0
Saturday 14 Dec 2019 20:12

مذہب کی بنیاد پر شہریت کا متنازع قانون

مذہب کی بنیاد پر شہریت کا متنازع قانون
تحریر: سید اسد عباس

انڈیا میں شہریت کے متنازع ترمیمی بل جو کہ اب ترمیمی ایکٹ کی صورت اختیار کرچکا ہے، کو حزب اختلاف سمیت دیگر سماجی حلقوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ ملک بھر کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ریاست آسام کے مختلف شہروں میں جمعے کو ہونے والے مظاہروں میں دو افراد ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ آسام کے بعد ریاست مغربی بنگال میں جمعے کو شروع ہونے والے مظاہروں کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بظاہر یہ مظاہرے پرامن تھے، لیکن ہاورہ اور مرشد آباد میں مظاہرے پُرتشدد ہوگئے۔ مغربی بنگال کے علاوہ جمعے اور ہفتے کو ممبئی میں مختلف مقامات پر مظاہرے ہوئے ہیں اور وہاں تقریباً 50 افراد کو میرین ڈرائیو پر ہونے والے مظاہرے سے قبل حراست میں لیا گیا اور پھر انہیں رہا کر دیا گيا۔

پونے مرر نامی انڈین اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق جمعے کی نماز کے بعد حیدر آباد اور سکندر آباد میں بھی مظاہرے ہوئے، جن میں جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم ایس آئی او نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور نو سی اے بی اور نو این آر سی کے نعرے لگائے، جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی گذشتہ روز مظاہرے ہوئے، جہاں طلبہ اور اساتذہ نے چیف جسٹس آف انڈیا کے نام ضلع مجسٹریٹ کو یادداشتیں پیش کیں۔ اس سے قبل جمعے کو دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پرامن مارچ میں پرتشدد واقعات اس وقت دیکھنے میں آئے، جب پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا، جس میں تقریباً 50 افراد زخمی ہوگئے۔ یونیورسٹی میں جاری امتحانات ملتوی کر دیئے گئے، جبکہ علاقے میں بس سروس بند ہے۔ جمعے کے روز جمیعت علمائے ہند نے بھی دہلی کے علاقے جنتر منتر پر اس قانون کے خلاف مظاہرہ کیا اور کہا کہ ان کی تنظیم والوں نے ملک کے دو ہزار شہروں اور قصبات میں اس طرح کے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین نے دستور بچاؤ، مذہبی تفریق منظور نہیں، شہریت بل واپس لو، سی اے بی انڈیا کے خلاف سازش ہے جیسے درج نعروں والے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔

یاد رہے کہ شہریت کے ترمیمی بل میں انڈیا میں پناہ لینے والے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے ہندوؤں، بودھ، جین، سکھوں، پارسیوں اور مسیحیوں کو انڈیا کی شہریت دینے کی تجویز دی گئی تھی۔ پڑوسی ملکوں کے مسلمانوں اور ان سے جڑی برادریوں کو اس بل سے باہر رکھا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ان غیر مسلم برادریوں کے لوگ اگر انڈیا میں چھ برس گزار لیتے ہیں تو وہ شہریت کے مجاز ہونگے۔ پہلے یہ مدت گیارہ برس تھی اور اس کے بعد بھی شہریت حاصل کرنے کے عمل میں کافی پیچیدگیاں تھیں۔ بی جے پی کی حکومت کو اس بل کی ضرورت ظاہراً بنگلہ دیش سے آسام میں آکر آباد ہونے والے تیس لاکھ ہندوؤں کی شہریت کے مسئلے کی وجہ سے پیش آئی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ اگر ان پڑوسی ملکوں میں ہندوؤں اور دوسری غیر مسلم اقلیتوں پر ظلم و جبر ہوتا ہے تو وہ انڈیا کے علاوہ کہاں جائیں گے۔؟

تاہم معاملہ فقط آسام اور منسلکہ ریاستوں تک محدود نہیں ہے۔ جامعہ ملیہ کے پروفیسر محمد سہراب کا کہنا ہے کہ جس طرح سے شہریت کی پھر سے تعریف کی جا رہی ہے، اس کی رو سے انڈیا کا جو تصور ہے، اس کی بنیاد ہی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مثال کے طور پر وی دی پیپل آف انڈیا (ہم انڈیا کے شہری) میں اب مسلمان دی پیپل آف انڈیا کا باوقار حصہ نہیں ہیں۔ اس کا دوسرا حصہ جو پوشیدہ ہے اور وہ شہریت ہے، اس میں بنیادی طور پر تبدیلی آگئی ہے، وہ عوام سے ہٹ کر مذہب پر لائی گئی ہے اور ایک نئے طرح کا دہرا پن لایا گیا ہے، جس میں اسلام بمقابلہ دیگر مذاہب کر دیا گیا ہے۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام کے ماننے والے ایک طرح کی علیحدگی کا شکار ہو جائیں گے۔ جمیعت علمائے ہند کے سربراہ محمود مدنی کا کہنا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد اب مسلمان یہاں کے شہری نہیں بلکہ سبجیکٹ ہوں گے اور ایسے میں انڈیا کے آئین اور قوانین میں جو شہریوں کو حقوق حاصل ہیں، وہ انھیں حاصل نہیں ہوں گے۔

آسام پر اس ایکٹ کے ذریعے پڑنے والے اثرات پر اظہار خیال کرتے ہوئے جامعہ ملیہ کے استاد پروفیسر سہراب کا کہنا تھا کہ آسام کا معاملہ پیچیدہ بھی ہے اور جامع بھی۔ وہاں مذہب کے ساتھ ساتھ علاقائی خود مختاری، لسانی خود مختاری، وفاق اور ریاست سے جڑی ہوئی باتیں ہیں۔ آسام کے عوام اس بل کی آئین کے رو سے مخالفت کر رہے ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے آسام کے دارالحکومت گوہاٹی میں مقیم جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق ریسرچ سکالر خالد لطیف نے بتایا کہ یہاں حالات نازک اور تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں جو مظاہرے اور احتجاج ہو رہے ہیں، اس میں یہ خوف پوشیدہ ہے کہ اگر پڑوس کے ممالک سے آنے والے ہندوؤں کو شہریت دے دی جاتی ہے تو آسام کے اصل باشندے اقلیت میں آجائيں گے۔

وہ نہیں چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی بنگالی بولنے والی آبادی کو یہاں رکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آسام میں جو این آر سی لایا گیا، وہ سنہ 1985ء میں وزیراعظم راجیو گاندھی اور آل آسام طلبہ تنظیم کے درمیان معاہدے کا نتیجہ تھا۔ اب جب اس کے غیر متوقع نتائج سامنے آئے ہیں، جس میں مسلم تارکین وطن سے زیادہ غیر قانونی ہندو تارکین وطن نکلے تو اب یہ ان کے لیے پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ یہ اب مذہب کی بنیاد پر احتجاج نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ جو بھی غیر قانونی تارکین وطن ہے، اسے بلا تفریق مذہب و ملت آسام سے نکالا جائے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس متنازع ترمیمی شہریت ایکٹ کو فرقہ وارانہ اور مسلم مخالف قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم یو این ایچ آر نے جمعے کو ایک ٹویٹ میں کہا: ہمیں تشویش ہے کہ انڈیا کا نیا شہریت کا ترمیمی قانون بنیادی طور پر امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ نیا قانون افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو جبر سے بچانے کے لیے شہریت دینے کی بات کرتا ہے، لیکن یہ سہولت مسلمانوں کو نہیں دیتا ہے۔ یو این ایچ آر نے لکھا ہے کہ تمام تارکین وطن، خواہ ان کے حالات کیسے بھی ہوں، انہیں عزت و وقار، سلامتی اور انسانی حقوق کے حصول کا حق ہے۔ انڈیا کے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مذہبی امور پر نظر رکھنے والے سرکردہ امریکی سفیر نے انڈیا کے شہریت کے ترمیمی بل کے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ حکومت ہند مذہبی آزادی کے ساتھ اپنے آئینی عہد کی پابندی کرے گی۔

بی جے پی کے گذشتہ دور اقتدار میں یہ بل لوک سبھا سے تو منظور ہوا، تاہم راجیہ سبھا سے پاس نہ ہوسکا، جو نئی حکومت کی تشکیل کے بعد دس دسمبر کو لوک سبھا، گیارہ دسمبر کو راجیہ سبھا سے منظور ہوا اور بارہ دسمبر کو صدر کی توثیق کے بعد ایکٹ کا درجہ اختیار کر گیا۔ اسی بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جھارکھنڈ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے کہا تھا کہ اپنے سیوک (خادم) پر بھروسہ کیجیے، کچھ نہیں ہوگا۔ شہریت ترمیمی بل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے، جس کی وجہ سے آسام یا شمال مشرق کے باشندوں کے مفاد کو نقصان ہو۔ نریندر مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کانگریس کی تاریخی غلطیوں کی اصلاح کر رہے ہیں۔

یہ سیوک اس سے قبل کشمیر کے حوالے سے ہندوستانی آئین کی شق 370 اور 35 اے کا خاتمہ کرچکا ہے، جس سے ریاست کشمیر میں بے چینی اور پانچ اگست سے ریاست میں کرفیو ہے۔ نریندر مودی کی اگلی جیت ہندوستانی شہریت کا ترمیمی ایکٹ ہے، جس نے آسام اور پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اندر بے چینی کو جنم دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی جی اور کون کون سی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ ناگالینڈ، ٹیپورہ، خالصتان بھی مودی کا منہ تک رہے ہیں۔ امید ہے فاتح ہندوستان جلد یا بدیر ان غلطیوں کی اصلاح کی بھی کوشش کریں گے۔ آئینی جنگ تو وہ شاید جیت جائیں، تاہم ان کے ان اقدامات کے سبب وہ وقت دور نہیں کہ جب ہندوستان کی ساجھے کی ہانڈی بھرے چوراہے میں پھوٹے گی اور تاریخ ایک مرتبہ پھر ہندوستان کی تقسیم کا منظر اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرے گی۔
خبر کا کوڈ : 832811
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش