0
Saturday 14 Dec 2019 10:45

لاہور پی آئی سی۔۔۔ انسانیت بھی شرمندہ ہے!

لاہور پی آئی سی۔۔۔ انسانیت بھی شرمندہ ہے!
تحریر: تصور حسین شہزاد

لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی دل کے امراض کی معروف علاج گاہ ہے۔ دو روز قبل وکلاء کے ایک جتھے نے اس ہسپتال پر حملہ کر دیا۔ وکلاء لاہور بار سے ریلی کی شکل میں نکلے اور سیدھے جیل روڈ پر واقع پی آئی سی کے سامنے پہنچ گئے۔ پولیس کو بھی "سپیشل برانچ" کی جانب سے اطلاع مل چکی تھی کہ مشتعل وکیلوں کا جلوس پی آئی سی کی جانب رواں دواں ہے اور وہاں جا کر "کچھ بڑا" ہونے کا خدشہ ہے، مگر پولیس کے اعلیٰ حکام اس رپورٹ کو خاطر میں ہی نہ لائے اور وہی کچھ ہوگیا، جس سے انسانیت بھی شرما گئی بلکہ پی آئی سی میں وہ عمل ہوا، جسے دیکھ کر حیوان بھی کہتے ہیں کہ "بھاگ ورنہ آدمی کی موت مارا جائے گا۔"
پی آئی سی کے سامنے وکلاء نے نعرے بازی کی، گیٹ توڑا، ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوئے، توڑ پھوڑ کی، مشینیں اٹھا اٹھا کر پھینکیں، وارڈ کے شیشے توڑ دیئے۔

یہ سب کچھ تو ٹھیک تھا، غصہ تھا، مگر یہ کیا کہ کچھ وکلاء وارڈز میں داخل ہوگئے اور مریضوں پر تشدد شروع کر دیا، مریضوں کے آکسیجن ماسک اُتار پھینکے، ڈرپیس کھینچ کے باہر دے ماریں۔ یہ کون سی انسانیت ہے؟ دنیا کا کون سا قانون اس قبیح حرکت کی اجازت دیتا ہے؟ کل سماعت تھی، فاضل جج بھی وکلاء پر خوب برسے۔  جسٹس علی باقر نجفی نے پی آئی سی پر حملہ کرنیوالے ملزمان کے وکلاء کو کہا آپ کو جرات کیسے ہوئی ہسپتال پر حملہ کرنے کی؟  آپ سرعام تسلیم کریں کہ آپ نے لاہور بار میں پلاننگ کی تھی کہ پی آئی سی پر حملہ کرنا ہے، کیا آپ وضاحت دے سکتے ہیں کہ کیوں حملہ کیا گیا؟ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا آپ کے پروفیشن میں کالی بھیڑیں ہیں، وکلاء کی اس حرکت نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا، اس طرح جنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔

فاضل جج بولے دُکھ اس بات کا ہے کہ آپ اس پر وضاحت دے رہے ہیں۔ ملزمان کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے فاضل جج کو جواب دیا ہم کوئی بھارت سے جنگ لڑنے نہیں آئے تھے، گرفتار وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ موقف تھا وکیل کا، مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وکلا کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا تو بھی اس کا ردعمل یہ ہونا چاہیئے تھا؟؟ پورے ہسپتال کو شمشان گھاٹ بنا دیا گیا۔ اگر تشدد بھی کیا گیا تھا تو وہ ڈاکٹرز یا پیرا میڈیکس کی جانب سے کیا گیا ہوگا، اس میں مریضوں کا کیا قصور تھا؟ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ قبیح حرکت کرنیوالے کوئی اور نہیں بلکہ ملک میں عدل و انصاف کی سربلندی کیلئے پُرعزم  طبقے کے افراد نے انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر سرانجام دیا۔ یعنی عدل و انصاف کی اجتماعی عصمت دری کی شرمناک تاریخ رقم کرنیوالوں کی سرپرستی سے چلنے والوں نے گذشتہ روز برسرعام "انسانیت کی اجتماعی آبرو ریزی" کرکے شرمناک تاریخ رقم کر دی۔

کاش قانون اندھا ہونے کے بجائے صاحب بصیرت ہوتا، مگر افسوس ہمارے ہاں قانون ہی اندھا نہیں، بلکہ اس کے پاسبان و محافظین بھی اندھے، گونگے اور بہرے ہیں۔ ورنہ کل جب کالا کوٹ پہننے والے حیوانیت کا مظاہرہ کر رہے تھے تو قانون نافذ کرنیوالی پولیس اس طرح کھڑی تماشا نہ دیکھتی رہتی۔ ہمارا عدالتی نظام اتنا فرسودہ ہوچکا ہے کہ ان ایوان ہائے عدل میں کسی کی بے گناہی کا پروانہ اس وقت پہنچتا ہے، جب وہ پھانسی کے پھندے پر جھول کر زرق خاک ہوچکا ہوتا ہے، وہاں دل کے مریضوں کی ہائے ہائے کی صدائیں کون سنے گا؟ 6 بھائیوں کی اکلوتی بہن کی سانس کی ڈوری کاٹنے والوں کے ہاتھوں پر گرفت کون کرے گا؟ ستر اسی سالہ چلنے پھرنے سے معذور شخص کی اپنی دل کی مریضہ شریکہ حیات زندگی کا پہیہ چلتا رکھنے کیلئے اس کی ویل چیئر کو دھیل کر بھاگنے کی کوشش کرتا دیکھ کر اس کیساتھ دھول دھپہ کرنیوالوں کو اس انسانیت سوز سلوک کی سزا کون دے گا۔؟

ان کالے کوٹ والوں نے یقیناً قانون کے نصاب میں تاریخ کے بدترین ادوار کی تفصیلات پڑھ رکھی ہوں گی، کیا وہ پی آئی سی واقعہ جیسا کوئی حوالہ دے سکتے ہیں؟ پی آئی سی پر حملہ آور کالے کوٹ دستوں کے وحشیانہ تشدد کی مثال، ظلم کی پوری تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ہم جانتے ہیں اس نظام کو، یہ وکیل بھی کل "باعزت" بری ہو جائیں گے۔ ڈاکٹروں کیساتھ ان کی صلح ہو جائے گی۔ آج بھی کچھ وکلاء پھول لیکر کر پی آئی سی گئے ہیں۔ ڈاکٹروں کو گلدستے پیش کئے ہیں۔ اپنے بھائیوں کے رویئے پر شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس شرمندگی یا اظہار افسوس سے زندگی کی بجھنے والے 6 چراغ دوبار روشن ہوسکتے ہیں۔ 6 خاندانوں کی زندگیوں میں ہونیوالا اندھیرا اجالے میں بدل سکتا ہے۔؟؟ یقیناً نہیں، تو پھر اس فرسودہ اور بے ہودہ نظام کو بدلنا ہوگا۔

دو نہیں ایک پاکستان کا نعرے لگانے والی حکومت کو سوچنا ہوگا کہ قانون کی حکمرانی کیسے قائم ہوسکتی ہے۔ اگر موجودہ حکومت بھی ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے اور مجرموں کو سزا دینے سے مصلحت کا شکار یا قاصر ہے تو اسے بھی اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ ملک پہلے بھی خدا کے سہارے چل رہا ہے اور آئندہ بھی چل سکتا ہے۔ لاشوں پر سیاست کرنیوالوں کو ان کی یہ سیاست مبارک، مگر قانون کی حکمرانی قائم کرنے کیلئے کچھ کر گزرنے کا یہ سنہری موقع ہے۔ اگر اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ آج اگر ہمارا عدالتی نظام ان وکلاء کو سزا سنا دیتا ہے تو یہ سزا آنیوالوں کیلئے مثال بن جائے گی اور ان ججز کا نام تاریخ میں نمایاں حروف میں لکھا جائے گا۔ یہ حکومت اور عدلیہ دونوں کیلئے موقع ہے۔ دونوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 832628
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش