5
Sunday 17 Nov 2019 18:30

آزادی مارچ دھرنا سے نواز شریف کی ضمانت تک

آزادی مارچ دھرنا سے نواز شریف کی ضمانت تک
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
مختلف ممالک میں اقتداری سیاست کے رولز آف گیم کی مانند پاکستان کی اقتداری سیاست کے بھی اپنے ہی اسرار و رموز ہیں۔ جو کوئی ان اسرار و رموز سے آگاہ ہے، اسکے لئے پاکستانی ریاست میں اکا دکا استثناء کے علاوہ کچھ بھی سرپرائز نہیں ہے۔ مولوی فضل الرحمان کی دیوبندی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ سے نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت پر مبنی ضمانت کی عدالت سے منظوری تک، بہت کچھ تھا جو خواہشات کو تجزیہ و تحلیل سمجھنے اور سمجھانے والوں کی سمجھ سے بالاتر تھا۔ اس حقیر نے دوست احباب کی محفلوں میں عرض کردیا تھا کہ مرحلہ فیس سیونگ میں داخل ہوچکا۔ ڈیل ڈیل کے شور کی وجہ سے تھوڑی سی تاخیر ہورہی ہے۔ 13نومبر بروز بدھ جب فضل الرحمان نے آزادی مارچ اسلام آباد دھرنا ختم کرتے ہوئے پلان بی کا اعلان کیا تب بھی عرض کیا کہ تھوڑا انتظار کرلیں سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اب ذرا غور فرمائیے کہ کیا اسی روز قومی احتساب بیورو المعروف نیب کے ایگزیکیٹیو بورڈ کا اسلام آباد میں اجلاس محض اتفاق تھا۔؟

کیا نیب اجلاس سے متعلق ڈان اخبار کی یہ سرخی غیر اہم تھی،!: NAB to close down several inquiries, won’t open new ones۔ کیا فضل الرحمان کے اس دھرنے اور اسکے پس پردہ پشت پناہ عناصر کے مطالبات اور نیب کے اس اجلاس کا آپس میں کوئی ربط نہیں تھا۔؟ انصافین حکومت کی جانب سے زور و شور سے جو بات پھیلائی جا رہی تھی کہ زرداری اور نواز و مریم نواز کی طرح اب فضل الرحمان کی باری ہے۔ پاکستا ن پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے مخالفت کے باوجود فضل الرحمان انصافین حکومت اور خاص طور پر عمران خان سے استعفیٰ لینے کے مطالبے کے ساتھ میدان میں نکلے۔ دونو ں سابقہ حکمران جماعتوں کا اصولی موقف تھا کہ دھرنے کی طاقت سے حکومتیں گرانا درست طریقہ نہیں ہے۔ البتہ فضل الرحمان کے احتجاج کی دونوں نے حمایت کی۔ شرکت بھی بس اسی حد تک کی کہ اخلاقی حمایت کا تاثر رہے۔ یہ شروع سے واضح تھا کہ فضل الرحمان نے دونوں جماعتوں کی مخالفت کے باوجود انتہائی قدم اٹھالیا تھا۔ تو مقام فکر ہے کہ کس کے بل بوتے پر۔؟

 اس سوال کا جواب بھی تلاش کریں کہ زرداری، نواز اور مریم کے بعد کیا انہیں یقین ہوچلا تھا کہ اگلی باری انہی کی ہوگی؟، اور اسی خوف نے انہیں مجبور کیا کہ وہ تنہا اپنی جمعیت کے ساتھ کراچی سے براستہ لاہور اسلام آباد مارچ کرتے پہنچے؟، اور اس درمیان صحافی رؤف کلاسرا کا دعویٰ کہ طاقتور ادارے کے سربراہ کی فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی اور مذاکرات بھی ہوئے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک طاقت ور ادارے کے بعض افسران کے حوالے سے خبر پھیلائی گئی کہ انہیں اپنے ادارے کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر اعتراض ہے۔ اور انہوں نے یہ اعتراض ان تک بھی پہنچادیا تھا۔ یہ باتیں سوشل میڈیا پر آزادی مارچ کے دوران پھیلائیں گئیں۔ اب یہ ملاحظہ فرمائیں کہ نیب کے اجلاس کے فیصلے کیا تھے۔ نیب کے اپنے جاری کردہ بیان کے مطابق:
 
The the meeting approved closing of inquiries against officials of the Federal Board of Revenue; Defence Housing Society, Karachi; Port Qasim Authority; Karachi Port Trust and others; Saeed Ahmed Jakhrani, former director of Nara Canal, (SEDA), Mirpurkhas; officers of irrigation division, Sindh“due to absence of any proof”.“The inquiries and investigations are being initiated on the basis of... allegations and, therefore, allegations must not be considered as final. The final decision about initiating proceedings against any accused is taken after knowing point of view of both sides,”it said.The NAB board also approved closure of the inquiry against officers/officials of KDA, government of Sindh, in the light of the Supreme Court orders.

یعنی یہ کہ بہت سے اہم ادارو ں، افسران اور شخصیات کے خلاف تحقیقات کا عمل ختم کردیا گیا۔ نئے مقدمات نہ کھولنے کا فیصلہ۔ صوبائی دارالحکومت کراچی سمیت صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والی شخصیات، افسران، محکموں اور اداروں سے متعلق تحقیقات بند کرنے کا فیصلہ۔ کیا یہ نرمی ایک قسم کا ریلیف نہیں ہے؟ اور ٹائمنگ! آزادی مارچ اسلام آباد دھرنا کے دوران اور ان فیصلوں کا ہونا اور دھرنے کا پایہ اختتام کو پہنچ جانا، محض حسن اتفاق۔؟ حیرت انگیز اتفاق یہ بھی کہ 6 نومبر بروز بدھ سعودی معاون وزیر دفاع محمد بن عبداللہ العایش نے پنڈی میں ایک ادارے کے سربراہ سے ملاقات کی۔ پاکستانی اخبارات میں خبریں شایع ہوئیں مگر نہ تو آئی ایس پی آر کی آفیشل ویب سائٹ پر اور نہ ہی ڈی جی آئی ایس پی آر کے آفیشل اکاؤنٹ پر اسکی کوئی خبر نظر آئی۔ فضل الرحمان کا احتجاجی مارچ جاری تھا، اسی دوران کور کمانڈرز کانفرنس چار نومبر کو جی ایچ کیو میں ہوئی۔ اس سے متعلق رسمی بیان میں آخری جملہ انتہائی اہمیت کا حامل تھاکہ بری فوج کے سربراہ نے کہا تھا: Continued cohesion of all national stakeholders on key national issues is essential to defeat inimical forces.
 
مطلب یہ کہ اہم قومی ایشوز پر سارے قومی اسٹیک ہولڈرز کی ہم آہنگی دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لئے ضرور ی ہے۔ یعنی انہوں نے قومی مفاہمت پر تاکید کی تھی۔ ماضی قریب میں سابق صدر آصف زرداری مفاہمت کی سیاست پر ڈٹے ہوئے تھے۔ اس تناظر میں 16نومبر بروز ہفتہ کو لاہور ہائیکورٹ نے چار ہفتوں کے لئے بیرون ملک علاج قیام کی اجازت دے دی ہے۔ حکومت سے کہا ہے کہ ان کانام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کریں۔ دلچسپ نکتہ یہ بھی ہے کہ دورکنی بنچ کے ایک جج جسٹس علی باقر نجفی ہیں جنہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈییشل انکوائری رپورٹ دی تھی۔ تب نواز اور شہباز کی نون لیگی حکومت انکے سخت خلاف ہوگئی تھی۔ اور اب ان کو ریلیف انہی جج کی عدالت سے ملاہے۔ حالانکہ نواز شریف کی طرف سے رسمی طور پر واپسی کا ذمہ شہباز شریف نے لیا ہے۔ پچاس روپے کے اسٹامپ پیپر پر انہوں نے انڈرٹیکنگ جمع کرائی ہے۔
 
البتہ اس میں نواز شریف کی واپسی کے بارے میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب ڈاکٹرز یہ سند جاری کردیں کہ اب وہ صحتمند ہوچکے اور پاکستان واپسی کے لئے فٹ ہیں، تب انکی واپسی ہوگی۔ یعنی چار ہفتوں سے بات آگے بھی جاسکتی ہے۔ ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ شہباز شریف خود ضمانت پر آزاد کئے گئے ہیں۔ اور وہ اپنے بھائی کا ذمہ لے رہے ہیں اور وہ بھی صرف پچاس روپے کے اسٹامپ پیپر پر۔ یقینا انصافین حکومت کے حامی اسے عدالتی ریلیف قرار دے کر کنی کترانا پسند کریں گے، مگر ان سے صرف ایک سوال کہ آپ اس عدالتی فیصلے کو چیلنج کیوں نہیں کردیتے۔؟ نواز شریف باقاعدہ سزا یافتہ مجرم ہیں اور اس نوعیت کی اجازت پاکستان کی تاریخ میں  شاید پہلی مرتبہ مل رہی ہے۔ جہاں تک میری یادداشت کام کررہی ہے، انیس سو نوے کے عشرے میں ایک ڈرگ اسمگلر جس کے نام کے آخر میں آفریدی آتا تھا، انہیں شاید امریکی فرمائش پر جیل سے ہی ہیلی کاپٹر میں سوار کروا کے آزاد کردیا گیا تھا۔ البتہ آزادی مارچ دھرنا سے لے کر نواز شریف کو دی گئی عدالتی اجازت تک جو کچھ ہوچکا ہے اس سے لگتا ہے کہ سارے فریقین کو فیس سیونگ کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔
 
کیا ہم یہ فرض نہیں کرسکتے کہ احتجاجی مارچ کے بعد سندھ میں اداروں کو یا شخصیات کو ریلیف زرداری پارٹی کو ریلیف کے مترادف ہے۔ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سمیت اداروں سے متعلق نیب انکوائری بند ہونا، پس پردہ حلقوں کو ریلیف۔؟ نواز کو بھی ریلیف مل گیا۔ تو اب ملین ڈالر کا سوال یہ بھی تو بنتا ہے ناں کہ فضل الرحمان اور انکی جمعیت کو کیا ملا۔؟ صرف یہی نہیں بلکہ دیگر چند اہم پہلو بھی رہ گئے ہیں۔ پاکستان کی اقتداری سیاست پر اگر آئندہ لکھا تو ان پر بھی بات ہوگی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پس پردہ جو کچھ طے ہوا ہے، اسے مزید عملی جامہ پہنانے کے لئے چند دن یا ہفتے لگ جائیں۔ البتہ جو کچھ بھی ہوا ہے، اسی طرح ہوتا آیا ہے، اس طرح کے کاموں میں۔
 
References
خبر کا کوڈ : 827843
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب