0
Tuesday 10 Dec 2019 09:45

خواجہ شجاع عباس۔۔۔۔ بوسن روڈ سے آفندی کالونی تک

خواجہ شجاع عباس۔۔۔۔ بوسن روڈ سے آفندی کالونی تک
تحریر: سید اظہار بخاری

نوے کی دہائی کے بالکل اوائل کا زمانہ ہماری طالب علمی کا زمانہ تھا۔ نوعمری میں جذبات کا عروج تو فطری امر ہے مگر اسے صحیح سمت میسّر آجانا خوش بختی ہی نہیں، سنگین دور میں ایک نعمت سے کم نہیں۔ دین سے لگاﺅ اور قومیات سے شغف کی وجہ سے کالج کے پہلے ہی سال سے ہمارا واسطہ اور رابطہ دینیات اور قومیات کے وابستگان سے جڑ گیا تھا اور ہم نہایت سرعت کے ساتھ اہم اور اس کے بعد اہم ترین کارکنوں کی صف میں شامل ہوگئے۔ انہی سالوں میں تحریک آزادی کشمیر نے ایک نیا رخ اختیار کیا اور مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی نے مزید شدت اختیار کی۔ کشمیری عوام نے غاصب حکومت کے خلاف عملی جہاد شروع کیا تو کشمیر میں بسنے والے مختلف دینی و سیاسی طبقات، مسالک اور قائدین نے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر مزاحمت شروع کی۔ اسی زمانے میں ہم نے حزب المجاہدین اور حزب المومنین کا نام سنا اور پھر تسلسل کے ساتھ ان دونوں تنظیموں کے بعد مختلف دیگر تنظیموں کی فعالیات سے آگاہی حاصل ہوتی رہی۔

اسی زمانے میں ہم نے سنا کہ اسلام آباد میں مقبوضہ کشمیر کے موضوع پر سب سے پہلی انٹرنیشنل کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، جس میں دنیا بھر سے مختلف اسلامی و جہادی تنظیموں کے سربراہان شریک ہو رہے ہیں، پھر یہ کانفرنس منعقد ہوئی اور اس میں حزب اللہ لبنان کے سربراہ شہید سید عباس موسوی ؒ تشریف لائے۔ لیکن ہم اسلام آباد سے دور محض خبروں سے اپنے جذبات کو تسکین فراہم کرتے رہے، لیکن کچھ ہی عرصہ میں ہمیں خبر ملی کہ حزب المومنین کے کمانڈر اور تحریک آزادی کے سرخیل رہنما جناب شجاع عباس ملتان کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں، جہاں دیگر مصروفیات کے علاوہ وہ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ میں طلباء کے اجتماع سے خطاب فرمائیں گے۔ ہم نے پہلی مرتبہ ان کا قریب سے دیدار کیا، ان کے خیالات سے استفادہ کیا۔ چائے کی محفل میں ان کے سوال و جواب کا سیشن اٹینڈ کیا، جس نے یقیناً ایک کارکن پر گہرے نقوش چھوڑے، جو اگلے کئی سال قائم رہے۔ ابھی یہ نقوش جوان ہی تھے کہ ہمیں اسلام آباد میں قیام کا موقع میسر آیا تو شجاع عباس سے ملاقاتوں کا سلسلہ نئے تعارف اور نئی شناخت سے شروع ہوا۔

مشترکات اس قدر زیادہ تھے کہ ملاقاتوں کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا۔ جہادی سرگرمیوں میں تبدیلی اور سردی کے بعد شجاع عباس نے دھڑا بندی، گروپ سازی یا منفی سرگرمیوں کی بجائے اپنے اندر موجود دینی، علمی، تحقیقی اور ادبی ذوق کو اجاگر کرنے میں خود کو مصروف کر دیا۔ انہوں نے مطالعے کے تمام تر ذرائع سے کما حقہ استفادہ کیا۔ میری معلومات کے مطابق محدود کاروباری سرگرمی کے بعد ان کا تمام تر وقت تحقیق اور مطالعہ میں بسر ہوتا رہا، تیسری کوئی سرگرمی میرے علم میں نہیں۔ شجاع عباس نے چونکہ دینی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ دین سے وابستہ لوگوں نے ان کی تربیت کی۔ سیاسی اور جہادی سرگرمیاں بھی دینی تشخص کے ساتھ انجام دیں، اس کے ساتھ ایک قومی اور سیاسی رہنماء ہونے کے ناطے عالمی سیاسی حالات سے آگاہی کے حامل بھی رہے، اس لئے اپنی عملی زندگی میں ان پر دین اور سیاست کا غلبہ بدرجہ اتم موجود رہا۔ وہ ایک ہی وقت میں جہاں دینی اور فقہی موضوعات اور مختلف دینی نظریات اور شخصیات پر تحقیق کرتے رہے، وہاں عالمی سیاست کے تمام اتار چڑھاﺅ اور پس منظر و پیش منظر پر بھی عمیق نظر کے حامل رہے۔

ایک بھرپور اور عملی زندگی بسر کرنے والا انسان عام اخلاقی خلاف ورزیوں سے لے کر عالمی ریاستی خلاف ورزیوں پر جتنا افسردہ، بے چین، غمگین اور اکھڑا سا رہتا ہے، اتنا معاشرے کا عام بلکہ متوسط شہری بھی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ افسردگی، بے چینی، غم اور اکتاہٹ بجا طور پر بغاوت اور ذہنی و قلبی انتشار کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ تقریباً یہی صورت حال ہمارے بھائی شجاع عباس کی تھی۔ حقائق اور سازشوں سے آگاہی، جہاں انسان کو روشن راستہ فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے، وہاں بہت حد تک عذاب اور کرب کا سامان بھی پیدا کرتی ہے۔ حقائق تلخ ہوں اور سازشوں کے بازار گرم ہوں تو ایک حساس انسان اور عملیات میں دخیل شخص کس اذیت میں ہوسکتا ہے، اس کا بیان شجاع عباس یا ان کے قبیل کے لوگ کرسکتے ہیں۔ ہماری ذاتی رائے کے مطابق یہ سارے المیے جب شجاع عباس جیسے دانا، آگاہ اور حساس انسان کو درپیش رہے تو ان کے اثرات قلب و ذہن پر مرتب ہونا بعید از امکان نہیں۔ یہی سنگین اثرات ان کے ذہن و قلب سے گذر کر ان کے دنیا سے گذر جانے کا سبب بنے ہیں، ورنہ ایک کمانڈر کا اس قدر جلدی چلے جانا بنتا نہیں ہے۔

امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ جب ریاستی پروپیگنڈے کی زد میں تھے تو لوگوں نے آپ کی ذات، آپ کے علوم اور آپ کی خداداد صلاحیتوں سے استفادہ کرنا ترک کر دیا، اس کی شکایت آپ کے کئی خطبات میں موجود ہے۔ حالانکہ زمانہ پیغمبر میں علی ؑ کی شخصیت اپنے تعارف سے آشکار تھی، لیکن بعد کے منفی پروپیگنڈے نے لوگوں کے اذہان دھندلا دیئے۔ شجاع عباس جیسے لوگوں کا یہ بھی المیہ رہا ہے کہ انہیں جہاں مختلف پابندیوں اور مجبوریوں کا سامنا ہوتا ہے، وہاں ان کے معاشرتی اور عامیانہ انداز میں کرائے گئے تعارف کی وجہ سے ہزاروں مظالم جھیلنا پڑتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کی حقیقی شخصیت لوگوں پر آشکار نہیں ہوتی اور لوگ منفی اور غیر حقیقی اطلاعات کے سبب ان کی شخصیت سے حقیقی استفادہ نہیں کرسکتے۔ اسلامی تاریخ اور اسلام کے مختلف مکاتب و مسالک کے بزرگان، اکابرین اور علماء پر شجاع عباس کی تحقیق اور تبصرے سے ہزار اختلاف کے باوجود یہ دکھ زندگی بھر موجود رہے گا کہ علماء نے بالخصوص جس مسلک سے شجاع عباس کا تعلق تھا، ان کے علماء نے شجاع عباس سے بالکل استفادہ نہیں کیا۔

انہیں کوئی جہت دے کر ان سے تحقیقی کام نہیں لیا۔ ان کے ذوق اور قابلیت کو دین اور اسلام کی ترقی و دفاع کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ اگر ایسا ہوتا تو عین ممکن تھا کہ شجاع عباس آج ہمارے درمیان موجود ہوتے۔ اب ہمارے پاس شجاع عباس کے چند مضامین، چند مقالات اور کچھ سوشل میڈیائی تحریریں و تبصرے موجود ہیں، لیکن شجاع عباس کی شخصیت اور خواہش کے مطابق ایک محقق کے تعارف کے ساتھ ان کا تحقیقی کام متعدد کتب کی صورت میں نہیں ہے۔ ہمارے اکابرین نے شجاع عباس کو محض ایک سابق کمانڈر اور کشمیری تاجر کے طور پر دیکھا، لیکن گذشتہ بیس سال میں ان کے علمی، تحقیقی اور دینی ارتقاء کی طرف توجہ نہیں دی۔ اگر یہ رویئے جاری رہے تو ہمارے ارد گرد رہنے والے کئی شجاع عباس وقت سے پہلے داعی اجل کو لبیک کہتے رہیں گے اور آفندی کالونیوں میں دفن ہوتے رہیں گے۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
خبر کا کوڈ : 832210
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش