0
Monday 25 Nov 2019 10:16

امریکہ کی کھلی مداخلت

امریکہ کی کھلی مداخلت
اداریہ
امریکہ دنیا پر اپنی حاکمیت ثابت کرنے کے لیے مختلف حرکتیں کرتا رہتا ہے۔ دوسرے ممالک کے سیاسی، ثقافتی، فوجی اور اقتصادی معاملات میں کھلی مداخلت امریکہ کا وطیرہ رہا ہے۔ امریکہ کا ماضی اس حوالے سے سیاہ اور تاریک ہے۔ اس نے کئی ممالک میں سیاسی اور حکومتی تبدیلیاں بھی اسلئے انجام دیں، تاکہ دنیا پر ثابت ہو کہ اس ملک کے اقتدارِ اعلیٰ پر اس کا کس قدر گہرا کنٹرول اور اثر و رسوخ ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارے نے بھی اپنے کئی فیصلوں اور ضابطوں میں دوسرے ممالک کی ارضی سالمیت اور اقتدارِاعلیٰ کو اہمیت دینے پر زور دیا ہے۔ امریکہ نے اپنی ماضی کی روش کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر عراق میں وہاں کی منتخب مرکزی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر عراق کے ایک علاقے میں کھلی مداخلت کا ارتکاب کیا ہے۔

امریکی نائب صدر مائیک پنس نے انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہفتہ کے دن عراقی شہر اربیل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے۔ اربیل میں امریکی نائب صدر نے عراق کے صدر، وزیراعظم یا وزارت خارجہ کو اعتماد میں لیے بغیر عراقی کردستان کی مقامی انتظامیہ کے سربراہ نجیروان بارزانی سے ملاقات کی۔ دوسری طرف امریکہ کے سرکاری ریڈیو نے یہ خبر نشر کی ہے کہ امریکی نائب صدر نے عراقی وزیراعظم کو رائج پرٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انتہائی غیر سفارتی انداز سے عین الاسد ہوائی اڈے پر ملاقات کے لیے بلایا۔ عراقی وزیراعظم عبدالمہدی کیطرف سے اس ملاقات سے انکار ایک فطری اور قانونی ردعمل تھا۔

عراقی وزیراعظم نے دوٹوک انکار کر کے عراقی عوام کی غیرت و وقار کی پاسداری کی ہے اور عراق کے تمام حلقے اس پر خوشی و مسرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں جمہوریت کا ڈھونڈورا پیٹتا ہے اور دوسروں پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگاتا ہے، خود عالمی سفارتی آداب کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے۔ اگر عراق یا کسی اور ملک کے نائب صدر امریکی ریاست کیلی فورنیا پہنچ کر صدر ٹرامپ کو ملاقات کے لیے بلاتے تو امریکی حکومت اور عوام کا کیا ردعمل ہوتا؟۔ امریکی انتظامیہ کی ان حرکات پر بس یہی کہا جا سکتا ہے؎
" آپ اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں"
ہم اگر عرض کرں گے تو شکایت ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 829027
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش