0
Tuesday 19 Nov 2019 15:48

کراچی، اورنج لائن بس منصوبہ کیا ہے، کیا یہ واقعی ضروری تھا؟

کراچی، اورنج لائن بس منصوبہ کیا ہے، کیا یہ واقعی ضروری تھا؟
رپورٹ: ایس ایم عابدی

3 سال سے سست روی کا شکار اورنج لائن بس ریپیڈ ٹرانزٹ منصوبہ کا تعمیراتی کام اب اپنے آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے اور توقع ہے کہ اگلے سال جنوری میں مکمل کرلیا جائے گا۔ تاہم کراچی کے شہری بس ریپیڈ ٹرانزٹ کے مزے نہیں اٹھا سکیں گے کیونکہ سندھ حکومت نے ابھی تک یہ فیصلہ ہی نہیں کیا ہے کہ اورنج لائن کیلئے بسیں کون لائے گا، وفاقی حکومت یا سندھ حکومت۔ بسوں کی درآمد کا دور دور تک کوئی امکان نہیں نظر نہیں آرہا ہے اور سندھ حکومت کی روایتی سست روی کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ شہریوں کو اس منصوبے سے سفری سہولت اٹھانے کے لئے کم سے کم ایک سال مزید انتظار کرنا پڑیگا۔ منیجنگ ڈائریکٹر سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (ایس ایم ٹی اے) اقتدار احمد نے نجی  اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ کا 70 سے 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ پیدل چلنے والوں کے لئے پیڈسٹرین برجز کی فاؤنڈیشن ڈالی جارہی ہے جو 10 دن میں مکمل کرلی جائے گی، چار اسٹیشنوں میں سے دو کا کام تیزی سے جاری ہے، ایم ڈی ایس ایم ٹی اے کا دعویٰ ہے کہ اگلے سال جنوری میں سول ورکس مکمل کرلیں گے۔ بسوں کی درآمد سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کے پاس دو تجاویز بھیجی ہیں، پہلی تجویز کے مطابق سندھ حکومت یہ بسیں خود لے کر آئے، دوسری تجویز کے تحت وفاقی حکومت سے درخواست کی جائے کہ گرین لائن بسوں کے ساتھ اورنج لائن کے لئے بسیں وفاقی حکومت لے کر آئے تاہم اس کی ادائیگی سندھ حکومت کریگی۔

ایم ڈی ایس ایم ٹی اے نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ ان تجاویز میں سے جو بھی تجویز منظور کریں گے، سندھ حکومت اس پر عملدرآمد کریگی۔ سندھ حکومت کی زیر نگرانی اورنج لائن بس منصوبہ جسے بعدازاں عبدالستار ایدھی کے نام منسوب کردیا گیا ہے جون 2016ء میں شروع کیا گیا اور اسے جون 2017ء میں مکمل کیا جانا تھا، منصوبہ اورنگی ٹاؤن آفس تا میٹرک بورڈ آفس چورنگی صرف 3.9 کلومیٹر کوریڈور تعمیر کیا جانا ہے، تاہم اتنا کم فاصلے پر محیط منصوبہ سندھ حکومت سے بروقت مکمل نہیں کیا جاسکا۔ سابق رکن قومی اسمبلی اور الخدمت اسپتال کے ایڈمنسٹریٹر لئیق خان نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اورنج لائن بس منصوبہ انتہائی سست روی سے کیا جارہا ہے، جگہ جگہ کھدائی کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک جام کے مسائل رہے بلکہ کئی حادثات بھی رونما ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ الخدمت اسپتال اس کوریڈور کے راستے میں واقع ہے، اسپتال میں مریضوں اور ایمبولینسز کو آمد و رفت میں سخت پریشانی کا سامنا رہا۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ پر بس آپریشن جلد ازجلد شروع ہونا چاہیئے تاکہ یہاں کی عوام جنہوں نے اتنی تکالیف اٹھائی ہے اب اس منصوبہ کے فوائد بھی حاصل کرسکیں۔ سروے کے مطابق اورنج لائن بس منصوبہ اورنگی ٹاؤن آفس تا میٹرک بورڈ آفس چورنگی، شاہراہ اورنگی پر تعمیر کیا جارہا ہے، اس منصوبہ کے تحت خصوصی کوریڈور dedicated corridor تقریباً تین کلومیٹر ہے جس میں 0.8 کلومیٹر ایلویٹیڈ اسٹرکچر بھی شامل ہے، اورنج لائن بس منصوبے کے انجیئنرز نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ منصوبہ کا سول انفرااسٹرکچر جس میں مین کوریڈور، دو اسٹیشن، بس ٹرمینل کا ترقیاتی کام اگلے سال جنوری کے آخر میں مکمل کرلیا جائے گا، دو اسٹیشنوں کی لفٹس اور اسکلیٹر آچکے ہیں جبکہ دیگر دو اسٹیشنوں کے لئے لفٹس اور اسکلیویٹر ابھی تک درآمد نہیں ہوسکی ہیں اس لیئے ان دو اسٹیشنوں کی تکمیل میں مزید تاخیر ہوگی، علاوہ ازیں بسوں کی درآمد میں بھی ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

منصوبہ کیا ہے؟
عبدالستار ایدھی لائن (اورنج لائن) بس منصوبے پر کام کا باقاعدہ آغاز 11 جون 2016ء کو ہوا تھا اور کراچی میں بننے والے بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (BRTS) میں یہ سب سے چھوٹا منصوبہ ہے جس کی طوالت صرف 3.9 کلو میٹر ہے۔ اس منصوبے میں بس خصوصی سڑک پر کراچی کے ضلع غربی میں واقع اورنگی ٹاؤن سے چلے گی اور بورڈ آفس نارتھ ناظم آباد میں اس کا آخری اسٹیشن ہوگا، یہ روٹ اتنا مختصر ہے کہ اس میں محض 4 اسٹیشنز یا اسٹاپ بنائے جائیں گے۔ اس پروجیکٹ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن کا ٹھیکہ دو الگ کمپنیوں کے پاس ہے۔ پیکج ون پر ایم ایس اینجینئرنگ پرائیوٹ نامی کمپنی کام کررہی ہے جو ٹاؤن میونسپل آفس سے باچا خان فلائی اوور تک منصوبے پر کام کررہی ہے جبکہ اس سے آگے بورڈ آفس تک کا کام کے این کے نامی کمپنی کے ذمہ ہے۔ اس منصوبے پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ 1.14 ارب روپے لگایا گیا تھا، تاہم منصوبہ کی تکمیل کی مدت میں اضافہ سے لاگت کا تخمینہ بھی بڑھ گیا ہے۔ پروجیکٹ کے لئے سرمایہ فراہم کرنے والی سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس بس منصوبے کی تکمیل کے بعد یومیہ 50 ہزار مسافر اس سے مستفید ہوں گے۔

کیا یہ پروجیکٹ واقعی ضروری تھا؟
یہ حقیقت ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں ٹرانسپورٹ کا کوئی سرکاری نظام موجود نہیں، کراچی جیسے بڑے شہر میں لوگ کھٹارہ بسوں اور چنگ چی رکشوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ کراچی میں بسنے والے غریب لوگوں کی اکثریت نے تو اسے اپنا مقدر ہی سمجھ لیا ہے  جب کہ مڈل کلاس افراد آمد و رفت کے لئے ذاتی سواری یعنی کار، موٹرسائیکل یا انٹرنیٹ ٹیکسی کی سروس پر انحصار کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں ایک ایسی بس سروس جس کا روٹ الگ ہو، جو ٹریفک جام میں نہ پھنسے، جو سڑک پر چلنے کے لئے مکمل طور پر فٹ ہو، صاف ستھری ہو اور اس میں ایئر کنڈیشنر بھی ہو، بہت ضروری تھی اور سندھ حکومت کا اورنج لائن منصوبہ شروع کرنا اس تناظر میں قابل ستائش ہے۔ اورنگی ٹاؤن کراچی کے گنجان آباد علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگوں کی آمدنی کے ذرائع دیگر علاقوں کے مقابلے میں کم ہیں جس کی وجہ سے یہاں متوسط سے نچلی سطح کے طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد رہائش پزیر ہیں اور اس منصوبے کے مختصر ترین روٹ سے انہیں کچھ زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔

اورنگی سے سائٹ ایریا جانے والے افراد کو اس منصوبے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا
لوگوں کی بڑی تعداد روزانہ ملازمت کے لئے سائٹ ایریا کا رخ کرتی ہے جہاں متعدد کارخانے اور فیکٹریاں موجود ہیں، باقی لوگ صدر، کورنگی اور شہر کے دیگر علاقوں میں ملازمت کے لئے جاتے ہیں البتہ زیادہ تر لوگ سائٹ ایریا اور صدر کا رخ کرتے ہیں، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سائٹ ایریا جانے والے افراد کو اورنج لائن سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور انہیں غیر معیاری بسوں، چنگ چی رکشوں اور کمپنی کی فراہم کردہ ’’کنٹریکٹ کیرج‘‘ سے ہی کام چلانا پڑے گا۔ وہ لوگ جو ملازمت کے لئے صدر اور شہر کے دیگر علاقوں میں جاتے ہیں ان کے لئے اورنج لائن بس ’’فیڈر بس سروس‘‘ کا کردار ادا کرے گی جو انہیں اورنگی ٹاؤن نمبر 5 سے بورڈ آفس تک پہنچا دے گی، لوگ فی الحال یہ سفر زیادہ تر چنگ چی رکشوں کے ذریعے کرتے ہیں اور بورڈ آفس سے آگے کی گاڑی پکڑتے ہیں۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ حکومت کے اس منصوبے سے اورنگی ٹاون نمبر 5 سے نارتھ ناظم آباد بورڈ آفس تک کے راستے میں رہنے والے ہی مستفید ہوسکیں گے۔ اورنج لائن اورنگی پانچ نمبر سے تھوڑا پہلے واقع ٹاؤن میونسپل آفس سے چلا کرے گی۔ اورنگی کے اس علاقے سے دنیا کی اس سب سے بڑی کچی آبادی کی حدود کا آغاز ہوتا ہے، یعنی اورنج لائن بس منصوبے سے اورنگی ٹاؤن کی زیادہ تر آبادی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یوں اورنج لائن اورنگی کی محدود آبادی کے لئے ایک ’’فیڈر بس سروس‘‘ کا کردار ادا کرے گی جو انہیں اورنگی ٹاؤن نمبر 5 سے بورڈ آفس تک کے سفر کی سہولت فراہم کرے گی۔

اس سے آگے جانے والے افراد کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے کسی دوسری ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا ہوگا۔اس کے برعکس اگر یہ منصوبہ اورنگی ٹاؤن نمبر 16 یا ’’پاکستان بازار پولیس اسٹیشن‘‘ سے شروع اور بورڈ آفس پر ختم ہوتا تو صحیح معنوں میں یہاں کے لوگوں کی جان چنگ چی رکشوں سے چھوٹ جاتی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اورنگی کے باقی ماندہ علاقوں سے مسافر ٹاؤن میونسپل آفس تک کیسے پہنچیں گے؟ کیا سندھ حکومت ان علاقوں سے لوگوں کو لانے کے لئے ’’فیڈر بس سروس‘‘ بھی چلائے گی؟ کیا واقعی لوگ پہلے چنگ چی رکشوں میں بیٹھ کر میونسپل آفس اتریں گے اور پھر اورنج لائن پر بیٹھ کر بورڈ آفس پہنچیں گے اور پھر وہاں سے آگے کوئی دوسری گاڑی لینے کو ترجیح دیں گے یا پھر ایک ہی کرائے میں چنگ چی کے ذریعے سیدھا بورڈ آفس پہنچ جائیں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر منصوبہ شروع کرنے سے قبل غور کیا جانا چاہیئے تھا۔ بہرحال اب بھی اگر اس منصوبے کو اورنگی کے دیگر علاقوں تک وسعت دے دی جائے تو ایشیاء کی سب سے بڑی کچی آبادی کہلانے والے اس ٹاؤن کے لوگوں کی آمد و رفت کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہوسکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 828038
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے