0
Thursday 21 Nov 2019 22:19

ایران و عراق میں پر تشدد مظاہرے کیوں؟

ایران و عراق میں پر تشدد مظاہرے کیوں؟
تحریر: طاہر یاسین طاہر

بہ ظاہر اسے اتفاق کہا جا رہا ہے کہ بہت سے اسلامی ممالک میں ایک ہی وقت میں پر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں، لیکن ایسے اتفاقات کے پیچھے باقاعدہ کئی سالوں کی "محنت" اور کہیں کہیں عوامی "کتھارسس" بھی ہوتی ہے۔"محنت" والے اپنا کام نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ "کتھارسس" والے اپنا غم و غصہ نکال کر پھر سے اپنے ملک کی حفاظت اور اپنی سرزمین پر نچھاور ہونے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ عالمی سیاسی انگڑائیوں، بالخصوص مشرق وسطیٰ اور خلیج کی پٹی والی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار جانتے ہیں کہ حکومتوں کے خلاف ہونے والے مظاہرے مہنگائی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بے روزگاری، جمہوریت اور ایسے ہی نعروں سے شروع کیے جاتے ہیں۔ کوئی عقل سے عاری شخص ہی ان عوامی مطالبات کورد کرنے کے لیے منطق کے دروازے کھٹکھٹائے گا۔ بہ ظاہر یہ بہت سیدھے سادے مطالبات ہیں اور پر کشش بھی۔ عوام کا یہ حق بھی ہے کہ وہ اپنی حکومتوں سے اپنے لیے رعایت مانگیں۔ ایک مختصر کالم میں پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی تاریخ اور اس پر جمی استعماری نگاہوں کا تجزیہ ممکن نہیں۔ البتہ ان ہنگاموں اور مظاہروں کی اصلیت اور اہداف پر جزوی بات ضرور کی جا سکتی ہے۔ بے شک عراق، ایران ،اور لبنان میں ہونے والے مظاہروں کے اثرات دیگر عرب ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی پڑیں گے۔

ترکی نے کردوں کے خلاف شام کے اندر گھس کر جس طرح کارروائی کی اور حالیہ دنوں میں اسرائیل نے شام میں ایرانی اہداف کو جس طرح ٹارگٹ کیا، یہ بجائے خود ایک معنی خیز واقعہ ہے۔ بالخصوص ایران و عراق میں پھوٹنے والے حکومت مخالف مظاہروں کے وقت یہ کارروائی مظاہرین کو ایک طرح کی کمک پہنچانے کے مترادف ہے۔ لبنان میں جب عوامی مظاہروں نے شدت پکڑی تو لبنانی وزیراعظم سعد الحریری نے استعفیٰ دے دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ لبنانی وزیراعظم نے بہتر سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ اس سے یہ ہوا کہ مظاہرین نے وزیراعظم کے استعفیٰ کو اپنی فتح قرار دیا اور مزید "پیش قدمی" سے رک گئے۔ حالانکہ لبنان میں اب بھی اسی جماعت کی حکومت ہے، جس کی نمائندگی سعد الحریری کر رہے تھے۔ لبنان میں حزب اللہ بھی ایک طاقتور سیاسی فریق ہے۔ جس کی سیاسی و عسکری قوت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، یہ وہی حزب اللہ ہے جس نے غالباً 2006ء میں لبنان میں اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے تھے۔ امریکی دستاویزات میں حزب اللہ کو دشت گرد عسکری تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ امریکہ نے ایسا کیوں کیا؟۔

عراق میں اربعین سے پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کرپشن کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ مگر آیت اللہ سیستانی سامنے آئے اور انھوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ "اربعین کے احترام" میں مظاہرے روک دیں۔ مظاہرین کی قیادت نے آیت اللہ سیستانی کی آواز پر لبیک کہا اور اربعین کے احترام میں مظاہرے روک دیے۔ یوں دنیا بھر سے کم و بیش تین کروڑ افراد اربعین پر، نجف اشرف سے پیدل چلتے ہوئے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے روضہ اقدس پر حاضر ہوئے اور پرسہ دیا۔ اربعین کے فوری بعد کربلا سمیت اہم شہروں میں مظاہرین نے انگڑائی لی۔ کچھ زائرین کو عراق سے نکلنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن جب تک مظاہروں کی لہر زور پکڑتی تقریباً اربعین کے سارے زائرین عراق سے نکل کر اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہو چکے تھے۔ اب عراق ایک بار پھر تشدد کی نئی راہوں پر ہے۔ گذشتہ سے پیوستہ روز کی خبر ہے کہ مظاہرین نے اہم ترین بندرگاہ "ام القصر" جسے بعض میڈیا نے "ام القیصر" بھی رپورٹ کیا ہے، پر قبضہ کر لیا۔ یہ عراق کی اہم ترین بندرگاہ ہے جہاں سے عراق اجناس وغیرہ درآمد کرتا ہے اور تیل کی ترسیل میں بھی اس بندرگاہ کا اہم حصہ ہے۔

یوں عراق ایک بار پھر سول نافرمانی کی طرف نکل پڑا ہے۔ اس امر میں کلام نہیں کہ عراق میں اس وقت امریکہ سمیت کئی عالمی و مقامی قوتیں سرگرم ہیں۔ عراقی عوام نے بھی کیا قسمت پائی ہے، صدام سے جان چھوٹی تو امریکہ نے آلیا، امریکہ نے اپنا شطرنج چال چلی اور داعش کو عراق میں "ایجاد" کیا، اس ایجاد میں ترکی سمیت کئی عرب ممالک کا بھی حصہ موجود ہے۔ داعش کو شکست ہوئی تو اب خانہ جنگی نے آن لیا۔ میری نظر میں عراق ایک بار پھر خانہ جنگی کا شکار ہو گا اور مختلف گروہ اپنی اپنی عسکری قوت کا اظہار کریں گے، یہاں تک کہ امریکہ پھر سے براہ راست مداخلت نہ کر لے، یا داعش پھر سے کارروائیاں نہ شروع کر دے۔ عراق و لبنان کے مظاہروں کی حدت ایرانی سرحدوں میں بھی داخل ہوئی۔ ایرانی حکومت نے جونہی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو ایران کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف پر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حکومت کی طرف سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی حمایت کی ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے ایران کے سرکاری بینک سمیت کئی بینکوں کو آگ لگا دی، املاک کو نقصان پہنچایا۔

جبکہ سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں 20 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، نیز 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پر تشدد مظاہروں کے باعث ایران میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے، اور صرف سیکیورٹی اہلکاروں اور دیگر اہم اداروں کی انٹرنیٹ تک رسائی باقی ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ احتجاج عوام کا حق ہے، لیکن کسی کو عوامی زندگی یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایران نے ان مظاہروں کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ قرار دیا ہے، اور اس کو تقویت یوں ملتی ہے کہ امریکی اہم عہدیدار نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ امریکہ مظاہرین کے ساتھ ہے، یعنی ان مظاہرین کے ساتھ جو سرکاری املاک کو جلا رہے ہیں اور اپنے مطالبات کےحق میں مذاکرات کے بجائے تشدد کی رواہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ ایران میں حکومت نے گذشتہ ہفتے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ اس اعلان کے مطابق "ایران میں ہر شخص اگر ماہانہ 60 لیٹر تیل خریدے گا تو اسے پچاس فیصد اضافی قیمت ادا کرنی ہو گی لیکن اگر اس نے 60 لیٹر سے زیادہ پیٹرول خریدا ہے تو اسے دو سو فیصد اضافی قیمت ادا کرنی ہو گی۔ یاد رہےگذشتہ سال مئی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر اضافی اقتصادیاں پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس سے ایران کی معیشت متاثر ہوئی ہے"۔

اس کمزور معیشت کو سہارا دینے کے لیے ایرانی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا، جس کے ردعمل میں پر تشدد مظاہرے ہونے لگے۔ لیکن کیا یہ مظاہرے ان مظاہروں کا "پارٹ ٹو" ہیں، جنھیں 2011ء میں "عرب بہار" کا نام دیا گیا تھا؟ اگر ایسا ہی ہے تو اب کی بار ہدف ایران کے ساتھ پاکستان بھی ہو سکتا ہے؟ کیونکہ پاکستان میں بھی مہنگائی اور بے روزگاری کے نام پر ایک "دھرنا" ہو چکا ہے، جو بے نتیجہ رہا، لیکن کیا خبر آئندہ کا منظر نامہ کیا ہو؟۔ عالمی اقتصادی و عسکری طاقتیں مشرقِ وسطیٰ میں اپنے وسیع تر معاشی و سیاسی مفادات کے لیے کہیں نہ کہیں آگ سلگائے رکھیں گی۔ افغانستان میں طالبان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟۔ بالکل سامنے ہے کہ ابھی افغانستان میں امن کی فاختہ پرواز نہیں کرے گی، بلکہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ دھماکے بھی ہوتے رہیں گے، عراق کے حالات خانہ جنگی کی طرف رخ کر چکے ہیں، جبکہ ایران اپنے مظاہرین کو قابو کرنے لیے گرفتار 200 افراد سے ہونے والی تحقیقات سے سنسنی خیز انکشافات کرے گا۔ اس سارے منظر نامے میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟۔ یہ ایک اہم سوال ہے جس پر مقتدر حلقے یقیناً غور کر رہے ہوں گے، ایرانی صدر اور اہم عسکری شخصیات کی پاکستانی آرمی چیف سے ملاقات ہو چکی ہے، جو خطے میں استعماری سازشوں کو روکنے کے لیے اہم تصور کی جا رہی ہے۔
 
 
خبر کا کوڈ : 828362
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب