0
Tuesday 19 Nov 2019 12:01

واٹس ایپ عذاب تو نہیں بن گیا؟

واٹس ایپ عذاب تو نہیں بن گیا؟
تحریر: ثاقب اکبر
 
واٹس ایپ تو عجیب مصیبت ہے۔ ہر گروپ میں ہر طرح کی فلمیں، آڈیوز، ویڈیوز اور بہت کچھ۔ ایک مخصوص موضوع پر گروپ بنتا ہے اور پھر موضوع تلاش کرنے سے بہت مشکل سے ملتا ہے۔ گروپ ساز بار بار گزارش کرتے ہیں کہ ”خواتین و حضرات! اس گروپ کا یہ موضوع ہے، اس کا یہ مقصد ہے“، لیکن قسم ہے جو ”معمولات ترسیل“ میں کوئی فرق پڑے۔ اوّل تو یہ لگتا ہے جیسے کسی نے یہ گزارش پڑھی ہی نہیں، لیکن پڑھی بھی ہو تو طرح طرح کے عذر ہیں مثلاً: فلاں نے بھی تو ایسی پوسٹ کی ہے، اس پوسٹ کا مقصد فقط اطلاع دینا ہے، وغیرہ۔ اگر پوسٹ کسی مذہبی نظریے یا شخصیت کے بارے میں ہے، اگرچہ گروپ کے موضوع سے ہٹ کر ہے تو پھر سمجھانے والے کی خیر نہیں، اسے آسانی سے دشمن دین اور دشمن مقدسات دین بنایا جاسکتا ہے۔ ہم نے خود بھی اس کا تجربہ کیا۔ ایک گروپ علمی و فکری تجزیات کے لیے بنایا۔ طرح طرح کی تصویریں، ویڈیوز، آڈیوز، تبصرے، خبریں، اشتہارات اور بہت کچھ اس میں آنے لگے۔ فرقہ وارانہ پوسٹیں الگ۔ آخر کار ہم نے دلچسپی چھوڑ دی۔

بعض احباب سے بہت قریبی تعلقات ہیں، دوستیاں ہیں۔ سارا دن ان کی تصویریں، بیانات، مصروفیات کی فلمیں اور ریکارڈنگز ملتی رہتی ہیں۔ ظاہر ہے، نہیں دیکھی جاسکتیں۔ بعض کرم فرما ایسے بھی ہیں کہ ایک آدھ دفعہ ان کی پوسٹیں دیکھنے کے بعد اب ہمیشہ بغیر دیکھے ڈیلیٹ کرنا پڑتی ہیں۔ بعض چیزیں واقعی اہم ہوتی ہیں، لیکن ہر اہم موضوع ہماری دلچسپی کا موضوع بھی نہیں ہوتا۔ ان احباب سے کیسے کہیں کہ آپ اہم ہیں، آپ کی خبریں بھی اہم ہیں، مضامین بھی اہم ہیں، لیکن ہم کیا کریں ہماری زندگی کی ترجیحات اور ہیں۔ ہم نے گذشتہ شب آنے والے دن کے لیے کچھ اور مصروفیات طے کررکھی ہیں۔ مطالعے کی میز پر کیا کچھ انتظار میں ہے۔ کتنے مقالات لکھنے کا ہم وعدہ کر چکے ہیں، ان کے لیے مطالعہ بہت ضروری ہے۔ ایسے میں آپ کے شذرات اور مقالات سے کسبِ فیض کیسے کریں۔ کئی کتابوں پر تبصرہ لکھنا باقی ہے۔ کئی عالمی اور مقامی خبریں منتظر ہیں کہ ہم ان کے بارے میں کچھ اظہار خیال کریں۔

مشکل اس وقت سوا ہو جاتی ہے جب کچھ احباب ملتے ہیں تو پوچھتے ہیں: ہم نے فلاں ویڈیو بھیجی تھی، دیکھی آپ نے؟ ہم نے فلاں مضمون واٹس ایپ کیا تھا، آپ نے ضرور پڑھا ہوگا۔ سارا دن تو، ؎
کیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آجاتے ہیں
اپنے اپنے غم کے فسانے ہمیں سنانے آجاتے ہیں


ایسے میں موبائل فون کی گھنٹیاں، مختلف ملکوں سے واٹس ایپ کالز، کتنے جاننے والے ہیں، جو چاہتے ہیں کہ ہماری آج کی اور آئندہ کی مصروفیات وہ طے کریں، اس سلسلے میں موبائل فون پر ایک کال اور فلاں جگہ بلکہ فلاں شہر میں شرکت کی پر اصرار دعوت۔ ایک مشکل اور بھی ہے، فون کی مس کال پر تو آسانی سے نظر پڑ جاتی ہے، لیکن ہزاروں واٹس ایپ رابطوں میں سے کسی پر آیا ہوا پیغام گاہے دکھائی نہیں دیتا۔ کبھی کوئی دعوت، کبھی کوئی اطلاع اور کبھی کچھ اور، احباب کیوں یہ سمجھتے ہیں کہ تمام واٹس ایپ پیغامات ہر روز اور ہمہ وقت دیکھتے رہنا ہمارے لیے ضروری ہے۔ ایسے مخلصین بھی ہیں جو فون پر بات شروع کر دیتے ہیں، یہ پوچھے یا جانے بغیر کہ ہم کس مسئلے میں الجھے ہوئے ہیں، کیا کررہے ہیں؟ کبھی مضمون لکھتے ہوئے، کبھی لکھواتے ہوئے، کبھی فکر سخن میں، کبھی کسی عزیز سے بات کرتے ہوئے۔ سب کچھ تو لکھا اور کہا بھی نہیں جاسکتا۔ ”واٹس ایپ“ بے چارے کا تو ویسے ہی نام لے لیا دیگر عناوین اور سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع بھی کچھ کم نہیں۔ ”کس کس کو دل دوں میں کس چکر میں ہوں۔“

 ایسے میں کیا کریں۔ ڈاکٹر مشتاق صاحب نے ایک نسخہ نیوز چینلز کے حوالے سے لکھا ہے، کیا اسے کچھ تبدیلی کے ساتھ سوشل میڈیا چینلز کے لیے بھی آزمایا جاسکتا ہے؟ وہ لکھتے ہیں: ”نیوز چینلز کم سے کم دیکھا کریں۔ دیکھنے بھی ہوں تو انگریزی چینل دیکھیں، وہ بھی بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت۔ اردو ہی دیکھنا ہو تو بی بی سی کی ویب سائٹ دیکھیں بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت۔ ٹاک شوز بالکل نہ دیکھیں اور اب تک دیکھنے پر خلوص دل سے توبہ کریں۔ ویلج افسران اور خواہ مخواہ کے مولوی صاحبان کی بات نہ سنیں اور سننی پڑ ہی جائے تو سنجیدہ ہرگز نہ لیں، بالخصوص ان کے بڈھے بڈھے تجزیہ نگاروں کے تجزیوں کو محض لطیفہ سمجھ کر پڑھیں اور ان سے لطف اٹھائیں۔ ان چند اقدامات سے نہ صرف سازشی نظریات سے جان چھوٹ جائے گی، بلکہ مبنی برحقیقت تجزیہ بھی خود ہی کرسکیں گے اور، ان شاءاللہ، کبھی مایوسی نہیں ہوگی۔ تجربہ کرکے دیکھ لیں۔“ ڈاکٹر مشتاق صاحب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی شریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔

ہمارے مفتی امجد عباس بھی ہر طرح کی بات کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، وہ بھی ستم رسیدہ اور واٹس ایپ گزیدہ معلوم ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کی دی ہوئی دہائی بھی سنی جاسکتی ہے۔ ہمارے بھی جو دکھ رہ گئے ہیں اور جو ہم کہہ بھی نہیں سکتے وہ مفتی امجد عباس صاحب کے کندھے پر رکھ کر ”چلا دیتے ہیں“۔ وہ لکھتے ہیں کہ سب سے فضول اور لغو، واٹس ایپ گروپس ہیں۔ واٹس ایپ اس حد تک مفید سوشل میڈیا ایپ ہے کہ تصاویر، ویڈیوز، فائلز وغیرہ آسانی سے منتقل کی جا سکتی ہیں، تاہم اگر اس میں گروپ بنانے کا آپشن نہ ہوتا تو یہ بہت کارآمد ایپ ہوتی۔ مجھے احباب نے درجنوں گروپس میں شامل کر رکھا ہے، ان گروپس کے نام بہت اچھے ہیں، جیسے گروہِ محققین، بزم طلاب جامعہ، میڈیا اسلام آباد، پی ڈی ایف کتب گروپ، مجمع الفقہ الاسلامی، بزم ادب، بزم اساتید وغیرہ، لیکن ایسے گروپس میں شامل پڑھے لکھے حضرات اکثر گروپ کو دیکھے بغیر، ایک ہی میسج ہر طرف پھینک دیتے ہیں۔ اللہ کے بندو! اپنا مواد سبھی احباب تک بھیجنے کے لیے واٹس ایپ نے براڈکاسٹ کا آپشن متعارف کروا رکھا ہے، ایسی صورت میں وہ آپشن زیادہ مفید ہے، اسے استعمال میں لائیے۔

مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ ابھی میڈیا اسلام آباد گروپ میں کسی صاحب نے 50 جی بی فری انٹرنیٹ کا دھوکے پر مبنی لنک شیئر کیا ہوا ہے۔ ہم نے مجلسِ بصیرت کے شرکاء کا ایک واٹس ایپ گروپ بنایا، جس کا بنیادی ہدف، شرکاء کو ماہانہ نشست کی اطلاع دینا تھا، دن رات احباب نے ہمہ قسمی پیغامات بھیجنا شروع کیے، تو گروپ میں شیئرنگ کو صرف ایڈمنز تک محدود کرنا پڑا، اب وہی میسج کر سکتے ہیں۔ آج سوچ رہا ہوں کہ ایک آدھ کے علاوہ دیگر سبھی گروپس کو چھوڑ دوں جب سبھی گروپس میں، بلا امتیازِ نام و عنوان، ایک سا مواد ہی بٹنا ہے تو اتنے جھنجھٹ میں پڑنے کی کیا ضرورت!۔ افسوس ہے ایسے پڑھے لکھے دوستوں پر جو کامن سینس سے محروم ہوتے ہیں کہ گروپ کا کم از کم نام ہی دیکھ لیا کریں، اسی لحاظ سے متعلقہ مواد ہی بھیجیں، یہ کیا ہوا کہ بس کوئی تحریر یا مواد ہاتھ لگا، پھر دھڑا دھڑ ہر طرف دے مارا۔ بلڈ ڈونرز گروپ میں ایک صاحب دن رات لطیفے بھیجتے ہیں، جبکہ مولوی صاحب بزمِ شعر و شاعری میں اپنا وعظ باقاعدگی سے شیئر کرتے ہیں۔ بظاہر یہ دونوں پڑھے لکھے ہیں۔ ایک مدت سے پاکستان میں موبائل فون اور اس کی ایپلی کیشنز زیر استعمال ہیں، لیکن تاحال ان کے استعمال کی اخلاقیات سے ہمارا کوئی تعلق نہ ہے، نہ ہم نے کبھی انھیں زیرِ بحث لایا، نہ اس پر بات کی۔ افسوس، صد افسوس۔

آپ کہیں گے کہ آپ بھی تو سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، جی ہاں! ہم بھی کرتے ہیں۔ شاید کسی کو ہم سے بھی شکوہ ہو، ہماری احتیاط کے باوجود، شکوہ تو ہو سکتا ہے۔ ایسے میں آئیے اپنے آپ کو اور دوسروں کو سوشل میڈیا کے عذاب سے بچانے کی فکر کریں۔ سوشل میڈیا سے پہلے اور اس کے ہوتے ہوئے ہم مساجد کی اذانوں اور مساجد کے لاﺅڈ سپیکروں کی مسلسل یلغار کی زد میں بھی تھے۔ مولوی صاحبان اور ان کے بانگوں کو تو کوئی قانون اور کوئی حکومت پابند نہیں کر سکتی، لیکن کیا سوشل میڈیا کے عذاب سے بچا اور بچایا جاسکتا ہے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹی وی چینلز کے مسائل ہوں، مساجد کے لاﺅڈاسپیکروں کی گھن گرج ہو یا سوشل میڈیا کے طومار، سب کا تعلق ہمارے معاشرے کے فکری انتشار سے ہے۔ فکری انتشار کی متنوع وجوہ ہیں۔ جب تک یہ انتشار باقی ہے، اذیتیں ہمیں سہنا ہوںگی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنکھ، ناک، کان اور زبان جیسی نعمتیں عطا کی ہیں بلکہ کہیں کہ سہولتیں عطا کی ہیں، کیا ان نعمتوں اور سہولتوں کو ہم دوسروں کو اذیت دینے کے لیے استعمال نہیں کرتے؟ اگر کرتے ہیں تو ہاتھ کی انگلیوں کو موبائل فون اور لیپ ٹاپ کے بٹنوں پر بھی ویسے ہی استعمال کرتے رہیں گے۔

انسانی بدن میں ہر چیز اللہ نے دماغ کے نیچے اور ماتحت رکھی ہے لیکن ہم نے اپنے بدن کے تمام اعضا دماغ سے بے نیاز کر دیے ہیں۔ جب تک ہم اندر سے تبدیلی نہیں ہوتے ہمارے اعضاءو جوارح اور ہمارے ہاتھ میں آنے والے ذرائع کا استعمال کیسے بدل سکتا ہے، لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے ہم میں سے ہر کوئی دریا کے بہاﺅ پر بہتا رہے، ہر کوئی بھیڑوں کے گلے میں ایک بھیڑ بن جائے اور بھیڑ چال اختیار کرلے۔ ہم میں سے ہر کسی کو خود سے اپنے بارے میں فیصلہ کرنا ہے، ایک بڑا فیصلہ۔ ہم کسی کے لیے عذاب و اذیت نہ بنیں اور سوشل میڈیا کے استعمال سے کسی دوسرے کو اذیت نہ دیں۔ اپنا علم و فضل ظاہر کرنے کے زعم میں جہالت آشکار نہ کرتے پھریں، خبریں بانٹتے بانٹتے بے خبریاں اور غفلتیں تقسیم نہ کرتے رہیں۔ سوچنے لگیں تو سوچنے کے اور بھی پہلو ہیں۔ قس علی ھذا القیاس!
خبر کا کوڈ : 828013
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب