1
Friday 29 Nov 2019 19:36

صدامی باقیات کی آگ اور عراق

صدامی باقیات کی آگ اور عراق
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

ایک دوست نے عراق سے ایک تصویر بھجوائی ہے، جس پر لکھا ہے کہ پاکستانیوں، ہندیوں، افغانیوں اور دیگر غیر ملکیوں کے گھروں پر حملے کیے جائیں اور ان کو جلا دیا جائے۔ اس کے بعد پیغام تھا کہ عراق فقط عراقیوں کے لیے ہے۔ ایک اور خبر کے مطابق عراق میں مدرسہ باقرالعلومؑ کو  شرپسندوں  نے حملہ کرکے جلا دیا۔ آیۃ اللہ حکیم کی  تصاویر کو جلایا جا رہا ہے اور اسی طرح بغداد میں ایک مزار پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ میں یہ سب دیکھتے ہوئے حیرت کا اظہار کر رہا تھا کہ عجیب لوگ ہیں، اپنے محسنوں کے خلاف صف آراء ہوچکے ہیں۔ آیۃ اللہ حکیم نے نہ تو عراق پر حکومت کی اور نہ ہی کسی عہدہ پر فائز رہے، ہمیشہ اہل عراق کے لیے آواز بلند کرتے رہے اور ان کا پورا خاندان اور خود بھی عراقیوں کے لیے آزادی کی جدوجہد کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ یہ کیسے لوگ ہیں؟ عراق میں چند ہزار سے زیادہ پاکستانی نہیں ہوں گے، اگر صدامی مظالم سے بھاگے عراقیوں کی پاکستان میں تعداد کو دیکھا جائے تو فقط کراچی میں ہزاروں لوگ مقیم تھے اور پاکستانی انہی عراقی کہہ کر ان کی نہ تو تذلیل نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ان کے گھر جلانے کی بات کرتے تھے۔ نہ ہی ان کا نعرہ پاکستان صرف  پاکستانیوں کے لیے تھا، یہ عراق کی اصل آواز نہیں ہے۔ شیعہ نشین علاقوں میں تباہی پھیلانے اور آگ سے کھیلنے والے یہ لوگ صدام کی باقیات ہیں اور ہم انہیں اور ان کے کاموں کو خوب جانتے ہیں۔

یہ عراق صرف عراقیوں کا نعرہ لگا کر لوگوں کو مرجعیت سے دور کرنا چاہتے ہیں اور عراق کی وحدت سے کھیل رہے ہیں۔ ان لوگوں نے عراق کی سالمیت پر ہر طرح کا حملہ کرکے دیکھ لیا، مگر معرجعیت کی قوت سے ناکام رہے۔ مجھے یاد ہے کہ داعش کے وحشی زمین سے بچھووں کی طرف نکل رہے تھے اور نئی جاپانی ڈاٹسنز پر  اسلحہ لہراتے بغیر روک ٹوک کے ایک شہر سے دوسرے شہر کو فتح کر رہے تھے۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ وہ راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو تباہ و برباد کر رہے تھے۔ عراقی فوج ان کے سامنے ٹھہرنے کی بجائے ان کی سپورٹر کا کام کر رہی تھی۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ صدام کی جو باقیات فوج میں موجود تھیں، انہوں نے ملک و ملت سے غداری کی اور جیسے وہ پہلے امریکہ کو بکے تھے، اب دوبارہ بک گئے۔ یہ داعشی آسمان سے نازل نہیں ہوئے تھے، یہ وہی صدامی فوج کی باقیات تھیں، جنہیں سوائے قتل و غارت کے کسی چیز کی تربیت ہی نہیں دی گئی تھی۔ اب انہیں داڑھی رکھوا کر داعش کے لبادے میں عراقی عوام کے خلاف اتارا گیا تھا۔ سمجھنے کی بات یہی ہے کہ اتنے تربیت یافتہ لوگ دو تین ماہ پہلے معرض وجود میں آنے والی تنظیم کیسے تیار کرسکتی ہے؟ یہ صدامی ہی تھے۔ ان کو حشد الشعبی نے ایسے روکا کہ ان کو بنانے والے بھی حیران تھے کہ انتی بڑی انویسٹمنٹ کے بعد بھی یہ ریت کا ڈھیر ثابت ہو رہے ہیں۔

مجھے یہ بھی یاد ہے کہ کیسے کردوں نے ریفرنڈم کرا لیا تھا؟ اور بڑے طریقے سے عراق سے الگ ہونے کی تیاری کر رہے تھے، وہ کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ کرکوک پر قبضے سے تیل کا پورا روٹ ان کے ہاتھ آگیا تھا۔ مرجعیت نے عراق کو ٹوٹنے سے بچایا۔ حشد الشعبی کی سرپرستی میں عراقی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے کرکوک کو واپس لے لیا۔ میں نے اس وقت لکھا تھا کہ عراق نے اس پوری صورت حال سے کیا حاصل کیا؟ کرکوک پر قبضے نے عراقی حکومت کو خطے اور پوری دنیا میں ایک نئی شناخت دی ہے، اب لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ عراق کی فوج اور وہاں کے ادارے مضبوط ہو رہے ہیں، وہاں فیصلہ کرنے اور اس کو نافذ کرنے کی صلاحیتیں بڑھ رہی ہیں۔ یہ سب کچھ عراق کی مرجعیت کی وجہ سے ہی ممکن ہو تھا۔

ویسے عراق صرف عراقیوں کے لیے ہے، کا نعرہ بھی سوائے جھوٹ اور فراڈ کے کچھ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو حشد الشعبی کے لوگوں پر حملے کس لیے کیے جا رہے ہیں؟ حکیم خاندان کے پوسٹر کیوں پھاڑے جا رہے ہیں؟ اسی طرح بصرہ میں عام ملازمین کی گاڑیوں پر حملے کیوں کیے جا رہے ہیں؟ یہ سب تو عراقی ہی ہیں، یہ سب نعرے دکھانے کے لیے ہیں، اصل ہدف عراق میں افراتفری پھیلا کر صدامی فکر کو دوبارہ عراق میں واپس لانا ہے۔ ہم اس فکر کو پہچانتے ہیں۔ صدام کی حکومت ختم ہوئی بلکہ صدام کے تاریک دور کا عراق سے خاتمہ ہوا تو پوری دنیا کے آزادی پسندوں نے خوشی منائی کہ اب عراق کی عوام کو حق حکمرانی مل جائے گا اور وہ آزادی کا سانس لیں گے۔ صدام کی آمریت کس قدر شدید تھی؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ عراق کے بہت سے لوگ صدام کے مرنے تک یہ خوف رکھتے تھے کہ دوبارہ اس کی حکومت آجائے گی۔ صدام نے نگرانی اور خوف کا ایسا نظام قائم کیا تھا، جس سے بچنا بہت ہی مشکل تھا۔اس لیے پورے ملک میں کہیں بھی کوئی حرکت ہوتی تھی تو اس کی رپورٹ شام کو بغداد پہنچ جاتی تھی۔

صدام کی بعثی پارٹی کا نظامِ تربیت بھی بہت منظم تھا، جس میں پارٹی کے مفادات اور قیادت کو اولیت حاصل تھی۔ عام آدمی کو ذہنی طور پر پارٹی کا وفادار بنا دیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے بھائیوں اور قریبوں عزیزوں کی مخبریاں کیا کرتے تھے۔ اسی کے نتیجے میں وہ ماحول پیدا ہوا، جس میں لوگ خواب میں بھی صدام کے خلاف باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔ یہ بات درست ہے کہ بیروزگاری ہے، یہ بھی تسلیم کہ کرپشن ہے، یہ بھی مان لیتے ہیں کہ حکمران نااہل ہیں، مگر اس سب کے نتیجے میں مرجعیت کو گالیاں کس لیے دی جا رہی ہیں؟ کیا اس کے ذمہ دار ہندی؟ پاکستانی؟ یا افغانی ہیں؟ آپ کے کرپشن کرنے والے عراق ہی کے کچھ لوگ ہیں اور بیروزگاری کے ذمہ دار بھی یہی ہیں۔ اس لیے پرامن احتجاج کریں، یہ آپ کا حق ہے، ایسے نفرت انگیز نعرے لگا کر اپنے اندر چھپی صدامیت کو چنگیزیت کی طرح باہر کیوں نکال رہے ہیں؟ باہر صدامیت ہی نکلے گی، کیونکہ اندر وہی ہے۔ یاد رکھو، جس طرح داعش ناکام ہوئی، تم بھی ناکام ہوگے، جس طرح کردوں کی علیحدگی کے غبارے سے ہوا، نکلی تم بھی نامراد رہو گے، کیونکہ مرجعیت زندہ ہے۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ تم سفارتخانوں کو جلاو گے اور دنیا تمہیں مہذب سمجھے گی؟ نہیں، تم ایک قاتل گروہ سے تعلق رکھتے ہو، جو عراقی عوام کا دشمن ہے اور تمہاری بنیاد نفرت ہے، جس کو دوام نہیں وہ مٹ ہی جاتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 829744
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش