0
Wednesday 11 Dec 2019 13:16

خواجہ شجاع عباس بھی دل کا آنگن ویران کر گیا

خواجہ شجاع عباس بھی دل کا آنگن ویران کر گیا
تحریر: غیور عباس ترمذی

یہ 1990ء کی دہائی کے بالکل ابتدائی سالوں کی بات ہے، جب راقم طلبہ سیاست میں پاکستان کی بڑی طلبہ تنظیموں میں سے ایک امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے متحدہ طلبہ محاذ میں طلبہ یونین کی بحالی کیلئے کوشاں تھا۔ برسوں کی تنظیمی تربیت اور مینجمنٹ تربیت کی وجہ سے کانفرنسز کروانا، پریس کیمپین بنانا اور چلانا سیکھ لیا تھا۔ اسی دوران امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں بین الاقوامی کشمیر و فلسطین کانفرنس منعقد کی، جس میں پہلی دفعہ کشمیر اور فلسطین سے ہنود اور یہود کیخلاف آزادی کی جدوجہد کرنیوالے مجاہدین پاکستان تشریف لائے۔ راقم کے ذمہ جس معزز مہمان کی میزبانی لگی وہ خواجہ شجاع عباس تھے، جو مقبوضہ کشمیر میں حزب المومنین کے کمانڈر انچیف تھے اور بارہ مولیٰ کے علاقوں میں سرگرم عمل تھے۔ دو روزہ کانفرنس کے اختتام کے بعد خواجہ شجاع عباس اور ان کے 2 ساتھیوں نے ہماری درخواست قبول کرتے ہوئے لاہور میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی دفتر کے دورہ اور کچھ اہم مقامات میں ملاقاتوں اور پروگراموں میں شرکت کی حامی بھر لی۔

اس تمام عرصہ کے دوران راقم اور خواجہ شجاع عباس ساتھ ساتھ رہے۔ لاہور اور دوسرے کچھ مقامات کے دورہ جات کے بعد خواجہ شجاع عباس اور انجینئر محمود بھائی واپس اپنے کیمپوں کو چلے گئے، مگر راقم سمیت کئی دوستوں کا دل بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ بس اس کے بعد یہ ہوا کہ جب بھی حالات اور وسائل نے اجازت دی راقم اور اس کے کئی دوست خواجہ شجاع عباس سے فیض یاب ہونے پہنچ جاتے۔ کبھی مظفر آباد اور کبھی سکردو (بلتستان)۔ یہ سلسلہ راقم کی پاکستان سے روانگی تک جاری رہا۔ کئی سالوں تک پردیس کی خاک چھاننے کے بعد جب راقم کی واپسی ہوئی تو دوستوں کا تمام سرکل تتر بتر ہوچکا تھا۔ خواجہ شجاع عباس سے ملاقات ایک حسرت ہی بن کر رہ گئی۔ انجینئر محمود کا بھی کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ اتحاد بین المسلمین کے داعیان ان دوستوں کا جگمگاتا یہ جھرمٹ اپنے اپنے غم روزگار اور غم زندگی میں ایسا کہاں کھو گیا کہ اب ان میں سے کسی کے بارے اطلاع ملتی بھی ہے تو اس کے داعی اجل کو لبیک کہنے کی۔ اف، یہ عملی زندگی کی اتنی تلخ حقیقت ہے جس کا اندازہ تھا بھی تو یوں لگتا ہے کہ نہیں تھا۔

خواجہ شجاع عباس کی موت کی خبر ملی تو دل و دماغ کچھ گھنٹوں تک شدید بے یقینی کا شکار ہوگیا۔ یہ یقین ہی نہیں ہوا کہ ایسا ہوچکا ہے۔ موت پر مکمل یقین کے باوجود بھی شجاع عباس کی موت کا یقین نہیں آیا۔ سچ پوچھیں تو ابھی بھی دل نہیں مانتا کہ شجاع عباس مر چکے ہیں۔ شاید ان کی میت کا دیدار کر پاتا تو یقین آنا شروع ہوتا کہ ایسا واقعی میں ہوچکا ہے۔ شجاع عباس کی تجہیز و تکفین کی رسومات سے گزرنے سے اس تکلیف دہ حقیقت پر یقین آنا شروع ہو جاتا، مگر شجاع عباس کی میت کو دیکھنا یا اس کے جنازے میں شریک ہونا بھی تو بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہوتا، جس کی شدت کو سہنا اتنا بھی آسان نہیں تھا۔ صرف ایک دن ہی گزرا ہے اور شجاع عباس کی اس اچانک موت سے پیدا ہونیوالی دل کی بے یقینی اب جھنجھلاہٹ اور بے بسی میں بدل رہی ہے۔

دل بچھڑے ہوئے شجاع عباس کو ڈھونڈنے اور ان سے دوبارہ ملنے کیلئے تڑپنے لگا ہے، حالانکہ دماغ کو پتہ ہے کہ یہ ناممکن ہے۔ اس حالت میں کل اور آج کا سارا دن بے سکون رہا ہے، روز مرہ کی باتوں پہ توجہ نہیں دے پایا اور سکون کی نیند بھی نہیں آسکی۔ پریشان کن خوابوں نے کچی پکی نیند میں ڈیرہ ڈالے رکھے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے شجاع عباس ہر جگہ نظر آرہا ہو، خصوصاً امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی دفتر مسلم ٹاؤن اور اقبال ٹاؤن آصف بلاک کے راستوں سے گزرتے ہوئے جہاں شجاع عباس کے ساتھ کافی دفعہ آنا جانا رہا تھا۔ بہت زیادہ غصہ بھی محسوس ہو رہا ہے، راولپنڈی کے ان ڈاکٹروں پر جو شجاع عباس کو بچا کیوں نہیں سکے۔ اسلام آباد، راولپنڈی کے دوستوں پر جنھوں نے شجاع عباس کا خیال نہیں کیا اور یہاں تک کہ شجاع عباس پر بھی کہ وہ یوں چھوڑ کر چلا گیا اور ملا بھی نہیں۔

خود کو بھی مجرم سمجھ رہا ہوں کہ چاہے کچھ بھی ہوتا، سارے کام کاج ترک کر دیتا اور سب چھوڑ چھاڑ کر شجاع عباس سے پاکستان واپسی پر اس کے جیتے جی سینکڑوں نہیں تو درجنوں ملاقاتیں تو ضرور کر لیتا۔ سوچ رہا ہوں کہ پاکستان واپس آکر اگر لاہور کی بجائے اسلام آباد رہائش رکھ لیتا تو شاید شجاع عباس سے کئی ملاقاتیں رہتیں۔ موت کسی کے اختیار میں نہیں اور جان سے عزیز کئی دوستوں کی موت نے عرصہ تک جھنجھلاہٹ، بے چینی اور غصے کی کیفیت کو طبعیت کا خاصہ بنا دیا ہے۔ ہر وقت چہکتے رہنے کی بجائے اداسی، خاموشی اور لوگوں سے الگ تھلگ رہنے کی کیفیت حاوی ہوتی جا رہی ہے۔ جذبات میں اتنی تبدیلی بعض اوقات دیگر دوستوں اور رشتہ داروں کو عجیب سی محسوس ہوتی ہے، مگر راقم کیا عرض کرے کیونکہ جان سے پیارے دوستوں کی پے درپے اموات کا 7 مارچ 1995ء سے شروع ہونیوالا عمل رک ہی نہیں پا رہا۔ ایک دوست کی موت غم، اداسی کی کیفیت طاری کرتی ہے تو ابھی بمشکل اس سے نکلتے ہیں تو کسی اور کی موت کی اطلاع آجاتی ہے۔ جیسے موت کا سلسلہ قدرتی ہے تو ویسے ہی دوستوں کی موت پر غم، دکھ اور اداسی بھی تو قدرتی عمل ہے۔

شجاع عباس کے انتقال سے پیدا ہونے والے دکھ، اداسی اور غم کی کیفیت کچھ عرصہ تو طاری رہے گی، مگر اپنے روزمرہ کے کاموں کی شدید مصروفیات کی وجہ سے نارمل ہو ہی جائیں گے، کیونکہ یہی دستور زندگی ہے، مگر ان مصروفیات میں جب بھی اکیلے وقت گزارنے کا موقع ملے گا تو شجاع عباس کی یاد اور اس کی باتیں بیت یاد آئیں گی۔ یہ سچ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ دوسرے مرحوم دوستوں کی طرح شجاع عباس کی موت کا غم اور دکھ بھی کم ہوتا جائے گا، اداسی بھی کم ہونے لگے گی۔ راقم اور شجاع عباس کے دوسرے دوست زندگی کی دوسری چیزوں کے بارے میں اور آئندہ کے بارے میں سوچنے لگیں گے، لیکن پھر بھی شجاع عباس کے یوں اچانک کھو جانے کا احساس مکمل طور پہ کبھی بھی ختم نہیں ہوگا۔
قارئین سے درخواست ہے کہ حزب المومنین کے سابق کمانڈر اور اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے داعی مرحوم و مغفور خواجہ شجاع عباس کے بلندی در جات کیلئے فاتحہ خوانی فرما دیں۔
خبر کا کوڈ : 832074
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش