0
Friday 22 Nov 2019 22:22

پھر سے صدارتی نظام کی بحث

پھر سے صدارتی نظام کی بحث
تحریر: ثاقب اکبر
 
ان دنوں پاکستان میں ایک مرتبہ پھر پارلیمانی نظام کے مقابلے میں صدارتی نظام کی بحث شروع ہو چکی ہے۔ ملک میں گاہے گاہے یہ بحث سر اٹھاتی رہتی ہے۔ ماضی میں بھی اس کے دورے پڑتے رہے ہیں۔ اس وقت پھر اس بحث کو اٹھایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں عموماً یہ سوال کیا جاتا ہے کہ یہ بحث کس کے ایماء پر اور کس کے فائدے میں ہو رہی ہے۔ بہت سے لوگوں کی رائے ہے کہ اس کے پیچھے اسٹیبلشمینٹ ہے۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسٹیبلشمینٹ بلاواسطہ ملکی نظام اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے یا موجودہ حکومت کی کامیابی کے لیے اسے ضروری سمجھتی ہے، جس کے ساتھ اس کے مثالی تعلقات کہے جاتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فارسی محاورے ’’کاسہ گرم تراز آش‘‘ یعنی پیالہ شوربے سے زیادہ گرم ہے، کے مطابق حکومت یا اسٹیبلشمینٹ کے بعض کاسہ لیس خواہ مخواہ اس بحث کو اٹھا رہے ہوں۔ بہرحال بحث خاصی گرما گرم ہے۔ ایک طرف پاکستان میں سردی بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف ایسی بحثیں گرم سے گرم تر ہوتی جارہی ہیں۔ شاید بعض لوگ اپنی سردی کا علاج اس طرح چائے کی پیالی میں طوفان اٹھا کر کرنا چاہ رہے ہیں۔ 
 
دنیا کے مختلف جمہوری ممالک میں صدارتی نظام موجود ہے اور کئی ممالک میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ بعض مسلمان ملکوں میں بھی صدارتی نظام کامیابی سے چل رہا ہے۔ اس وقت امریکا اور فرانس میں صدارتی نظام موجود ہے۔ مسلمان ممالک میں ترکی اور ملائیشیا میں بھی صدارتی نظام موجود ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ترکی میں پارلیمانی نظام تھا جس میں زیادہ تر اختیارات وزیراعظم کے ہاتھ میں تھے، بعدازاں موجودہ صدر رجب طیب اردگان نے اس نظام کو عوام کی رائے سے تبدیل کر لیا، لیکن انھیں اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑا۔ انھوں نے پہلے وزیراعظم رہتے ہوئے ترکی کو ترقی کا ایک ماڈل بنا کر دکھایا۔ گویا انھوں نے اپنی ذاتی کارکردگی کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کیا اور پھر ملک کے نظام کو پارلیمانی سے صدارتی میں تبدیل کر لیا۔ ایران میں بھی ایک طرح سے صدارتی نظام قائم ہے، اگرچہ وہ جوہری اعتبار سے دیگر ممالک میں موجود نظاموں سے مختلف ہے۔ بہرحال وہاں صدر عوام کے بلاواسطہ ووٹ سے منتخب ہوتا ہے اور پھر اپنی کابینہ کی منظوری منتخب پارلیمان سے حاصل کرتا ہے۔ 
 
پاکستان کے لیے بھی بعض مبصرین کی رائے کے مطابق یہ نظام بہتر ہے اور کہا جاتا ہے کہ بلاواسطہ با اختیار منتخب صدر نسبتاً آزادی سے فیصلے کر سکے گا۔ پاکستان میں ماضی میں فوجی حکومتوں کے زمانے کو صدارتی دور قرار دیا جاتا ہے اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ملک میں انہی ادوار میں ترقی ہوئی ہے۔ تاہم ہماری رائے میں فوجی آمروں کے دور کو صدارتی نظام حکومت کہنا درست نہیں۔ صدارتی نظام حکومت اگر جمہوری بنیادوں پر ہو تو صدر ایک آمر نہیں ہوتا، منتخب اداروں کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔ اسے جوابدہی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اپنی کابینہ کی منظوری پارلیمان سے لینا پڑتی ہے۔ اس وقت امریکی صدر ٹرمپ پارلیمان کی طرف سے ایک مواخذے سے گزر رہے ہیں، کئی سابقہ صدور کو بھی پارلیمان کی طرف سے مواخذے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کئی ایک کو مواخذے کے بعد برطرف بھی کیا جا چکا ہے، لہٰذا جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صدارتی نظام میں صدر کاملاً خود مختار ہوتا ہے، وہ پھر کسی آمریت کی بات کررہے ہوتے ہیں، جمہوری نظام حکومت کے صدر کی بات نہیں کررہے ہوتے۔  
 
بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان کے آئین میں بنیادی تبدیلیاں کر کے اس کی صوبائی اسمبلیاں ختم کر دی جائیں، اس طرح بہت سے اخراجات بھی ختم ہو جائیں گے اور تمام صوبوں کے گورنر ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کریں گے اور وہ صدر کی راہنمائی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ اس تجویز میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا صوبے ختم کر دیے جائیں گے، یعنی ون یونٹ قائم کیا جائے گا؟ ہمیں نہیں لگتا کہ کوئی ایسا احمقانہ فیصلہ کیا جائے گا یا پھر جیسا ہم نے اوپر کہا ہے کہ صوبائی اسمبلیاں ختم کرکے صوبوں میں با اختیار گورنر لگائے جائیں گے، جو ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کریں گے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ماضی کے تجربات کو سامنے رکھا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ مضبوط مرکز کا نعرہ پاکستان میں پہلے ہی بہت برے نتائج پیدا کر چکا ہے۔ ہر علاقے کے عوام کو حکومتی معاملات میں شرکت کا احساس دلانا ہوگا۔ اس کے لیے چھوٹے اور با اختیار صوبے بنانے کا نظریہ بہت سے لوگ پیش کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے بعض علاقوں میں الگ صوبہ بنانے کی تحریکیں ماضی میں بھی چلتی رہی ہیں اور اب بھی موجود ہیں۔

موجودہ حکومت تو جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ کرکے برسراقتدار آئی ہے۔ کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی تحریک بھی زور و شور سے چلتی رہی ہے۔ ہزارہ صوبے کی تحریک بھی موجود ہے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ ملک کے مختلف علاقوں کے عوام میں الگ صوبے کی خواہش موجود رہی ہے اور اب بھی ہے۔ صوبوں کی موجودہ حدود کوئی آسمانی فیصلہ نہیں ہیں، ان میں حسب ضرورت تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ بھارت میں آزادی کے بعد کئی نئے صوبے بنائے جا چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بعض سیاسی جماعتیں اپنے اختیار و اقتدار کے دائروں کو قائم رکھنے کے لیے بعض علاقوں میں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرتی ہیں جب کہ یہی جماعتیں دوسرے علاقوں میں نئے صوبوں کے لیے تحریک چلاتی ہیں، یہ مفادات کی سیاست کا نتیجہ ہے ورنہ اگر ملک اور عوام عزیز ہو ں تو پھر ایسی منافقت کی گنجائش نہیں رہتی۔ البتہ جن پارٹیوں کو خاص خطوں میں عصبیت کی طاقت حاصل ہے، ان کے نقطۂ نظر کو اس وقت تک نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جب تک عوام کی اکثریت کی رائے تبدیل نہ ہو جائے۔
 
فوجی آمر عام طور پر بااختیار بلدیاتی اداروں پر زور دیتے رہے ہیں۔ اس ضرورت کا انکار ہماری سیاسی جماعتیں بھی نہیں کرتیں کہ با اختیار بلدیاتی ادارے ہونا چاہئیں اور مقامی سطح پر منتخب افراد کے ہاتھ میں اپنے علاقے کی ترقی کے لیے کردار ادا کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ وسائل کی تقسیم بھی اسی ضرورت کے مطابق کی جانا چاہیے۔ ہمارا موجودہ آئین بھی یہی تقاضا کرتا ہے تو پھر کیوں نہ ان پہلوؤں کی طرف توجہ دی جائے۔ تحریک انصاف اس سلسلے میں بہت بلند بانگ دعوے کرتی رہی ہے۔ مرکز میں اس کی سوا سال سے زیادہ کی حکمرانی کے باوجود ابھی تک بلدیاتی اداروں کے قیام کے لیے اس کے وعدوں کے ایفا کا انتظار ہے، اس کے لیے اسے اپنی ترجیح بنائے بغیر کوئی چارا نہیں۔ دوسری طرف کوئی ایسا اقدام کرنا جس سے ملکی سالمیت کے لیے کوئی خطرہ پیدا ہوجائے حماقت ہی کہلا سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ آئین میں تبدیلی  کے لیے تین چوتھائی کی تعداد چاہیے اور یہ تعداد مہیا کرنے کے لیے صدارتی نظام کے حامی مختلف جمع تفریق کرتے رہتے ہیں اور مختلف تجاویز پیش کرتے رہتے ہیں۔

لیکن اتنا بڑا قدم اٹھانے کے لیے ملک میں عمومی اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔ کسی خاص خطے یا کسی بڑی سیاسی پارٹی کی رائے کو بلڈوز کرکے بھاری اکثریت کے نام پر آئینی تبدیلی کے منفی اثرات برآمد ہوں گے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ اس وقت اس گورکھ دھندے کو چھیڑنے سے بہتر ہے کہ موجودہ حکومت اچھی حکمرانی کا نمونہ بننے کی کوشش کرے اور موجودہ حالات ہی میں ترقی اور استحکام کے لیے مختلف راہیں تلاش کرے۔ اس وقت حکومت کے مطابق معاشی عشاریے بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسی طرح حکومت کے ترجمانوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ آئندہ برسوں میں پاکستان کے معاشی حالات مزید بہتر ہو جائیں گے۔ نیز عوام کی زندگی میں بھی بہتری اور خوشحالی آئے گی۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو پھر حکومت کو چاہیے کہ صدارتی نظام جیسی بحثوں کی حوصلہ شکنی کرے۔ اگر یہ تاثر پختہ ہو جائے کہ یہ بحث حکومتی ایوانوں میں موجود عناصر کی طرف سے چلائی جارہی ہے تو پھر اس کا مقصد یہ سمجھا جائے گا کہ اصل موضوع سے نظریں ہٹانے کے لیے موجودہ تناظر میں ایسی لایعنی بحثوں کو رواج دیا جارہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 828515
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب