0
Saturday 14 Dec 2019 11:54

بورس جانسن کی کامیابی اور بریگزٹ کا مستقبل

بورس جانسن کی کامیابی اور بریگزٹ کا مستقبل
اداریہ
گذشتہ چند دنوں سے برطانیہ کے انتخابات مغربی و مشرقی میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ مغربی میڈیا کے لیے تو اس کی اہمیت بنتی ہے، کیونکہ کنزرویٹو پارٹی کے جیتنے سے بریگزٹ کا منصوبہ عملی جامہ پہن لے گا اور برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہو جائیگا، لیکن بعض مشرقی ممالک میں برطانیہ کے انتخابات پر لائیو کوریج دی جا رہی ہے اور ان نتخابات کو ٹاک شوز میں زیربحث لایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے بعض ٹی وی چینلز کے اینکرز تو لندن میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور اپنے ناظرین کو برطانوی انتخابات کی پَل پَل کی خبریں دے رہے ہیں۔ عالمی حالات اور کرنٹ افیئرز سے آگاہ رہنا اچھی بات ہے، لیکن برطانوی اخبار کی منٹ منٹ کی خبریں دینے والے اور ناظرین کے اندر ان انتخابات کے حوالے سے خواہ مخواہ کا ہیجان پیدا کرنے والے ان میڈیا مالکان اور انکے اینکرز و پروڈیوسرز صاحبان سے کوئی یہ پوچھے کہ آپ نے اسطرح کی توجہ کبھی امتِ مسلمہ کے مسائل پر دی ہے۔

انہوں نے کبھی فلسطین اور قبلہ اوّل کے بارے میں اتنے پروگرام نشر کیے ہیں۔ یمن کے غریب و نادار شہریوں کے خلاف جاری ظلم و ستم پر کوئی ڈھنگ کی خبر نشر کی ہے۔ برطانیہ کے انتخابات پر ٹاک شوز کرنے والے ٹی وی چینلوں سے کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ ابھی تک امتِ مسلمہ کے مسائل، داعش سے ہونے والے اسلام کو نقصان یا مغربی دنیا میں روز بروز بڑھتے اسلامو فوبیا پر انہوں نے ٹاک شوز کیے ہیں۔ اسلام کو مغربی دنیا میں دہشت گرد مذہب بنا کر پیش کرنے میں مغربی میڈیا رات دن ایک کیے ہوئے ہے اور مسلمانوں کا الیکٹرانک، پرنٹ اور حتیٰ سوشل میڈیا بھی مقامی سیاستدانوں کی لڑائیوں، باہمی جھگڑوں اور زیادہ تیر مار لیا تو برطانوی انتخابات میں کسی مسلمان امیدوار کی کامیابی کو دکھا کر مطمئن ہے۔

آج میڈیا ایک ہتھیار ہے، اس ہتھیار کے ذریعے مسلمان ممالک کے میڈیا کو کم سے کم اسلام کے دفاع کے لیے موثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اسلامی و آفاقی سوچ و فکر رکھنے والے دانشوروں کو میڈیا کی رہنمائی کے لیے آگے آنا ہوگا، وگرنہ مسلمان ممالک کے میڈیا مالکان نان ایشوز کو برننگ ایشوز بنا کر دیکھنے اور پڑھنے والوں کو گمراہ کرتے رہیں گے۔ برطانیہ کے حالیہ انتخابات کی بھرپور کوریج دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے برطانیہ کے اقتدار کا سورج ابھی تک غلام نسلوں کے اذہان سے محو اور غروب نہیں ہوا ہے۔ برطانیہ کی شہریت رکھنے والے اراکین ملکہ برطانیہ کے ہاں بیعت کر چکے ہیں، مشرقی ممالک کے مسلمان کس شوق میں پرائی شادی میں عبداللہ دیوانے بنے ہوئے ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 832639
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش