0
Saturday 14 Dec 2019 19:47

سندھ کی سیاست میں عمران خان کیلئے نئے درد سر

سندھ کی سیاست میں عمران خان کیلئے نئے درد سر
رپورٹ: ایس حیدر

سندھ کی سیاست پاکستان تحریک انصاف کیلئے درد سر بن گئی۔ آٹھ صوبوں کے مطالبے سے پہلے مشورہ کیوں نہیں کیا، کراچی میں وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی فنڈز کے اجراء کے معاملے پر تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں اختلافات پھر سر اٹھانے لگے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کی سیاست سے پاکستان تحریک انصاف پریشان ہوگئی ہے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے آٹھ صوبوں کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے پر وزیراعظم عمران خان سے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے اپنی اتحادی جماعت کی شکایت کردی، جس پر عمران خان نے وفاقی وزیر علی زیدی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کو معاملہ سلجھانے کا ٹاسک سونپ دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم بل واپس لینے کے لئے تیار نہیں اور فوری طور پر نئے صوبوں کے مطالبے پر ڈٹ گئی ہے۔ ملک کی موجودہ اور پیچیدہ صورتحال میں تحریک انصاف کی وفاق میں موجود حکومت دونوں اتحادیوں کو ناراض نہیں کرسکتی، ایک بھی اتحادی کے الگ ہونے پر حکومت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، بیک وقت دونوں جماعتوں کو بھی خوش نہیں رکھا جاسکتا، کراچی میں بڑھتے مسائل پر بھی وزیراعظم اور تحریک انصاف شدید دباؤ میں ہے، وزیراعظم فی الحال نئے صوبوں کے معاملے کو پس پشت ڈالنے کے حامی ہیں، جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لئے اقدامات بھی سست روی کا شکار ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف سندھ میں اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے قومی و صوبائی اسمبلی کے ناراض اراکین کا گروپ بن گیا ہے۔ اختلافات کی شدت کو گورنر سندھ بھی نہ روک سکے ہیں۔ تحریک انصاف سندھ کے قومی و صوبائی اراکین نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بائیکاٹ کی دھمکی دے دی ہے۔ سیف اللہ نیازی نے گورنر سندھ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سندھ سے تحریک انصاف کے سات رکن قومی اسمبلی اور بارہ اراکین سندھ اسمبلی اس ناراض گروپ میں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ناراض گروپ میں فہیم خان، آفتاب جہانگیر، عطاء اللہ، اسلم خان، شکور شاد، جمیل خان اور اکرم چیمہ شامل ہیں۔ ناراض اراکین نے کراچی کو فنڈز کی فراہمی اور ترقیاتی کاموں میں نظرانداز کرنے کا شکوہ کیا ہے۔

ناراض گروپ نے وزیراعظم کی جانب سے وقت نہ دیئے جانے کی بھی شکایت کی ہے۔ وزیراعظم نے معاملے کو فوری حل کرنے کے لئے جہانگیر ترین اور پارٹی کی سندھ قیادت کو احکامات بھی جاری کردیئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ناراض ارکان پہلے اسمبلیوں کے اجلاس سے بائیکاٹ کریں گے، پھر استعفوں کا آپشن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ناراض ارکان قومی اسمبلی میں فہیم خان، آفتاب جہانگیر، عطاء اللہ، اسلم خان، شکور شاد، جمیل خان اور اکرم چیمہ شامل ہیں۔ناراض گروپ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ان کی وزیر اعظم تک رسائی ہی نہیں، وفاقی وزیر مراد سعید سمیت وزیراعظم کے قریبی رفقاء کے ذریعے کوششیں بھی کرچکے مگر وزیراعظم عمران خان سے ملاقات نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق ناراض گروپ نے کابینہ میں شامل کراچی سے دونوں وزراء علی زیدی اور فیصل واوڈا کو اپنا نمائندہ ماننے سے بھی انکار کردیا ہے۔ ناراض ارکان کو شکایت ہے کہ وفاقی وزیر علی زیدی نے ایم این اے جمیل احمد کو پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے سے ہٹوایا اور ان کی جگہ آفتاب صدیقی کو پارلیمانی سیکرٹری میری ٹائم افیئرز لگا دیا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جمیل احمد خان، وفاقی وزیر علی زیدی کی بے ضابطگیوں کی تفصیلات وزیراعظم کو دینا چاہتے ہیں۔ ناراض گروپ کے ذرائع کے مطابق علی زیدی محمود مولوی کو پاکستان شپنگ کارپوریشن کا چیئرمین لگانا چاہتے ہیں اور ان کی وزیراعظم سے ملاقات بھی کرا دی مگر منتیں سماجتیں کرنے کے باجود سندھ سے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ملاقات نہیں کر سکتے۔

مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کی وفاقی حکومت جو پہلے ہی متعدد مسائل کا شکار ہے، اب یہ دو نئے مسائل وزیراعظم خان کیلئے بڑی مشکل کا باعث بن سکتے ہیں۔ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم جس کا اثر کراچی، حیدرآباد، نوابشاہ اور میرپورخاص کی مہاجر آبادی پر ہے جبکہ دوسری طرف جی ڈی اے جو سندھی زبان بولنے والوں کی اکثریت پر مشتمل ہے، سندھ کی تقسیم کے نام پر ان دونوں میں اتحادیوں میں تصادم جہاں صوبے میں لسانی تقسیم کو مزید گہرا کرنے کا باعث بنے گا، وہیں اگر ان دونوں جماعتوں نے حکومت سے علیحدگی اختیار کی تو عمران خان کا وزارت عظمیٰ کا فائز رہنا خطرے میں پڑ جائے گا۔ تاہم دوسری جانب تحریک انصاف کے اندرونی معاملات کیلئے عمران خان نے جہانگیر ترین کو ٹاسک دیا ہے جو عنقریب ان مسائل پر قابو پالیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ناراضگیاں مستقبل میں بھی اپنا اثر دکھائیں گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
خبر کا کوڈ : 832690
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش