0
Friday 27 Dec 2019 20:24

پھانسی سے پہلے تعزیت

پھانسی سے پہلے تعزیت
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

یہ دو دن کی زندگی ہے! جو بھی ملے کھا لیجئے، چیونٹی سے لے کر زرافے تک۔ جو ممکن ہو وہ ہتھیا لیجئے، کسی کے پلاٹ سے لے کر درخت تک۔ جو  کرسکتے ہیں، وہ کر لیجئے، چوری سے لے کر قتل تک۔ جو کھا سکتے ہیں، وہ کھا لیجئے، رشوت سے لے کر سود تک۔ جہاں تک بول سکتے ہیں، جھوٹ بول لیجئے، سانحہ بنگلہ دیش سے لے کر سانحہ راجہ بازار راولپنڈی تک۔ جہاں اور جس طرح اپنے مسلک اور فرقے کو منوا سکتے ہیں، منوا لیجئے۔ اپنے مخالفین کو کافر کافر کہہ کر قتل کروانے سے لے کر پاکستان آرمی کے نعروں سے یارسول اللہ اور یاعلی جیسے نعرے نکلوانے تک۔ جس طرح دوسروں کو ڈرا اور دبا سکتے ہیں، ڈرا اور دبا کر رکھئے، اے پی ایس پشاور کے بچوں سے لے کر مسافر بسوں سے مسافروں کو اتار کر قتل کرنے تک۔ آپ جو کرسکتے ہیں کر لیں، چونکہ دو دن کی زندگی ہے!

یہاں کوئی مستقل طور پر دوست اور دشمن نہیں، یہاں کوئی نظریات اور افکار نہیں، یہاں کوئی اصول اور قانون نہیں، یہاں کوئی معیار اور میزان نہیں، یہاں صبح کا دوست ظہر کے وقت دشمن اور ظہر کا دشمن عصر کے وقت دوست اور عصر کے وقت کا دشمن مغرب کے وقت پھر سے دوست بن جاتا ہے۔ یہاں دوستی اور دشمنی کا فیصلہ مفاد کی بنا پر ہوتا ہے۔ مفاد میں بھی جو نقد ہو، وہی مقدم ہے۔ آج کا مفاد مستقبل کے ادھار پر قربان نہ کیجئے۔ آنے والا کل کس نے دیکھا ہے، بس آج اپنا پیٹ بھر لیجئے، آج پیٹ بھرنے کیلئے صرف لقمے پر اکتفا نہ کیجئے بلکہ لقمہ تر ہونا چاہیئے۔ وہ غذا ہی کیا جو لذیذ نہ ہو اور وہ دسترخوان ہی کیا، جس پر شراب نہ ہو۔ لذتوں کے حصول میں شراب و کباب اور جنس کی تبدیلی و لواط سب کچھ کر لیجئے، چونکہ زندگی دو دِن کی ہی ہے۔ روزانہ لیجئے ٹرن، ٹرن پہ ٹرن بلکہ یوٹرن اور ویسے بھی ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں۔

اس دو دن کی زندگی کو گزارنے کا ایک اور انداز بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ زندگی  اللہ کی امانت ہے، یہ عرصہ حیات بہت مختصر ہے، اس میں جو کرنا ہے، اس کا حساب دینا ہے، اقتدارِ اعلیٰ فقط اللہ کے پاس ہے، وہی حاکم ہے اور جو حاکم ہے، وہی منصف اور قاضی ہے اور جو منصف اور قاضی ہے، اس کا تعلق کسی مسلک اور فرقے سے نہیں ہے، وہی جو مسالک اور فرقوں سے بالاتر ہے، وہی شاہد اور گواہ بھی ہے اور جو شاہد اور گواہ ہے، اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ بس اور بس یہ دو دن کی زندگی ہے! اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے، جو آج کریں گے، اس کا کل حساب  دیں گے، جو آج بوئیں گے، وہی کل کاٹیں گے، جو آج کریں گے، وہی بھریں گے۔ اس دو دِن کی زندگی میں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ آج کی زندگی بہت مختصر ہے اور آنے والا کل بہت طولانی۔ جو آج مہلت دینے والا ہے، وہی کل کو حساب لینے والا ہے۔

ہمارے سامنے اس زندگی کے بارے میں صرف یہی دو نظریئے ہیں، ایک یہ ہے کہ  دو دن کی زندگی ہے! جو کرسکتے ہیں، وہ کر لیجئے اور دوسرا یہ ہے کہ دو دن کی زندگی ہے! لہذا ان دو دونوں کیلئے اپنی ابدی زندگی کو برباد نہ کیجئے، اب یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے، ہم ایک آزاد قوم ہیں۔۔۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ ہم اس دو دِن کی زندگی کو کس انداز میں گزارتے ہیں، ہمارے حکمران اور ادارے، ہمارے سیاستدان اور عوام کس نہج پر زندگی گزار رہے ہیں، کہیں ہماری زندگی کی ریل مفادات کی پٹڑی پر تو نہیں دوڑ رہی، کہیں ہمارا اقتدار اعلیٰ اللہ کے بجائے کسی اور کے ہاتھ میں تو نہیں! کہیں ہمارے ریاستی فیصلے سیاسی اصولوں کے بجائے عسکری اور معاشی دھمکیوں کے نتیجے میں تو نہیں ہوتے، کہیں ہم آئین کی بالا دستی کے بجائے اس نظریئے کے قائل تو نہیں کہ جنگ میں سب جائز ہے!

اور ہاں آئین کی بالا دستی سے یاد آیا کہ گذشتہ دنوں ہماری عدالتوں نے ماضی کے  ایک مقتدر حکمران کو غدار قرار دے دیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے لے کر سانحہ ساہیوال کے ملزموں کی رہائی تک کے عدالتی فیصلے ہمیں چپ کروانے کیلئے کافی ہیں، لیکن اس وقت ہماری خاموشی کو ہمارا تعجب جھنجوڑ رہا ہے، تعجب اس بات کا ہے کہ وہ جنہوں نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر نجانے کتنے ہی لوگوں کو غدار کہہ کر یرغمال بنایا ہوا ہے، لاپتہ کر رکھا ہے، آج وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ خبردار فلاں کو غدار نہ کہا جائے۔ ہم عرض یہ کرنا چاہتے ہیں کہ ظلّ الٰہی! ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آپ ماورائے عدالت لوگوں کو غدار قرا دے کر لاپتہ کر دیں، لوگوں کی کھال ادھیڑ دیں، خاندان کے خاندان لاوارث ہو جائیں تو ٹھیک ہے! وہ سب ٹھیک ہے! لیکن کسی کی خاطر اگر باقاعدہ عدالت سجے، جرح  ہو، ثبوت پیش ہوں اور قاضی اپنا فیصلہ صادر کرے تو اس ساری عدالتی کارروائی کے باوجود آپ یہ برداشت نہ کرسکیں کہ فلاں کو غدار کہا جائے۔

ظل الٰہی! اِس سے آپ اُس ماں کے درد کو سمجھئے، اُس بیوہ کے دکھ کو سمجھئے، اُس بیٹی کے غم کو سمجھئے، اُس باپ کے آنسووں کو سمجھئے، جس کے جگر کے ٹکڑے کو آپ نے ماورائے قانون غدار قرار دے رکھا ہے۔ ہم حضور کو نیک و بد سمجھائے جاتے ہیں! ہم دست بستہ عرض کر رہے ہیں! عالی جاہ! یہ دو دن کی زندگی اور دو دن کا اقتدار ہے۔ اب آپ کی مرضی ہے کہ آپ جو چاہیں، وہ کریں اور یا پھر آپ یہ احساس کریں کہ یہ زندگی اور یہ اقتدار اللہ کی امانت ہے اور آپ کو اپنے ہر عمل کا جواب اللہ کی بارگاہ میں دینا ہے۔ بہرحال آپ ہماری باتوں پر کان دھریں یا نہ دھریں اور آپ کے غدار کو پھانسی ہو یا نہ ہو، پھر بھی اس بائیس کروڑ قوم کا ہر فرد آپ کو تعزیت پیش کرتا ہے اور آپ کے غم میں برابر کا شریک ہے، خدا را آپ بھی اس قوم کے دکھوں کو سمجھیں اور اس کے غموں میں شریک ہو جائیں۔
خبر کا کوڈ : 835157
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش