0
Tuesday 19 Nov 2019 16:17

اسلامی ممالک صیہونی اور صلیبی یلغار کا شکار ہیں، دارالعلوم حقانیہ میں تقریب سے مقررین کا اظہارِ خیال

اسلامی ممالک صیہونی اور صلیبی یلغار کا شکار ہیں، دارالعلوم حقانیہ میں تقریب سے مقررین کا اظہارِ خیال
رپورٹ: ایس اے زیدی
 
دارالعلوم حقانیہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں اکوڑہ خٹک نامی علاقہ میں قائم ہے، اس مدرسہ کو مختلف اعتبار سے اہمیت حاصل ہے، اس مدرسہ کا شمار ملک میں دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے اہم ترین مدارس میں ہوتا ہے، اس کے علاوہ افغان طالبان رہنماء ملا عمر سمیت کئی طالبان جنگجووں کا اس درسگاہ میں تعلیم حاصل کرنا، سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے مبینہ قاتلوں کا اس مدرسہ سے تعلق منظر عام پر آنا اور گذشتہ سال قتل ہونے والے معروف مذہبی و سیاسی رہنماء رہنماء مولانا سمیع الحق جیسی شخصیت کا سرپرستی کرنا، اس مدرسہ کو انفرادیت بخشتا ہے۔ ادارے کی ٹیم نے لگ بھگ ۸ سال قبل دارلعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا دورہ کیا تھا، جہاں مولانا سمیع الحق صاحب کیساتھ خصوصی ملاقات و انٹرویو سمیت کافی وقت مدرسہ میں گزارا گیا، اس موقع پر ٹیم کی بھرپور مہمان نوازی کی گئی اور اسے مدرسہ کے تمام شعبہ جات کا وزٹ بھی کرایا گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان طالبان سمیت کئی شدت پسند گروہ دارالعلوم حقانیہ کو روحانی حیثیت دیتے ہیں اور مولانا سمیع الحق کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، جبکہ مولانا سمیع الحق بھی افغان طالبان کو اپنے بچے قرار دیتے تھے، تاہم مولانا سمیع الحق مرحوم نے ہمیشہ ملک میں فرقہ واریت کی مخالفت کی، اور وہ پاکستان میں دہشتگردی کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔
 
دارالعلوم حقانیہ میں گذشتہ روز طلبہ میں تقسیم انعامات کی ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مدرسہ کے مختلف شعبوں اور درجات کے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات دئیے گئے، اس موقع پر دارالعلوم حقانیہ سے منسلک تمام شعبوں درس نظامی، شعبہ حفظ و تجوید، فقہ افتاء اورحدیث کے سپیشلائزیشن (تخصص) شعبہ حقانیہ ہائی سکول شعبہ کمپیوٹر کے طلبہ موجود تھے۔ دارالعلوم حقانیہ کے ہال ایوان شریعت میں منعقدہ اس تقسیم انعامات کی تقریب میں ہزاروں طلبہ اور علماء نے شرکت کی۔ تقریب سے خصوصی خطاب دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور وفاق المدارس کے نائب صدر مولانا انوار الحق اور جمعیت علماء اسلام اوردفاع پاکستان کونسل کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی نے کیا۔ جبکہ مولانا محمد ادریس، مولانا راشد الحق، مولانا حافظ شوکت علی، مفتی غلام قادر، مفتی مختاراللہ، مولانا سلمان الحق، مولانا عرفان الحق، مولانا لقمان الحق، مولانا سعید الرحمان، مولانا فیض الرحمان، مولانا ظفر الحق، مولانا اسامہ سمیع اور دیگر اساتذہ بھی شریک تھے۔ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور وفاق المدارس کے نائب صدر مولانا انوار الحق نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ مغرب کی اسلام دشمن قوتیں اور مسلمانوں کے لبرل اور سیکولر دانشورحکام اور سیاستدان، دینی مدارس کی آڑ میں اسلام سے اپنی نفرت، بغض اور خبث باطن کا اظہار کررہے ہیں اور یہ آج کے روشن خیالوں کا ایک فیشن بن گیا ہے۔ ان چیلنجوں کا نشانہ مسلم امہ کے جرنیل، حکمران سیاسی پارٹیوں اور نام نہاد جمہوری اداروں کے پارلیمنٹ اور اسمبلیاں نہیں ہیں کیونکہ یہ سب اسلام دشمن قوتوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، اصل نشانہ دینی مدارس کا نظام اور نصاب تعلیم ہے۔
 
ان کا مزید کہنا تھا کہ مدارس دہشتگردی اور انتہاء پسندی نہیں بلکہ اسلام کے امن و سلامتی پر مبنی تعلیمات پھیلا رہے ہیں اور عالمی دہشتگرد ان تعلیمات کو اپنے مذموم مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ تقریب سے نائب مہتمم جامعہ حقانیہ اور جمعیت علماء اسلام اوردفاع پاکستان کونسل کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نسبی اور روحانی والد قائد جمعیت و قائد تحریک ناموس رسالت (ص) مولانا سمیع الحق شہید  کا خون ہم رائیگاں نہیں جانے دیں گے، اسلام کے فطری اصولوں اور دشمن کے واویلا اورپروپیگنڈے کی وجہ سے لوگ اسلام کی طرف بڑی تیزی سے راغب ہورہے ہیں اور دشمن کے دبانے سے یہ مزید ابھرتا جارہا ہے۔ اس وقت ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کو جو چیلنجز اور مشکلات درپیش ہیں اس کا مقابلہ طلبہ نے کرنا ہے۔ مولانا حامد الحق نے کہا کہ علماء اور دینی قوتوں کو قوم کے سامنے ملک کو غیرملکی تسلط اور اس کے نتیجہ میں پیدا شدہ شدید بحرانوں سے نکالنے کے لئے واضح لائحہ عمل رکھنا چاہیے۔ قوم کی رہنمائی اور عملاً جدوجہد کا آغاز سب کا فریضہ ہے اس وقت اسلام کے دفاع اور پاکستان کے استحکام کے لئے عملی جدوجہد کے آغاز میں مزید ترددّ اورانتظار ہمیں ایسی تباہی سے دوچار کرسکتی ہے، جس کی تلافی ناممکن ہوگی۔
 
مولانا حقانی نے کہا کہ عالم اسلام کے حکمران اگر بڑی طاقتوں کی غلامی سے نکل کر موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی کرلیں اور عسکریت پسندوں سے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں تو آج ہی دہشت گردی کے سارے واقعات ختم ہوسکتے ہیں۔ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی بڑھکیں ماری جارہی ہیں جبکہ مسئلہ کا واحد اور آخری حل غیروں کے مفادات کے لئے جاری جنگ سے علیحدگی ہے اورپارلیمنٹ کی قراردادیں اس سلسلہ میں واضح رہنمائی کررہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کی تو آئندہ ملک کا کوئی بھی حصہ امریکی حملوں کی زد میں آسکتا ہے۔ دہشت گردی کا دینی مدارس سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے اور نہ ہی مدارس دینیہ میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ دہشت گردی کی آڑ میں مدارس کو بدنام کیا جارہا ہے اور بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں۔ مولانا حامدالحق حقانی نے کہاکہ مولانا سمیع الحق شہید کا جو نظریہ اورمشن تھا وہ اسلام دشمن قوتوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا تھا، اورانہی قوتوں نے مولانا کو شہید کردیا لیکن یہ ان کی بھول ہے، مولانا سمیع الحق کے مشن پر لاکھوں چلنے والے موجود ہیں جو آخری سانس لینے تک ان کے مشن اور نظریہ کا پرچار کرتے رہیں گے۔
 
مولانا حقانی کہا کہ سازشی عناصر ملک کے امن کو تباہ کرنے میں مصروف ہیں جبکہ ہمارے ملک کے سیاستدان اقتدار کی رسہ کشی میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ سیاست سے بالاتر ہوکر ملک کو امریکی تسلط اورغلامی سے نکالیں۔ مولانا حامد الحق حقانی نے کہا کہ اسلامی ممالک پر صیہونی اور صلیبی یلغار درحقیقت اسلامی انقلاب کا راستہ روکنے کیلئے ہے، اسی خطرہ کی وجہ سے افغانستان، عراق، شام، لیبیا وغیرہ کو تباہ کیا گیا اور آج پاکستان اسی وجہ سے امریکی سازشوں کا شکار ہے جبکہ ہمارے مسائل کا حل حکومتوں کی تبدیلی میں نہیں نظام کی تبدیلی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر، تیونس اورشام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں حکمران تبدیل کردئیے گئے مگر وہی فسطانی اور طبقاتی نظام جوں کے توں قائم ہیں، جو غیر اسلامی مغربی سانچوں میں ڈھلی ہوئے ہیں، جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ملا۔ تقریب کے آخر میں وطن عزیز، مولانا سمیع الحق کی مغفرت اور امت مسلمہ کیلئے خصوصی طور پر دعا کی گئی۔
 
خبر کا کوڈ : 828040
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے