0
Saturday 7 Dec 2019 22:31

سورج مغرب سے طلوع ہو تو ہرج کیا ہے!؟(4)

سورج مغرب سے طلوع ہو تو ہرج کیا ہے!؟(4)
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

ملحدین نے مغرب سے دین کو جلا وطن کر دیا ہے۔ آج مغربی دنیا میں دین کوئی نظام نہیں ہے بلکہ چند ایک رسومات کا مجموعہ ہے۔ جو انسان ان رسومات کو ادا کرنا چاہے، وہ ہفتے میں ایک آدھ مرتبہ کسی عبادت خانے میں جا کر اپنا دل ہلکا کر لے اور بس۔ وہ اپنی عبادت گاہ میں مالا جھپے، منتر پڑھے، روئے پیٹے، چِلے کاٹے، روزے رکھے، پوجا پاٹ کرے، مندر کی گھنٹیاں بجائے، چرچ میں چراغاں کرے، ماتھے پر تلک لگائے یا سر پر عمامہ رکھے، اپنا سر پھاڑ دے یا گریبان چاک کر دے، آسمانی صحیفوں کی تلاوت کرے، موم بتیاں جلائے، دھونی دے، اگربتیاں جلائے اور جو مرضی ہے کرے، اس کا دین صرف انہی کاموں کے لئے ہے۔ جیسے ہی کوئی دیندار عبادت کی رسومات ادا کر لے گا تو اب وہ دین کے قوانین کے مطابق نہیں بلکہ ملحدین کے قوانین کے مطابق اپنی زندگی بسر کرے گا۔ جیسا کہ پہلے بھی یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ الحاد سے مراد یہ ہے کہ انسان اور کائنات کا کوئی خالق و مالک اور مدیر و مدبر نہیں ہے۔ یہ انسان خود ہے جو اپنے اچھے اور برے کو بہتر سمجھتا ہے اور اپنے تجربات کی روشنی میں اپنے لئے خود نظامِ حیات وضع کرتا ہے۔

اگر ہم توجہ کریں تو بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ دین میں جو خدا کا مقام ہے، وہی ملحدین کے نزدیک انسان کا مقام ہے اور دیندار لوگ جسے دین کہتے ہیں، ملحدین اسے نظام کہتے ہیں۔ اب مغرب جو نظام بھی ہمیں دیتا ہے، وہ دین کے متبادل کے طور پر دیتا ہے۔ جب ہم خدا کے بجائے ملحدین کے نظام کو لینا شروع کرتے ہیں تو خدائی دین ہمارے ہاتھوں سے نکلتا جاتا ہے۔ یعنی ہم جس قدر افکار و نظریات میں مغربی ہوتے جاتے ہیں، اتنے ہی بے دین ہوتے جاتے ہیں۔ بے دین انسان نے نہ ہی تو خدا کو جواب دینا ہے، نہ ہی اسے خدا کا قرب چاہیئے اور نہ ہی اس کیلئے معاد اور جنت و جہنم ہے، لہذا اس کے پیشِ نظر صرف اور صرف منافع اور فائدہ ہے۔ چونکہ ملحد یہ جانتا ہے کہ اس کی یہ مادی زندگی صرف چند سالوں کی ہے، لہذا ان چند سالوں میں وہ جلد از جلد اپنے سارے خوابوں کو پورا کرنا چاہتا ہے، دنیا کی ساری لذتوں کو چکھنا چاہتا ہے اور ہر طرح کے منافعے اور فائدے کو حاصل کرنا چاہتا ہے، چنانچہ ملحد کے لئے کوئی حرام و حلال اور کوئی اچھا یا برا نہیں ہوتا، وہ وہ جلد از جلد منافع کے حصول کیلئے ایٹم بم سمیت ہر طرح کی طاقت کو استعمال کرتا ہے اور لذتوں سے آشنائی کیلئے لواط، ہم جنس بازی، جنسی تبدیلی اور جانوروں کے ساتھ جنسی فعل سمیت سب کچھ کر گزرتا ہے۔

آج دنیا میں جتنی حرکت اور بھاگ دوڑ ہے، یہ سب مفادات اور لذتوں کے حصول کیلئے ہے۔ مُلحدین نے مفادات اور لذتوں کیلئے ٹیکنالوجی کو ایجاد کرنے کے بعد اسے اندھا دھند استعمال کرکے کائنات کی طبیعت Nature اور ماحول Environment کو بھی تباہ کرکے رکھ دیا ہے، چادر اور چاردیواری کے تقدس کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا ہے، مرد کو پیسے کمانے والی مشین اور عورت کو جنسی حیوان بنا دیا ہے اور آج یہ ملحدانہ افکار ایک سیلاب کی طرح مشرق میں پھیلتے جا رہے ہیں۔ ملحدانہ افکار و نظریات کے تسلط کی وجہ سے مشرقی دنیا کی فلموں، ڈراموں، افسانوں، کہانیوں، ناولوں اور فنون لطیفہ سے خدا کے تصور، دینی اقدار اور حجاب کی اہمیت کو نکال دیا گیا ہے۔ آج کی مشرقی نسل جس میڈیا کے سامنے بیٹھی ہوئی ہے، وہ میڈیا دن رات اسے فکری طور پر ملحد بنانے میں مصروف ہے۔

دوسری طرف اہلِ مشرق کو دین سے بیزار کرنے کیلئے مشرق میں دینی شدت پسند ٹولوں کی بنیاد ڈالی گئی، طالبان، داعش، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی۔۔۔ دین کے نام پر ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان، خودکش دھماکے، توڑ پھوڑ، مفادِ عامہ کو نقصان پہنچانا۔۔۔ یہ سب ایک عام انسان کو دین سے بیزار کرنے کیلئے ہی تو ہے۔ حقیقت میں ملحدین ساری تہذیبوں، ثقافتوں، جغرافیوں، معاشروں اور حدود و قیود کو مٹا کر ایک یونیورسل اور گلوبل عالمی نظام تشکیل دینے کی کوشش میں مصروف ہیں اور وہ ورلڈ آرڈر جاری کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں، حالانکہ دینِ اسلام بھی انسانوں کو ایک الٰہی اور مہدویؑ حکومت کیلئے گلوبلائز اور یونیورسل کرنا چاہتا ہے اور اسلام بھی یہ چاہتا ہے کہ اس زمین پر خالقِ کائنات کا ورلڈ آرڈر جاری و ساری ہو۔ اس دنیا پر کس کا ورلڈ آرڈر جاری ہوگا، ملحدین کا یا خدا کا، افکار و نظریات اور اختراعات و ایجادات کے میدان میں یہ جنگ شدت سے جاری ہے، مُلحدین تو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہر جگہ  میدانِ عمل میں موجود ہیں، البتہ مسلمین کی کوئی خاص خبر نہیں۔

اب یہ مسلمانوں کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو ترک کرکے الحادی نظریات کا مقابلہ کریں اور یوں مل کر حضرت امام مہدی ؑ کے ظہور کیلئے مقدمات فراہم کریں اور یا پھر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر عدل و انصاف، اسلامی انقلاب، معجزات اور حضرت امام مہدیؑ کے ظہور کا انتظار کرتے رہیں۔ آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ حضرت امام مہدیؑ کا ایسا انتظار جو کوشش کے بغیر ہو، وہ افیون کی مانند ہے، بغیر کوشش کے انتظار کرنے والا شخص اس آدمی کی مانند ہے، جس کے گھر کی طرف سیلاب دوڑتا ہوا آرہا ہو اور وہ کوئی چارہ جوئی کرنے کے بجائے سکون اور نیند کی گولی کھا کر اس انتظار میں سو جائے کہ خود بخود سیلاب ٹل جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 831418
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش