0
Wednesday 18 Dec 2019 13:08

عراق و لبنان میں آشوب و انتشار کے اسباب

عراق و لبنان میں آشوب و انتشار کے اسباب
تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم

عربی ممالک میں موجود حالیہ انتشار ہرگز اسرائیل کے حق میں نہیں ہوگا، مگر یہ کہ عالمی سامراج نے خود ہی اس انتشار کو رقم کیا ہو، لبنان و عراق میں جو کچھ بھی رونما ہوا ہے، اس کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ تقریباً تمام مبصرین و تجزیہ نگاروں کا یہ ماننا ہے کہ ان ممالک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا آغاز معیشتی و اقتصادی مشکلات کی بنا پر ہوا اور لوگوں کی حکومت سے ناراضگی کا سبب بھی یہی اقتصادی مسائل تھے۔[1] لیکن احتجاجات کا جاری رہنا اور اس کا شدت پسندانہ انداز اختیار کر لینا نیز دشمن کے ذرائع ابلاغ میں رونما ہونے والے واقعات کو مبالغہ آرائی کے ساتھ دکھایا جانا اور میڈیا کے ذریعہ مسائل کو بڑھا چڑھا کر کوریج یہ تمام باتیں وہ ہیں، جو بتا رہی ہیں کہ بین الاقوامی صہیونیزم اور صہیونیت کے گماشتے ان اعتراضات کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتے ہیں اور عوام کے جانب سے ہونے والے احتجاج کو ایک ایسا رخ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جن سے ان کا مفاد پورا ہوسکے۔

عراق:
عراق کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ سقوط صدام و داعش کی یلغار کے بعد ایران ان اہم ترین ممالک میں سے ہے، جنہوں نے عراق کی حمایت کی، ایران کی جانب سے عراقی عوام کی حمایت ہی اس بات کا سبب بنی کہ عراق کے حکومتی اہل کاروں اور ذمہ داروں کے درمیان ایران اقتصادی و سیاسی اعتبار سے اثر انداز ہوسکے، اسی بنا پر عراقی عہدے داروں کے درمیان جتنا ممکن تھا، ایران کا سیاسی و اقتصادی اثر و رسوخ بڑھا۔ ایران امریکہ و اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن ہے اور  امریکہ کی جانب سے مادی و انسانی بھاری قابل غور خرچ کے بعد عراق میں ایران کی موجودگی ایران کے مخالفوں کے لئے بہت سخت اور دردناک دکھ رہی ہے، عراق کے ساتھ ایران کا تعاون خطرآفریں ہے اور یہی وجہ ہے کہ عراق کے حالیہ داخلی انتشار میں لوگوں کو ایران کے خلاف اکسانا اسرائیل اور اور خطے میں موجود عالمی استکبار کے مفاد میں ہوگا۔

عراق کے بارے میں وہ قابل غور باتیں جو اس ملک میں دشمن کی نقل و حرکت کا سبب بنی ہیں، درج ذیل ہیں:
1۔ عراق نے ایران کے اوپر لگائی جانے والی اقتصادی پابندیوں میں امریکہ کی مدد نہیں کی۔
2۔ حشد الشعبی کا عراق میں روز بروز اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے، یہ وہ فورس ہے، جس کا ایران کے ساتھ دیرینہ گہرا تعلق ہے۔
3۔ ان باتوں کے علاوہ شام و عراق کے درمیان قائم بوکمال سرحد حال ہی میں دوبارہ کھل گئی ہے، جو کہ خود اسرائیل کے لئے ایک خطرہ ہے، کیونکہ اس کے بعد سے  مزاحمتی محاذ سے رابطہ بہت آسان ہو جائے گا۔
4۔ ایک عربی ملک کا جمہوری طرز پر چلنا اور ڈیموکریٹک ہونا کسی بھی طرح امریکہ و اسرائیل کے حق میں نہیں ہے، چونکہ یہ جمہوریت اس بات کا سبب بنے گی کہ امریکہ کے اتحادی جیسے سعودی عرب وغیرہ داخلی شورش کا شکار ہو جائیں، وہاں بھی انقلاب کی آوازیں اٹھنے لگیں اور پھر ان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں[2]۔ یہ دلائل ہیں کہ جن کی بنیاد پر  دشمن ممالک یہ چاہتے ہیں کہ عراق میں خلفشار رہے اور وہاں کے داخلی مسائل کو آشوب میں تبدیل کر دیں۔

لبنان:
یہ معاملہ تو عراق کا تھا، جہاں تک لبنان کی بات ہے تو لبنان کے حالیہ آشفتہ حالات کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ دشمنوں کا محاذ (بین الاقوامی صہیونیت، جس کی کمان امریکہ و اسرائیل کے ہاتھ میں) اس کوشش میں ہے کہ ان اعتراضات کو حزب اللہ کی جانب موڑ دے اور حزب اللہ کو موجودہ حالات کا ذمہ دار ٹہرائے، چونکہ سید حسن نصراللہ نے اس بات کو واضح کر دیا تھا کہ وہ حکومت کے استعفیٰ کو لبنان کیلئے بہتر  نہیں جانتے ہیں اور اس میں مصلحت نہیں کہ حکومت اپنے امور سے کنارہ کشی اختیار کرے، البتہ اس حمایت کی وجہ مکمل طور پر واضح ہے، چونکہ حکومت کی بر طرفی اور پھر یک نئی حکومت کی تشکیل کے لئے تقریباً ایک سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے، اس دوران پورا ملک آشوب و اضمحلال کا شکار ہو جائے گا۔ ان سب باتوں کے علاوہ صہیونی رژیم عام حالات میں بہت ہی آسانی کے ساتھ لبنان کی فضائی، زمینی اور دریائی حدوں کی خلاف ورزی کرتی رہتی ہے، جبکہ حکومت اگر گر جائے گی تو لوگ اپنے داخلی مسائل میں اتنا مشغول ہو جائیں گے کہ علاقائی مسائل اور اسرائیل سے جڑے معاملات میں ان کی توجہ نہیں رہ جائے گی۔

البتہ بعض تجزیہ نگاروں نے لبنان کے حالیہ انتشار کو انرجی و تیل سے بھی گرہ باندھ کر دیکھا ہے، ان کا مطمع نظر یہ ہے کہ یہ سب تیل اور انرجی کا کھیل ہے، اس لئے کہ یہ سارا خلفشار اور یہ سارا آشوب و بلوا شمالی بیروت کے سمندر میں تیل کے  ملنے اور تیل کے پانی سے نکالے جانے کے سلسلہ سے شروع ہونے والی فعالیت کے ساتھ ساتھ سامنے آیا ہے، تیل کی تاریخ اور تیل کی دولت سے مالا مال ملکوں کو پتہ ہے اور وہ گواہ ہیں کہ کسی بھی سرزمین کی انرجی کو غارت کرنا اور کسی بھی ملک کے قومی سرمایہ کو ہڑپ کر لینا یوں ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ سارا کام کسی بھی ملک  میں قومی، سیاسی اور مذہبی انتشار سے جڑا ہوتا ہے۔[3] ایک اور احتمال یہ ہے کہ موجودہ آشوب اور انتشار کے ذریعے دشمنوں کا مقصد یہ ہے کہ حزب اللہ کی فورسز کو شام سے لبنان میں بلایا جا سکے، تاکہ آگے چل کر شام میں ایک بار پھر دہشت گردوں کے داخلہ کو آسان بنایا جا سکے اور یوں ایک طویل المدت جنگ کو شام میں پھر سے شروع کیا جا سکے۔[4]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی:
[1]۔ https://www.alef.ir/news/3980804153.html و https://www.radiofarda.com/a/lebanon-protests/30222756.html
[2]۔ https://kavosh.ir/post/15635.
[3]۔
http://www.jahannews.com/news/706785.
[4]۔
https://www.mizanonline.com/fa/news/560450
خبر کا کوڈ : 833497
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش