0
Friday 15 Nov 2019 10:36

دھر میں عشقِ محمدؑ سے اجالا کر دے

دھر میں عشقِ محمدؑ سے اجالا کر دے
اداریہ
سترہ ربیع الاول سنہ ایک عام الفیل خاتم الرسل، سرور انبیاء، مرسل اعظم حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سترہ ربیع الاول سنہ ۸۳ ہجری فرزند رسول صادق آل محمد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی تاریخ ہے۔ اہل سنت راویوں اور علماء کے مطابق بارہ ربیع الاول پیغمبرِ اسلام (ص) کی ولادت باسعادت کی تاریخ ہے، جبکہ شیعہ راویوں اور علماء کے مطابق پیغمبرِ اسلام کی ولادت باسعادت کی تاریخ سترہ ربیع الاول ہے۔ اسی مناسبت سے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی (رح) نے بارہ سے سترہ ربیع الاول تک کی تاریخ کو ہفتہ وحدت قرار دیا تھا اور اس کے بعد سے ہر سال ایران اور پوری دنیا میں ان ایام میں ہفتہ وحدت منایا جاتا  ہے۔ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) نے بارہ سے سترہ ربیع الاول کے ایام کو ہفتہ وحدت کے طور پر منانے کا حکم دیا تھا، جس کا مقصد مسلم امہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ دے کر دشمنان اسلام کی شازشوں اور ریشہ دوانیوں کو ناکام بنانا تھا۔ ہفتہ وحدت کی مناسبت سے ہونے والے سیمیناروں اور کانفرنسوں میں مقررین کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔

اس مناسبت سے گزشتہ روز تھران میں عالمی وحدت کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ کانفرنسں میں مختلف ممالک کے سینکڑوں علماء اور دانشور شریک ہیں۔ عالمی تقریب مذاہب اسلامی فورم کے سربراہ آیت اللہ محسن اراکی نے تینتیسویں عالمی وحدت اسلامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد و وحدت کی سوچ اور فکر نے تکفیری اور تفرقہ ڈالنے والی سوچ اور فکر پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مسجدالاقصی اور فلسطین کا دفاع ماضی کی نسبت مسلمانوں اور دنیا والوں کیلئے ضروری ہو گیا ہے۔ آیت اللہ محسن اراکی نے فلسطین اور علاقے کے دیگر ممالک میں مزاحمتی محاذ کے دفاع کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی محاذ کی کامیابیوں نے اس محاذ کو مضبوط بنا دیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے دارالحکومت تہران میں منعقدہ 33 ویں عالمی اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالم اسلام کی بیداری و ہوشیاری میں امریکی پالیسیوں کی ناکامی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یمن، افغانستان اور عراق کے عوام کا قتل عام اور اسی طرح اسلامی ممالک میں اختلافات اور تفرقہ ڈالنے کی کارروائیاں علاقے میں امریکہ کی مذموم سازش کا نتیجہ ہیں۔

صدر حسن روحانی نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ فلسطین کو فلسطینیوں اور مسلمانوں کے ہاتھوں آزاد ہونا چاہئیے کہا کہ علاقے کے نوجوانوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئیے کہ امریکہ مسلمانوں اور علاقے کے عوام کا دوست تھا اور نہ ہی دوست ہے، اس لئے علاقائی مسائل علاقائی عوام کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔ ایران کے صدر نے بعض اسلامی ممالک کی جانب سے صیہونی حکومت کے ساتھ روابط بڑھانے اور اسرائیل کے جاسوسی کے نیٹ ورک کو مسلمانوں اور مزاحمتی بلاک کے خلاف استعمال کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران فلسطینی عوام کا دفاع کرنے کیلئے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف پہلی صف میں شامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج جتنی اتحاد بین المسلمین کی ضرورت ہے، اس سے پہلے نہ تھی، لڑاو اور حکومت کرنے کا سامراجی ہتھکنڈہ آج اپنے عروج پر ہے، آج امت مسلمہ کی ذمہ داری صرف مسلمانوں کی وحدت و فلاح کا نہیں سوچنا، انسانیت سامراجیت کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہی ہے، آج رحمت العالمین کے پیروکاروں کو آگئے بڑھنا ہے، رحمت عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت باسعادت سے بہتر کونسا دن ہو گا، جب اس بات کا عہد کیا جائے کہ؎
مثلِ بُو قید ہے غُنچے میں، پریشاں ہوجا
رخت بردوش ہوائے چَمنِستاں ہوجا
ہے تنک مایہ تو ذرّے سے بیاباں ہوجا
نغمۂ موج سے ہنگامۂ طُوفاں ہوجا!
قُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمّدؐ سے اُجالا کر دے
خبر کا کوڈ : 827479
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب