0
Wednesday 11 Dec 2019 07:34

شہریت ترمیمی بل

شہریت ترمیمی بل
اداریہ
ہندوستان میں جب سے بی جے پی کی ہندو نواز حکومت برسراقتدار آئی ہے، ہندو ازم کو پہلی ترجیح قرار دیکر ہندوستان کے سیکولر اسٹیٹ ہونے کے تاثر کو تقریباً ختم کر دیا گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے موجودہ لیڈر اور ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کا ماضی آر ایس ایس جیسی انتہاء پسند تنظیموں سے جڑا ہوا ہے اور انہوں نے گجرات میں مسلمانوں کا جس طرح قتلِ عام کروایا تھا، اس وجہ سے انہیں گجرات کا قصائی کہا جاتا تھا۔ نریندر مودی کے جرائم اتنے آشکار تھے کہ امریکی حکومت نے اُن کیخلاف امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ شومئی قسمت کہ آج وہی نریندر مودی ہندوستان کے سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ نریندر مودی نے 5 اگست کے دن کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے جیسے قوانین ختم کیے تو اب شہریت ترمیمی بل لا کر ہندوستان کے مسلمان تارکینِ وطن پر ایک اور کاری ضرب لگائی ہے۔

اس بل کے مطابق ہر مذہب کا تارکِ وطن ہندوستان کی شہریت حاصل کرسکتا ہے، سوائے مسلمان کے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندو ذہنیت مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتوں کو بھی کسی قسم کی ثقافتی، اقتصادی، دینی، سایسی اور سماجی آزادیاں دینے پر یقین نہیں رکھتی، صرف گاؤ رکشا کے پسِ مںظر میں گذشتہ سال 600 مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ بابری مسجد کے بارے میں عدالتی فیصلے کے بعد شہریت ترمیمی بل نے ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کو مزید مایوس کر دیا ہے۔ اس نئے بل میں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، حالانکہ یہ ترمیم، آرٹیکل چودہ کی خلاف ورزی ہے۔ ہندوستان کے ایوانِ زیریں لوک سبھا میں ہندوستان کے وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف سے شہریت ترمیمی بل پیش کیے جانے کے دوران حزبِ اختلاف کے اراکین نے اسے آئین کی بنیادی اقدار اور جمہوریت کے ڈھانچے کو مجروح کرنے والا بل قرار دیتے ہوئے زبردست ہنگامہ کیا اور کہا کہ یہ تاریخ کا سیاہ دن ہے نیز ہندوستان کو مسلم اور غیر مسلم میں تقسیم کرنیکی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہندوستان میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف مختلف جماعتیں مظاہرے کر رہی ہیں، لیکن بی جے پی کے اندازِ سیاست سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے حق میں کسی قانون یا بل کو منظور یا مسترد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ کشمیر، گجرات، بابری مسجد کی طرح اس ایشو پر بھی چند دن شور شرابے کے بعد مسلمانوں کو دبانے کے لیے کوئی نیا ہتھکنڈہ استعمال کیا جائے گا۔ ہندوستان کا مسلمان جس بحران میں مبتلا ہے، اس سے نجات کے لیے ہندوستان کے اندر اور باہر دونوں سے بی جے پی پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے، وگرنہ "تمہاری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔"
خبر کا کوڈ : 832023
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش