0
Friday 15 Nov 2019 13:37

پاراچنار، پہلی سیرت النبی (ص) کانفرنس

پاراچنار، پہلی سیرت النبی (ص) کانفرنس
رپورٹ: ایس این حسینی

کل بروز جمعرات گورنر ہاوس پاراچنار میں کرم کی تاریخ کی پہلی عید میلاد النبی (ص) اور سیرت النبی (ص) کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ جس میں شیعہ سنی علماء، عمائدین اور جوانوں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ پروگرام کا اہتمام بریگیڈئیر نجف عباس کے حکم پر پاک فوج نے کرایا تھا۔ کانفرنس سے خصوصی خطاب کیلئے کراچی سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی اور چارسدہ سے اہل سنت عالم دین مولانا تحمید اللہ جان کو دعوت دی گئی تھی۔ اس بابرکت پروگرام میں کرم بھر کے جید علمائے کرام، تنظیمی رہنماؤں، عمائدین اور مشران قوم نے شرکت کی۔ باہر سے دعوت کئے گئے خصوصی مقررین کے علاوہ کانفرنس سے علاقائی علماء میں سے مدرسہ جعفریہ کے مدرس علامہ اخلاق حسین شریعتی، پرنسپل مدرسہ انوار المدارس اورکزئی علامہ عابد حسین شکری، تحریک حسینی کے صدر مولانا یوسف حسین جعفری، جامع مسجد صدہ کے خطیب مولوی نور بادشاہ، آرمی پبلک سکول کی طالبہ وجیہہ زہراء اور معروف ذاکر اہلبیتؑ ہادی حسین نے خطاب کیا۔

صبح 10 بجے قاری شاہد حسین نے پروگرام کا آغاز اپنی شیرین اور خوش لحن آواز کے ساتھ قرآن کریم کی آیات سے کیا۔ جس کے بعد سٹیج سیکرٹری سید جمیل کاظمی نے ابتدائی کلمات کے بعد علامہ اخلاق حسین شریعتی کو دعوت خطاب دی۔ شریعتی صاحب نے رسول اللہ (ص) کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آنحضرت (ص) نے اپنے پیروکاروں کو آپس میں متحد رہنے، ایک دوسرے کے ساتھ نیکی اور نرم برتاؤ کرنے جبکہ دشمن اسلام کے ساتھ سخت سلوک کرنے کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے علمائے عصر نیز علمائے گذشتہ میں سے متعدد علماء کے فتاویٰ نقل کئے۔ جنہوں نے ہر کلمہ گو کے خون کی حرمت کا فتویٰ دیا ہے۔ انہوں نے رہبر معظم سید علی خامنہ ای اور آیۃ اللہ العظمیٰ سید سیستانی کے فتاویٰ کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ حضرات صحابہ کرام اور امہات المومنین میں سے کسی کی کردار کشی کو ناجائز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے سید سیستانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ فرماتے ہیں کہ سنی ہمارے بھائی نہیں بلکہ ہماری جان ہیں۔ اس کے بعد چارسدہ کے بزرگ سنی عالم دین علامہ تحمید اللہ جان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ واریت کا اہم سبب ہم علماء ہیں۔ اس میں عوام الناس کا کوئی قصور نہیں۔ وہ تو ہمارے ہی گوش بفرمان ہیں۔ ان کی نظریں فقط اور فقط ہم پر ہیں۔ ان کی نظر میں علماء کی ہر بات رسول اللہ (ص) کی بات ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب علماء انہیں کہتے ہیں کہ شیعہ یا سنی کا خون مباح ہے، بلکہ اس پر جنت واجب ہے، تو عوام تو لاعلمی کی بنا پر اور جنت کی طمع میں ایسے کام کر بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ ہم علماء کا فرض ہے کہ ہم عوام الناس کو گمراہی سے بچائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جو کام ہم علماء کو کرنا چاہیئے تھا، ہم علماء کی ذمہ داری تھی، وہ کام ہمارے اس بھائی بریگیڈیئر نجف عباس نے کیا۔ تاہم ہم ان کے اس اہتمام پر نہایت ممنون ہیں اور ان سے امید رکھتے ہیں کہ آئندہ بھی ایسے پروگراموں کا اہتمام کیا کریں۔ لوئر کرم صدہ کی جامع مسجد کے خطیت مولوی نور بادشاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر (ص) کی سیرت دنیا کے لئے نمونہ عمل ہے، بلکہ ان کے جملہ شاگردوں، صحابہ کرام اور اہلبیت عظام کی سیرت دنیا کے لئے نمونہ عمل ہے، ہم ایک شکایت کرتے ہیں کہ جاہل ہوکر بھی ہمارے لوگوں نے کبھی ایک مسجد یا امام بارگاہ تک شہید نہیں کیا ہے، جبکہ اپر کرم کے عوام انتہائی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اہلسنت کے متعدد مساجد کی تخریب کے مرتکب ہوچکے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے اپنے خطاب میں شیعہ سنی اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلم ہوتے ہوئے آج یورپ میں کسی ملک میں کوئی ٹینشن، کوئی لڑائی نہیں، جبکہ مسلمان ہوتے ہوئے جنگیں عالم اسلام کے اندر ہیں۔ آج جنگ یمن، لبنان، فلسطین، شام، عراق، افغانستان اور لیبیا میں ہے۔ جس میں اسلحہ مغرب کا استعمال ہو رہا ہے جبکہ سر مسلمانوں کے کٹ رہے ہیں۔ پتہ نہیں اہلیان یورپ ہوشیار اتنے ہیں یا ہم مسلمان بیوقوف زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ جہاں تکلیف ہو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ مسئلہ شیعہ، سنی کا نہیں، ورنہ دیکھیں، سنی ہوتے ہوئے فلسطین کی حمایت صرف ایران ہی کرتا ہے، جبکہ عرب سنی کے ساتھ ساتھ عرب بھی ہیں، وہ ان کی حمایت نہیں بلکہ ان کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ اقتصادی مجبوریوں کے ہوتے ہوئے کشمیر کے حوالے سے ایران بھارت کے مظالم پر احتجاج کرتا نظر آرہا ہے، جبکہ مسلمان ممالک خصوصاً عرب ممالک اس حوالے سے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، چنانچہ ہم مسلمانوں خصوصاً مسلم حکمرانوں کو چاہیئے کہ مسلمانوں کے ساتھ ہر مشکل میں تعاون کریں۔

بریگیڈیئر نجف عباس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے صحابہ سے خطاب کے دوران فرمایا کہ مجھے یہ خوف نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے، بلکہ مجھے یہ خوف ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جاو گے، تو رسول گرامی (ص) کے اس قول سے ہم دو نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمان مشرک نہیں ہوتے، چنانچہ ہمیں کوئی حق نہیں کہ جب رسول اللہ (ص) کو ہمارے ایمان پر اطمینان ہے تو کسی اور کو کیا حق ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کو مشرک یا کافر قرار دے، جبکہ دوسرا نتیجہ یہ اخذ ہوتا ہے کہ ہم مسلمان دنیا کی محبت میں گرفتار ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا نتیجہ بالکل واضح ہے کہ آج مسلمان دنیا اور اقتدار کی محبت میں ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔

علامہ احمد اقبال رضوی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیشک آج غیر مسلموں کے اسلحے سے صرف اور صرف مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ کسی بھی غیر مسلم ملک میں آپ کو کشت و خون نہیں نظر آئے گا، بلکہ صرف مسلمان ممالک ہی میں یہ بازار گرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کو چاہیئے کہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کریں۔ کسی عالم کے منہ سے نکلنے والی ایک معمولی سی بات اور ایک ادنیٰ لفظ معاشرے کے انحطاط بلکہ نابودی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی ایسے پروگرامات کا انعقاد کرکے معاشرے سے فرقہ واریت کی لعنت کو ختم کرنے کی سعی کرتے رہیں گے۔

جامعہ انوار المدارس کلایہ اورکزئی کے پرنسپل علامہ عابد حسین شاکری کا کہنا تھا کہ شیعہ، سنی اتحاد ملک کے استحکام جبکہ نفاق ہر معاشرے اور ملک کی تباہی و بربادی کا باعث ہوتا ہے۔ انہوں نے علماء سے گزارش کی کہ وہ آگے بڑھ کر رسول اللہ (ص) کی اصل تعلیمات کو لوگوں تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہ رسول اللہ (ص) نے کہا کہ جب آخری زمانے میں دنیا پر عدل کی اسلامی حکومت نافذ ہوگی تو ایک خاتون سونے کے زیوارت پہنے تن تنہا عراق سے چل کر مکہ اور مدینہ کا سفر کرے گی، جبکہ راستے میں اسے کسی قسم کا خطرہ درپیش نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری یہ حالت ہے کہ ہم آپس میں دست و گریباں ہیں اور ایک دوسرے کا خون بہانے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے علمائے کرام کو اس حوالے سے خصوصی کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔

بریگیڈیئر صاحب کے بعد اور سب سے آخر میں تحریک حسینی پاراچنار کے صدر مولانا یوسف حسین جعفری کو دعوت خطاب دی گئی۔ انہوں نے رسول اللہ (ص) کے آخری ایام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سخت بیماری کی حالت میں رسول اللہ نے صحابہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس کسی کا مجھ محمد (ص) پر حق رہتا ہے، آج وہ بتائے کیونکہ قیامت کے دن وہ کسی حق کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔ اس دوران حضرت سودہ (رض) نے کہا کہ ایک سفر کے دوران آنحضور (ص) کی جانب سے اس کے جسم پر ممشوک کوڑے کی ضرب پڑی تھی۔ چنانچہ ممشوک کوڑا منگوایا گیا۔ حضور (ص) نے اسے مذکورہ صحابی کے ہاتھ میں دیا۔ مگر انہوں نے ایک اور تقاضا بھی کیا کہ اس وقت اس کے جسم پر قمیص بھی نہیں تھی۔ چنانچہ رسول گرامی نے اپنی قمیص بھی ہٹائی۔ حضرت سودہ نے فوراً بڑھ کر ان کے کندھوں کے درمیان موجود مہر نبوت کا بوسہ لیتے ہوئے کہا کہ وہ ہاتھ شل ہوں، جو اس نورانی جسم پر وار کریں۔ 

مولانا یوسف حسین نے کہا کہ پیغمبر جیسی ہستی اپنے لئے کسی کے معمولی حق اور وہ بھی سہواً، قائل نہیں تو آج ہم ایک دوسرے کی زمینوں، پہاڑوں اور دیگر املاک پر ناجائز قبضہ کرکے قیامت کا کوئی خوف ہی محسوس نہیں کرتے۔ مولوی نور بادشاہ کی شکایتوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم تاریخ کی طرف نہیں جاتے کہ ہماری کتنی مساجد اور امام بارگاہیں شہید ہوئی ہیں۔ کتنے دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، کیونکہ اس کی تفصیل بہت طولانی ہے۔ تاہم آج ان تمام فوجی اور سول حکام کی موجودگی میں خود اپنی طرف سے نہیں بلکہ انجمن حسینیہ اور پوری طوری قوم کی جانب سے اپنے اہل سنت بھائیوں کو یہ پیشکش کرتا ہوں کہ جس کسی کا کسی طوری اور شیعہ پر معمولی حق رہتا ہو، وہ بتائے، اگر ہم نے واپس نہ کیا تو ہم پر اللہ اور ملائک کی لعنت ہو۔ انہوں نے اس سلسلے میں حکام سے بھی خواہش ظاہر کی کہ وہ شیعہ سنی علماء اور عمائدین کے ایک مشترکہ اجلاس کا اہتمام کریں، جس میں ہر فریق اپنے مسائل اور حقوق کا تقاضا کرے اور دوسرا اسکا جواب دے، بصورت دیگر اپنا حق واپس کرے۔ پروگرام کے آخر میں بریگیڈیئر پاک فوج نے شیعہ سنی عمائدین بالخصوص مقررین میں تحائف تقسیم کئے اور تمام شرکاء کی تواضع چائے سے کرائی۔
خبر کا کوڈ : 827484
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب