0
Wednesday 4 Dec 2019 10:19

داعش، کٹی پتنگ یا غریب کی جورو

داعش، کٹی پتنگ یا غریب کی جورو
اداریہ
داعش منصوبہ مغربی سامراج بالخصوص امریکہ کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ اس پراجیکٹ کو مطلوبہ ہدف تک پہنچانے کے لیے امریکہ اور اس کے حواریوں نے رات دن ایک کیے، لیکن ایک عشرے سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود مطلوبہ مذموم مقاصد حاصل نہ ہوسکے۔ داعش پراجیکٹ کا اگر غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو ایسا بھی نہیں ہے کہ منصوبہ بالکل مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ اس کے ابتدائی مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں اور اس مائنڈ سیٹ کے ایسے بیج بو دیئے گئے ہیں، جو محمد بن عبدالوہاب کے فتنے کی طرح ہمیشہ اسلام کیساتھ جڑا رہے گا۔ کئی اسلامی ممالک میں قطبیت (پولورائزیشن) اور اسلام کی یہ جعلی ریڈیکل، بلکہ دہشت گردانہ تعبیر مدتوں تک امت مسلمہ کے لیے مسائل پیدا کرتی رہے گی۔ القاعدہ کے بعد داعش کو لانچ کرنا حقیقت میں اسلام کے شدت پسندانہ چہرے کو مزید وحشی بنا کر پیش کرنا تھا اور اس نعرے سے جہاں اسلام کے پرامن چہرے کو مسخ کرنا تھا، وہاں اہلسنت مسلک کے "نظریہ خلافت" کو اس حد تک بدنام کرنا تھا کہ اہلسنت عوام ہمیشہ کے لیے خلافت کی مقدس اصلاح سے دور ہو جائیں اور اسلام کے سیاسی نظریئے پر یقین رکھنے والے مسلمان اور غیر مسلمان بھی خلافت جیسے سیاسی نظام سے تائب ہو جائیں۔

امریکہ نے جہاں داعش کو شیعہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا، وہیں اہلسنت کے سیاسی نظام "خلافت اسلامیہ" کا بھی بیڑہ غرق کر دیا۔ جو خلافت ابوبکر بغدادی اور داعش کے دہشت گردوں نے دنیا کے سامنے متعارف کرائی ہے، اس پر کون ایمان لائے گا۔؟ اہلسنت کے جید علماء اور مذہبی قائدین داعش کو اہلسنت کے مستقبل کے لیے زہر قاتل قرار دیتے ہیں اور جن ممالک میں سنی مسلمان جماعتیں نظام خلافت کو رائج کرنے کی تحریکیں چلا رہی تھیں، وہ داعش کے ظہور اور اس کی وحشیانہ کارروائیوں کے بعد برسوں پیچھے چلی گئی ہیں۔ دوسری طرف شام و عراق میں داعش منصوبے کی ناکامی یعنی ان ممالک کی عدم تقسیم اور صہیونی ایجنڈا مکمل نہ ہونے کی وجہ سے امریکہ اور مغربی ممالک بھی داعش سے مایوس ہو کر ان سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ سامراج نے ہمیشہ ایسے گروہوں کو ڈسپوزبل میٹیریل سمجھا ہے، لیکن یہ مواد اس ایٹمی فضلے اور کیمیائی مادے کی طرح ہے، جس کو کوئی ملک اپنے ویرانے میں بھی دفن کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

آج دنیا داعش کے لیے تنگ سے تنگ ہو رہی ہے، وہ داعشی جنہیں امریکہ و یورپی ممالک سے گروہ در گروہ ترکی کے راستے شام و عراق بھیجا گیا تھا، اب کسمپرسی کی حالت میں ہیں، نہ ان کے پاس محفوظ ٹھکانہ بچا ہے اور نہ مضبوط و مستحکم فکری و مادی پشتیبانی۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ گذشتہ دنوں نیٹو کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرامپ اور فرانس کے صدر میکرون کے درمیان ملاقات ہوئی اور صحافیوں نے عراق و شام میں داعش گروہ سے منسلک مغربی شہریوں کے بارے میں ٹرامپ سے سوال کیا تو انہوں نے فرانس کے صدر میکرون کی طرف دیکھ کر کہا کہ مسٹر پریذیڈنٹ میرے پاس بہترین قسم کے جنگجو داعشی موجود ہیں، کتنے چاہئیں، تاکہ آپ کو بھیج دوں۔ فرانسیسی صدر نے برا سا منہ بنا کر کہا "کوئی سنجیدہ بات کرو۔" آج تجزیہ نگار اس مخمصے میں ہیں کہ داعش دہشت گرد گروہ کو کٹی پتنگ سے تشبیہ دیں، جو کسی بھی وقت، کہیں بھی گر سکتی ہے یا آلِ سعود کی جورو کہا جائے، جو سب تکفیریوں کی بھاوج ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 830726
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش