0
Monday 2 Dec 2019 10:12

سرخ ایشیاء بمقابلہ سبز ایشیاء

سرخ ایشیاء بمقابلہ سبز ایشیاء
تحریر: تصور حسین شہزاد

لاہور سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں 29 نومبر کو طلبہ کے حقوق کے نام پر ’’طلبہ مارچ‘‘ کیا گیا۔ مارچ کے شرکاء نے بظاہر تو ایجنڈا ’’طلبہ کے حقوق‘‘ بتایا، مگر جب وہ میدان میں نکلے تو صورتحال یکسر کچھ اور ہی دکھائی دی۔ طلبہ کی یہ ریلیاں دیکھ کر ایسے لگا جیسا پاکستان میں بھی کوئی ’’نکولائی چاؤ شسکو‘‘ پیدا ہوگیا ہے اور یہ لاہور کی مال روڈ نہیں بلکہ 1965ء کا رومانیہ ہے۔ ہر طرف لال لال لہرا رہا تھا۔ جیسا انقلاب یہ نام نہاد طلبہ مارچ کے شرکاء چاہ رہے تھے، اس کا تجربہ رومانیہ سمیت دیگر ممالک میں بُری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ جب 1965ء میں نکولائی چاؤ شسکو نے وہاں ایسی ہی ’’سرفروشی کی تمنا‘‘ کرکے انقلاب برپا کیا، مگر اس انقلاب کے غبارے سے بھی ہوا نکل گئی۔ وہی رومانیہ جو کبھی نکولائی چاؤ شسکو کیلئے نعرے لگایا کرتا تھا، اس رومانیہ نے نکولائی چاؤ شسکو کیخلاف نعرے لگائے اور محض آٹھ دن (17 دسمبر سے 25 دسمبر 1989ء) تک نکولائی چاؤ شسکو کا تختہ اُلٹ دیا۔

پاکستان میں بھی مخصوص سیکولر طبقے کے چند نوجوانوں کو مخصوص ایجنڈے کیلئے استعمال کیا گیا۔ اِن بچوں کو یہ تک پتہ نہیں تھا کہ اِنہیں کون اور کیوں استعمال کر رہا ہے۔ استعمال کرنیوالوں نے دیکھا کہ ان نوجوانوں میں ’’سرفروشی‘‘ کی تمنا ہے، بس اسی تمنا کو ہتھیار بنا کر ان سے یہ مارچ کروایا گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مارچ کروانے والے خود غائب ہیں، جبکہ مارچ کے منتظمین تمام کے تمام اس وقت حوالات میں پولیس کی جھڑکیاں کھا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق لاہور میں مارچ کا اہتمام کرنیوالے تمام نوجوان گرفتار ہوچکے ہیں۔ ایف آئی آر میں عمار علی جان، عالمگیر وزیر خان، محمد شبیر، کامل خان، لاہور میں سرخ انقلاب کے پرانے داعی اور امین فاروق طارق اور اقبال لالہ کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ مارچ کیخلاف تھانہ سول لائن میں درج ہونیوالی ایف آئی آر میں 250 سے 300 نامعلوم افراد بھی شامل ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان نامعلوم افراد میں سے کتنے ’’معلوم‘‘ ہوتے ہیں اور انہیں گرفتار کیا جاتا ہے۔

طلبہ مارچ کرنیوالوں کا بظاہر ایجنڈا یہ تھا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین بحال کی جائیں، فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے، تعلیم مفت کی جائے، نصاب ایک کیا جائے، پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے بڑھتے ہوئے مافیا کی حوصلہ شکنی کی جائے، طالبات کو ہراساں کرنے کا سلسلہ روکا جائے، موثر تعلیمی پالیسی بنائی جائے اور تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایجنڈا انتہائی پُرکشش ہے، اسے انتہائی غور و فکر کے بعد مرتب کیا گیا ہے، جس سے کوئی بھی اختلاف نہیں کرسکتا۔ یہ تو بائیں بازو کے نوجوان ہیں، یہ ایجنڈا اگر کسی دائین بازو والی تنظیم کے طلبہ کو بھی فراہم کیا جاتا تو وہ بھی ’’سرفروشی کی تمنا‘‘ لئے سڑکوں پر نکل آتے، مگر لگتا ہے کہ وہ یونین بحالی کا مطالبہ کرتے کرتے تھک چکے ہیں، کیونکہ انہیں گذشتہ 20 سال سے جمہوری حکومتیں صرف لالی پاپ ہی دے رہی تھیں۔ اب حالیہ لال لال مارچ کے بعد حکومتی حلقوں میں بھی ہلچل مچی ہے اور اس میں سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس طلبہ مارچ کو صرف پاکستان میں ایسے ہی اُٹھ کر نہیں کر دیا گیا، بلکہ اس کیلئے عالمی سطح پر منظم مہم چلائی گئی، عالمی میڈیا کو فعال کیا گیا اور پھر یہ مارچ ہوا۔

اس مارچ کی اہمیت اور اس کے بیرونی رابطوں کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بی بی سی اور دیگر برطانوی نشریاتی اداروں نے اسے لائیو کوریج دی۔ مارچ کے بعد ہونیوالی گرفتاریوں پر بھی یہ مغربی میڈیا نالاں ہے اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔ اس مارچ کے منتظمین کی ہونیوالی گرفتاریوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی بول پڑی ہے، جو کشمیریوں کے 3 ماہ سے زائد کے لاک ڈاون اور انٹرنیٹ سروس کی بندش پر چُپ کا روزہ رکھے ہوئے تھی۔ لاکھوں کشمیریوں کے قتل، ہزاروں خواتین کی عصمت دری پر خاموش رہنے والی ایمنسٹی انٹرنیشنل ان چار پانچ نوجوانوں کیلئے پریشان ہے اور ان طلبہ کیخلاف جاری کریک ڈاون کو بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستانی حکام پر زور دے رہی ہے کہ عالمگیر وزیر سمیت دیگر کارکنوں کو رہا کیا جائے۔ حیرت ہے کہ پاکستان میں ماضی میں دہشتگردی میں ہزاروں لوگ جان سے جا چکے ہیں، کشمیر اس وقت جیل بنا ہوا ہے، مگر ایمنسٹی بولی نہ مغربی میڈیا کو خیال آیا۔ لیکن چند ایسے نوجوان جنہوں نے نہ صرف ریاست کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ پاک فوج پر بھی تنقید کی۔ ان کیلئے عالمی سطح پر آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

عالمی برادری اور مغربی میڈیا کا یہ دوہرا معیار ثابت کرتا ہے کہ ان کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور یہ پاکستان کو دل سے قبول نہیں کرتے، کیونکہ جب بھی یہاں ریاست مخالف کوئی سرگرمی ہوتی ہے، اُسے یہ بڑھ چڑھ کر سپورٹ کرتے ہیں۔ لال لال لہرائے گا، شور مچانے والے یہ طلبہ بُری طرح استعمال ہوئے ہیں۔ پاکستان کے قانون نافذ کرنیوالے ادارے انہیں لگام دے تو رہے ہیں، مگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو تفتیش میں اس پہلو کو بھی مدنظر رکھنا چاہیئے کہ اس میں پختون تحفظ موومنٹ کے قائدین زیادہ فعال دکھائی دے رہے ہیں۔ انڈین میڈیا نے بھی اس مارچ کو بھرپور کوریج دی ہے اور اس پر ٹاک شوز کئے ہیں اور ان طلبہ کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، یہ بھی دیکھا جائے کہ ان کو انڈیا کیوں سپورٹ کر رہا ہے۔ انڈیا کے ان نوجوانوں سے کیا مفادات وابستہ ہیں۔؟؟

دوسری جانب اس مارچ کی مخالفت میں انجمن طلبہ اسلام نے تو پریس کانفرنس کر ڈالی اور متحدہ طلبہ محاذ کا نام استعمال کرتے ہوئے اس مارچ کی مذمت اور مخالفت کی، تاہم متحدہ طلبہ محاذ میں شامل دیگر تنظیموں نے اے ٹی آئی کے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اِسے متحدہ طلبہ محاذ کی بجائے اے ٹی آئی کا موقف قرار دیا۔ اس موقع پر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان اس صورتحال سے لاتعلق رہی اور تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کی پالیسی کو اپنایا۔ مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ کی قیادت نے بھی اس مارچ سے اظہار لاتعلقی کیا، تاہم مال روڈ پر ہونیوالے مارچ میں ان کے دو تین پرچم ضرور دکھائی دیئے۔ اہلحدیث اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور محمدیہ اسٹوڈنٹس کی جانب سے بھی اس مارچ کے حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ البتہ اس مارچ کے شرکاء کے نعروں کے جواب میں اسلامی جمعیت طلبہ نے فعالیت دکھائی اور پنجاب یونیورسٹی میں ’’کاونٹر پروٹیسٹ‘‘ کیا گیا۔ جمعیت نے ’’سرخ ہے سرخ ہے، ایشیاء سرخ ہے‘‘ کے نعرے کے جواب میں ’’سبز ہے سبز ہے، ایشیاء سبز ہے‘‘ کے نعرے لگائے۔

جمعیت کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اس موجودہ صورتحال کی پیش گوئی مولانا موودودی بہت پہلے کرچکے ہیں مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ ’’سرخے‘‘ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ جمعیت کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ یہ غیر اخلاقی اور غیر اسلامی حرکتوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان کے مظاہروں میں مرد کی تذلیل کی گئی اور اسلامی اقدار کا مذاق اُڑایا گیا۔ ہم تعلیمی اداروں میں اسلامی اقدار کے محافظ ہیں، ان مادر پدر آزاد چند گمراہ نوجوانوں کے ہاتھوں اسلام کی تذلیل نہیں ہونے دیں گے۔ جمعیت کے قائدین کہتے ہیں کہ یہ کیسے مظلوم ہیں، جو ڈھول کی تھاپ پر بے ہودہ ناچ گانا گا کر اپنی مظلومیت کا اظہار کر رہے ہیں؟ ان کیلئے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں کوئی گنجائش نہیں، ہم ان کے آقاؤں سے آگاہ ہیں اور ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ یہ تعلیمی اداروں میں ناچ گانے اور فحاشی و عریانی کی آزادی چاہتے ہیں۔ جمعیت کی قیادت کا یہ عزم اور ان سیکولر نوجوانوں کی تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں وہاں کے ماحول پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ اس سے دونوں گروہوں میں تصادم سے جہاں طلبہ کا تعلیمی نقصان ہوگا، وہیں اس سے جانی نقصان کا بھی احتمال ہے۔

اس لئے حکومت کو اس صورتحال کے تدارک کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ وزیراعظم کی جانب سے یونین بحالی کیلئے یہ ٹویٹ کہ ’’ہم دنیا کی صف اول کی دانشگاہوں میں رائج بہترین نظام سے استفادہ کرتے ہوئے ایک جامع اور قابل عمل ضابطہ اخلاق مرتب کریں گے، تاکہ ہم طلبہ یونینز کی بحالی کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے انہیں مستقبل کی قیادت پروان چڑھانے کے عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکیں۔‘‘ حوصلہ افزاء ہے۔ ان سیکولر طلبہ کے اس مارچ سے جہاں اسلامی اقدار کی محافظ قوتیں بیدار ہوئی ہیں، وہیں حکومت بھی طلبہ یونینز کی بحالی کیلئے رضامند ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یقیناً اس بات کا کریڈٹ ان ’’سرخوں‘‘ کو ضرور دیا جا سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 830203
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش