0
Friday 22 Nov 2019 06:49

آرمی چیف کا دورہ ایران اور خطے کی بدلتی صورتحال

آرمی چیف کا دورہ ایران اور خطے کی بدلتی صورتحال
تحریر: ارشاد حسین ناصر
 
پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے وفد کے ہمراہ اسلامی جمہوری ایران کے دورے پر تشریف لے گئے تھے، اس دورے کو پاکستان، ایران اور خطے کے حالات کے تناطر میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہ دورہ ایران سعودیہ تعلقات میں بہتری کیلئے تھا یا خطے کی بدلتی صورتحال میں دونوں برادر، دوست ہمسائے ملکوں کے مابین عسکری و علاقائی امور میں اعتماد سازی اور تعاون کی راہیں نکالنے کی کوشش؟۔ اس بارے جاننے کی کوشش کریں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی جنرل قمر جاوید باجوہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بھی اپنے وفد کے ہمراہ ایران کا سرکاری دورہ کر چکے ہیں۔ ان دوروں میں دونوں برادر دوست اور ہمسایہ ممالک میں بہت سے معاملات پر کھل کے گفتگو رہی ہے اور ان تعلقات کو مزید پختہ و مضبوط بنانے کیلئے ان میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی بات بھی ہوتی رہی ہے، بہت سے میڈیا ہائوسز جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ دورے کو ایران سعودیہ تنائو کم کرنے اور دونوں اسلامی ممالک کے درمیان صلح کروانے سے جوڑتے نظر آئے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ؎
اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا
 
لا ریب پاکستان سعودیہ و ایران کا مشترک دوست اور گہرے تعلقات کا حامل ملک ہونے کی حیثیت سے اہمیت رکھتا ہے مگرپاک ایران تعلقات اور باہمی معاملات میں بہتری،نیز تجارت کا حجم بڑھانے جیسے اہم معاملات دونوں ممالک کی ترجیح ہونے چاہیئے،بالخصوص ایران نے پاک ایران گیس پائپ لائن کو پاکستان کی سرحد تک پہنچا رکھا ہے جس میں ہم ایک معاہدے کے پابند بھی ہیں ،جبکہ عملی طور پہ اس معاہدے کی عدم تکمیل اور اپنا کام نا کرنے کی وجہ سے ایران یہ حق رکھتا ہے کہ اس حوالے سے عالمی عدالت میں جائے اور مقررہ جرمانے کا دعویٰ کرے مگر برادرانہ تعلقات کے باعث ایران نے اب تک اس سے گریز کیا ہے،جبکہ یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ امریکہ اور سعودیہ نے پاکستان کو اس معاہدے سے باز رکھنے کیلئے پوری کوشش کی اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کی صورت میں ڈرایا اور دھمکایا،انرجی کا حصول پاکستان کی بنیادی ترین ضروریات میں سے ہے ایران پاکستان کا قریب ترین ہمسایہ ہے جس کے پاس بجلی،گیس اور تیل وسیع مقدار میں موجود ہے جو ایران کئی ممالک حتیٰ یورپی ممالک کو بھی فراہم کرتا ہے۔

مگر پاکستان کو اندھیروں میں رکھنے کی سازش کرنے والے پاکستان کے ایران سے قریبی تعلقات کو ہمیشہ خراب کرنے کی سازشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں اصولی موقف کو اپنانے کی داغ بیل ڈالنا ہوگی، تب ہی ہم ایک آزاد و خود مختار ملک اور ریاست کہلا سکتے ہیں۔ اگر ہم اپنے برادر ہمسایہ ممالک کیساتھ تعلقات میں بھی آزاد نہیں تو پھر یہ مملکت کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی۔ اس لیے کہ عالمی طاقتیں ہمیں ترقی سے باز رکھنے کیلئے اور اپنا زیر نگیں رکھنے کیلئے مختلف طریقوں سے کنٹرول کرنے کی کوشش میں رہتی ہیں۔ کبھی کسی اسلامی ملک کے ذریعے تو کبھی کسی عربی ملک کے ذریعے، کبھی ہمارے ملک میں دہشت گردی کو فروغ دے کر اور کبھی عالمی سطح کی دہشت گرد تنظیموں کو لانچ کر کے، حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کی ترقی کا پہیہ جام رکھنے کیلئے ہمارے دشمنوں نے کئی طرح کی سازشیں کی ہیں۔ جن کے بارے ہم سوچ بھی نہیں سکتے اور جو ہمارے عوام کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوسکتیں۔ اسلامی جمہوری ایران کیساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہے کہ اس کی ترقی کا پہیہ روکنے اور اسے دنیا کیساتھ مقابلے میں پیچھے رکھنے کیلئے چالیس سال سے سخت ترین پابندیوں کا سامنا ہے، اس کے باوجود ایران نے ہر میدان میں ترقی کی شاندار مثالیں قائم کی ہیں۔
 
ایران کو پاکستان اور افغانستان کیساتھ اپنی سرحد پر سمگلنگ کا بہت سخت چیلنج درپیش ہے۔ بالخصوص منشیات کی اسمگلنگ ایک بڑا ایشو ہے، اس مسئلہ پر پاکستان اور ایران مل کر کام کر رہے ہیں اور انسانیت کے دشمنوں کے خلاف ان کی کاروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اسیطرح دہشت گردی جو آج بھی دنیا کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے یہ دونوں ممالک اس سے نمٹنے کیلئے آہنی عزم رکھتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار چلا آ رہا ہے، جبکہ ایران کے دشمن بھی دہشت گردی کو ایران میں منتقل کرنے کی بھرپور کوششیں اور سازشیں کرتے آئے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کیساتھ اپنی طویل سرحد پر باڑ لگانے کا کام کافی حد تک مکمل کر لیا ہے، جس سے دہشت گردی جیسے اہم مسئلہ پر تینوں ممالک کی باہمی شکایات میں کمی واقع ہو گی۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو یہ کریڈیٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ایران کیساتھ اپنے فوجی و عسکری تعلقات کیساتھ ساتھ دیگر معاملات میں بھی بہتری کی بھرپور کوششیں کیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں اضافہ ہوا۔ ایران کی اعلیٰ ترین عسکری قیادت اور صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی کیساتھ ان کی حالیہ ملاقاتین یقینا اس اعتماد سازی کا بین ثبوت ہیں۔

ہمارے خیال میں پاکستان اگر بیرونی دبائو سے نکل جائے اور اپنے مفادات کو خطے کے ممالک نیز اسلامی ممالک بالخصوص ترکی، افغانستان، ایران اور چین سے مل کر آگے بڑھے تو ہمارے کئی مسائل جلد حل ہو سکتے ہیں۔ افغانستان میں الیکشن اور طالبان کیساتھ امریکہ کے مذاکرات بھی بڑا اہم ایشو ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ حالیہ دنوں میں امریکی و آسٹریلوی پروفیسرز کی طالبان سے رہائی اور اس کے بدلے طالبان کے اہم کمانڈروں من جملہ حقانی نیٹ ورک جس کو پاکستان کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، کے اہم کمانڈرز کی رہائی بھی عمل میں آئی ہے، اس کے بعد طالبان اور امریکہ کے درمیان دوبارہ سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو نے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ یہ سارے معاملات پاکستان، ایران اور خطے کی سیکیورٹی کیساتھ جڑے ہوئے ہیں جن پر دونوں ملکوں کاا عتماد ہوگا تو بات چیت آگے بڑھ سکے گی۔ بہرحال ہم اس دورے کو پاکستان، ایران اور خطے کیلئے نیک شگون سمجھتے ہوئے مزید آگے بڑھ کے اقدامات کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اللہ کرے اعتماد کا یہ رشتہ مزید آگے بڑھے اور خطہ جنگ زدگی سے نکل کے ترقی کی شاہراہ پر چلتا نظر آئے۔
خبر کا کوڈ : 828389
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب