0
Wednesday 27 Nov 2019 13:56

امریکہ کی دہشت گردی کیخلاف جنگ کے حقائق

امریکہ کی دہشت گردی کیخلاف جنگ کے حقائق
اداریہ
امریکی تاریخ کا اگر سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے اور گیارہ ستمبر کے مشکوک واقعہ کے بعد کے حالات کا تجزیہ کیا جائے تو امریکہ کا جو بھیانک چہرہ سامنے آتا ہے اسکو شاید امریکہ کا اصلی باشندہ دیکھنا بھی گوارا نہ کرے۔ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد امریکہ یک قطبی یا یونی پولر نظام کے نفاذ کے پیچھے چل پڑا۔ البتہ اسکے ساتھ ساتھ یہ عمل بھی ضروری تھا کہ ایک فرضی دشمن بھی تشکیل دیا جائے تاکہ یونی پولر نظام کے لیے ہنگامی امداد تک رسائی بھی ممکن رہے۔ فرضی دشمن بنانے کے لیے اسلام کو مقابلے میں کھڑا کیا گیا اور اسلام کا ایک انتہاء پسندانہ اور دہشت گردانہ چہرہ نئے سرے سے تخلیق کیا گیا۔ اسلام امن و آشتی کا دین تھا اور ہے، لیکن اس دین کے انتہاء پسند اندانہ چہرے سے برطانوی سامراج نے ماضی میں خلافت عثمانیہ کے خلاف ایک تاریخی فائدہ اٹھا کر آلِ سعود اور آلِ شیخ کو عرب دنیا پر مسلط کیا تھا۔ خلافت عثمانیہ کے انہدام کے بعد سے لیکر اب تک اسلام کے تکفیری چہرے سے سامراج نے لاتعداد فوائد حاصل کیے۔ نوے کے عشرے میں ایک بار پھر اس نسخے کو مزید بہتر انداز میں استعمال کیا گیا۔

سعودی عرب کے ایک شہزادے، اسامہ بن لادن کو میدان میں اتارا گیا اور دنیا بھر میں، بالخصوص اسلامی ممالک میں موجود اپنے ایجنٹوں اور ریڈیکل سوچ رکھنے والے افراد کو اسکے گرد جمع کیا گیا۔ مصر کی جیلوں میں موجود بعض انتہاء پسندوں کے ذریعے القاعدہ کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیا گیا، جس میں جعلی امریکہ دشمن افراد کے ساتھ ساتھ امریکی جرائم کے مخالف اور حقیقی سامراج مخالف عناصر بھی شامل ہو گئے۔ القاعدہ کو افغانستان سمیت بعض ممالک میں نہ صرف سویت یونین کے خلاف استعمال کیا، بلکہ اسن کے ساتھ ساتھ امریکہ اسلام کے ایک ایسے چہرے کو بھی عالمی سطح پر متعارف کروانے میں کامیاب ہو گیا، جس کو کسی وقت بھی دہشت گرد قرار دینا مشکل نہ تھا۔ نائن الیون کے مشکوک واقعے کو بہانہ بنا کر امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور اس دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ امریکہ کی ایک یونیورسٹی "براؤن" نے جنگی اخراجات" کے نام سے ایک تحقیق اور سروے انجام دیا، جس کو پڑھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ امریکہ نے دنیا پر غلبے کے حصول کے لیے کتنا مالی اور جانی نقصان کیا ہے۔

امریکی یونیورسٹی کی تحقیقات کے مطابق دو عشروں پر مشتمل اس جنگ میں آٹھ لاکھ ایک ہزار افراد لقمہ اجل بنے، جن میں آدھے عام شہری تھے۔ اس جنگ پر 6.4 کھرب ڈالر خرچ ہوئے۔ اس جنگ میں سات ہزار چودہ امریکی فوجی اور 7950 امریکی پرائیویٹ کمپنیوں کے سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس جنگ کے نتیجے میں دو کروڑ ایک لاکھ افراد آوارہ وطن ہوئے۔ یاد رہے ہلاک شدگان کی یہ تعداد وہ تعداد ہے، جو بلاواسطہ گولہ باری، ہوائی حملوں، ڈرون حملوں وغیرہ میں ہلاک ہوئی ہے۔ البتہ یہ تعداد بھی بہت کم کر کے بتائی گئی ہے، ورنہ صرف موصل کی جنگ میں صرف ایک تہائی تعداد اس میں جمع کی جائے تو تعداد بڑھ سکتی ہے۔ البتہ جنگوں میں صرف ایک تہائی تعداد براہ راست ہلاک ہوتی ہے، بقیہ تین چوتھائی بیماریوں، وباؤں، غربت اور دیگر مشکلات کیوجہ سے ماری جاتی ہے۔ گویا اس جنگ میں آٹھ لاکھ ایک ہزار نہیں، بلکہ چار ملین افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔ دو عشروں میں چار ملین انسانوں کی قاتل امریکی حکومت آج کس منہ سے انسانی حقوق کی پاسداری کا دعویٰ کر سکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 829295
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش