1
Monday 23 Dec 2019 20:33

آل سعود رژیم کے مقابلے میں عالم اسلام متحد

آل سعود رژیم کے مقابلے میں عالم اسلام متحد
تحریر: احمد کاظم زادہ

سعودی عرب نے نہ صرف خود ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت سے گریز کیا بلکہ پاکستان کو بھی اس میں شرکت سے روک دیا۔ سعودی حکام نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ اگر وزیراعظم عمران خان کوالالمپور اجلاس میں شریک ہوئے تو وہ پاکستان کے اسٹیٹ بینک سے اپنا سارا سرمایہ نکال لینے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں کام کرنے والے 40 لاکھ پاکستانیوں کو بھی وطن واپس بھیج دے گا۔ اس کی یہ دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور وزیراعظم عمران خان نے عین وقت پر اس اجلاس میں شریک نہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ اسی طرح بعض باخبر ذرائع کے مطابق سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز نے ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کو فون کر کے دھمکی دی کہ اگر وہ کوالالمپور سربراہی اجلاس کینسل نہیں کریں گے تو ان کا نام دہشت گرد افراد کی لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔ لیکن ان کی یہ دھمکی کارگر ثابت نہ ہو سکی اور ملائیشیا کے وزیراعظم اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔
 
سعودی عرب نے ایسے وقت کوالالمپور سربراہی اجلاس روکنے کی بھرپور کوشش کی ہے جب اس اجلاس کے انعقاد کا مقصد اسلامی تہذیب و تمدن کا احیاء، عالم اسلام کو درپیش مشکلات اور مسائل کے نئے اور مفید راہ حل تلاش کرنا، مسلمانان عالم کی فلاح و بہبود میں ایکدوسرے کے ساتھ تعاون اور مسلمان لیڈران، روشن خیال شخصیات، محققین اور مفکرین کے درمیان ایک عالمی سطح کے نیٹ ورک کا قیام بیان کیا گیا تھا۔ لہذا سعودی عرب کی جانب اس اجلاس کی مخالفت اور اس کے انعقاد کی راہ میں مشکلات کھڑی کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکمران ان اہداف کے مخالف ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سعودی عرب اس سربراہی اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم کرتا۔ بلکہ او آئی سی کے چارٹر کے مطابق عمل پیرا ہو کر کوالالمپور سمٹ جیسے نئے پلیٹ فارم کی تشکیل کی ضرورت ہی ختم کر دیتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی جانب سے ایسے سربراہی اجلاس کے انعقاد کی پیشکش کرنے اور اسلامی دنیا کے مفکرین اور اہم شخصیات کی جانب سے اس کا پرتپاک استقبال کئے جانے کی بنیادی وجہ ہی وہ عظیم خلا ہے جو او آئی سی اور عرب لیگ جیسے بڑے بڑے اداروں کے باوجود عالمی سطح پر اسلامی دنیا سے متعلق امور کے بارے میں محسوس کیا جا رہا تھا۔
 
آل سعود رژیم نے او آئی سی اور عرب لیگ کو اپنے ہاتھوں یرغمال بنا رکھا ہے اور ان کی مستقل حیثیت خطرے میں پڑ چکی ہے۔ جب بھی سعودی حکمرانوں کو اپنے سیاسی اہداف کے حصول کیلئے ان اداروں کی ضرورت پڑتی ہے تو اپنی یا اپنے کسی کٹھ پتلی ملک کی میزبانی میں اس کا اجلاس منعقد کروا لیا جاتا ہے اور جب خود ضرورت نہیں ہوتی تو چاہے اسلامی دنیا میں گھمبیر سے گھمبیر مسئلہ پیش کیوں نہ آ جائے ان اداروں کا اجلاس ہی منعقد نہیں ہوتا۔ اسلامی دنیا یا خطے میں رونما ہونے والے ایسے واقعات جن میں سعودی حکمرانوں کی دلچسپی نہیں ہوتی او آئی سی اور عرب لیگ کی جانب سے بھی نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔ سعودی حکمرانوں کی جانب سے ان اداروں پر اسی اجارہ داری کے باعث کوالالمپور سربراہی اجلاس کے انعقاد کی ضرورت محسوس کی گئی تاکہ اسلامی دنیا کو اس کمزور اور متزلزل حالت سے باہر نکالا جا سکے۔ لہذا اس اجلاس میں انجام پانے والے اہم اور بنیادی فیصلے عالم اسلام کو بحرانی صورتحال سے باہر نکالنے میں انتہائی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
 
اگرچہ سعودی حکمرانوں کی لن ترانیوں کے باعث ممکن ہے کم از کم اس مرحلے میں عالم اسلام کی تمام صلاحیتیں بھرپور انداز میں بروئے کار نہ لائی جا سکیں لیکن دوسری طرف سعودی عرب اور اس کے پٹھو حکمرانوں کی عدم موجودگی اس نئے اتحاد کیلئے سنہری موقع ہے اور رکن ممالک زیادہ آسانی سے مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہو سکتے ہیں۔ اس تلخ حقیقت پر ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے برسراقتدار آنے کے بعد سعودی عرب او آئی سی اور عرب لیگ کے چارٹر اور اہداف سے بہت دور ہو گیا ہے۔ سعودی عرب نے ان دونوں تنظیموں کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ سعودی حکمران صدی کی ڈیل کے روپ میں مظلوم فلسطینی عوام کے مسلمہ حقوق سے بھی دستبردار ہو چکے ہیں۔ اگرچہ آل سعود رژیم یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ دنیا میں اس کا واحد دشمن ایران ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اور وہ اسلامی دنیا میں ہر ابھر کر سامنے آنے والے اسلامی ملک کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ آل سعود رژیم کی احمقانہ اور متعصبانہ پالیسیوں کا تاوان ترکی، قطر اور پاکستان جیسے اسلامی ملک چکا رہے ہیں اور ان کا نتیجہ عالم اسلام کے کمزور ہونے کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 834406
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش