پر دکانداروں کو ایک لسٹ روزانہ تھما دی جاتی ہے، لیکن سرکاری نرخوں کے مطابق کبھی بھی دکانداروں نے اشیا فروخت نہیں کی ہیں۔ اس حوالے سے حکومت چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے۔ جس قدر عوام کو اشیائے ضروریہ سستی اور معیاری فراہم ہوں گی، حکومت عوام میں اسی قدر مقبول ہوگی۔ بہ صورت دیگر سارے اقدامات کو سیاسی انتقام کا نام دے کر عوام اس حکومت سے بھی بد دل ہو جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 827143
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب