1
Saturday 4 Jan 2020 12:12

امریکہ ایران کشیدگی، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

امریکہ ایران کشیدگی، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
تحریر: تصور حسین شہزاد

بغداد ہوائی اڈے پر جمعہ کے روز علی الصبح فضائی حملے میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی، عراقی ملیشیاء الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی مہندس سمیت 10 افراد شہید ہوگئے۔ بغداد ہوائی اڈے پر داغے گئے 3 راکٹ کارگو ہال کے قریب گرے، راکٹ حملے سے 2 کاروں کو آگ بھی لگی۔ راکٹوں سے اہم مہمانوں کو ایئرپورٹ لانے والی گاڑیاں تباہ ہوئیں، راکٹ حملے سے قبل سائرن بجے، فضا میں ہیلی کاپٹر اُڑتے دیکھے گئے۔ پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کو ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر مستقبل میں ایران کی جانب سے حملوں کو روکنے کیلئے شہید کیا گیا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ایران بھر میں سوگ جاری ہے جبکہ ایرانی حکام نے اس واقعہ کو بہت بڑا سانحہ قرار دیا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد آیت اللہ خامنہ ای نے القدس فورس کے بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی کو فورس کا نیا سربراہ نامزد کر دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق جنرل اسماعیل قاآنی نے عہدہ سنبھالتے ہی کہا ہے کہ "قوم صبر سے کام لے اور پورے مشرق وسطیٰ میں امریکیوں کی لاشیں گرتی دیکھیں۔"

دوسری جانب امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں اور سفارتکاروں کو ہر قسم کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، جبکہ پاکستان میں بھی تمام امریکی قونصلیٹس اور سفارتخانے کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے جنرل باجوہ کو قاسم سلیمانی سے متعلق امریکی اقدام سے آگاہ کیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ ایران خطے میں صورتحال کو کشیدہ کر رہا ہے۔ امریکہ اپنی تنصیبات، مفادات، اہلکاروں اور شراکت داروں کا تحفظ کرے گا۔ مائیک پومپیو نے آرمی چیف کو بتایا کہ خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ امریکی صدر نے بھی پریس کانفرنس کی اور کہا کہ ہمارے اقدامات جنگ شروع کرنے کیلئے نہیں ہوتے، ہم نے خطے میں جنگ کے خاتمے کیلئے بغداد ایئرپورٹ پر حملہ کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی خبر سن کر سکھ کا سانس لیا ہے کہ جنرل سلیمانی کی دہشت ختم ہوگئی ہے۔ امریکی صدر نے اپنی مختصر پریس کانفرنس میں مخالفین کو تنبیہہ کی کہ ہم آپ کو ڈھونڈ لیں گے، ہم آپ کو تباہ کر دیں گے اور ہم ہمیشہ امریکیوں کی حفاظت کریں گے۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ایران بین الاقوامی سطح پر متعدد قانونی اقدامات کرے گا، تاکہ سلیمانی کے قتل کیلئے امریکہ کو سزا دلوائی جا سکے۔ اس سے پہلے حملے کے فوری بعد جواد ظریف نے ٹویٹ میں امریکہ کو بین الاقوامی دہشتگردی کا مرتکب قرار دیا تھا۔ ایران نے فوری طور پر اس حملے کی مذمت کی اور اس کا "کڑا بدلہ" لینے کا عزم کیا۔ ایران بھر میں لاکھوں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ و اسرائیل کیخلاف مظاہرے کئے، جو آج بھی جاری ہیں۔ مظاہرین نے امریکی و اسرائیلی پرچم نذر آتش کئے۔ بغداد حملے کے بعد یہاں پاکستان کیلئے اس وقت بہت ہی مشکل صورتحال پیدا ہوچکی ہے، جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد اگر پاکستان اس معاملے میں ملوث ہوتا ہے تو بھی خطرہ ہے اور اگر سائیڈ پر بیٹھتا ہے تو بھی خطرات موجود ہیں۔ مائیک پومپیو نے وزیر خارجہ کی بجائے جنرل باجوہ کو اس لیے فون کیا ہے کیونکہ امریکہ پاکستان کی مدد چاہتا ہے۔ قاسم سلیمانی کی شہادت کے جنوبی ایشیاء کیلئے بہت ہی اہم اثرات ہوسکتے ہیں۔

افغانستان کی سرحد ایران سے ملتی ہے اور وہاں 12 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، پاکستان کی سرحد بھی ایران سے ملتی ہے، پاکستان کی سعودی عرب کیساتھ گہری پارٹنرشپ اور امریکہ کیساتھ اہم تعلقات ہیں۔ بھارت کے ایران اور امریکہ کیساتھ اہم تعلقات ہیں، انڈیا اور پاکستان کے بہت سے معاشی بالخصوص انرجی سیکٹر میں مفادات مشرق وسطیٰ سے وابستہ ہیں، دونوں ملکوں کے شہریوں کی بڑی تعداد بھی روزگار کے سلسلہ میں مشرق وسطیٰ میں موجود ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کیساتھ رابطہ میں یہ اہم بات ہے کہ پومپیو نے اتنی جلدی پاکستان کو کال کر دی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان مکمل طور پر ایران مخالف سعودی اور امریکی کیمپ میں جانے کی تیاری کر رہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس سارے قضیئے میں سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات یکدم بڑھیں گے۔

اگر وزیراعظم پاکستان عمران خان امریکی بلاک کا انتخاب کرتا ہے تو یہ پاکستان کیلئے بہت ہی خطرناک صورتحال بن سکتی ہے۔ پومپیو نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جگہ جنرل باجوہ کو کال اس لئے کی ہے کہ امریکہ اس اقدام کے بعد پریشان ہے اور وہ صورتحال کنٹرول کرنے کیلئے پاکستان سے مدد مانگ رہا ہے۔ پاکستان ایران کیساتھ اہم بارڈر شیئر کرتا ہے، اگر پاکستان معاملے میں گھستا ہے تو بہت سے خطرات ہیں، لیکن اگر پاکستان سب چیزوں سے الگ تھلگ ہو کر بیٹھ جاتا ہے تو بھی بڑے خطرات موجود ہیں، یہ بہت ہی عجیب صورتحال بن گئی ہے۔ پاکستان میں حکومت کو کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر پہلے ہی تنقید کا سامنا ہے، مگر اب امریکہ کی اس حرکت سے پاکستان مزید مشکل میں مبتلا ہوگیا ہے۔ پاکستان کو اس حوالے سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس بلاک کا انتخاب کرے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایران کی پوزیشن مستحکم دکھائی دیتی ہے۔ ایران کے افغانستان میں طالبان کیساتھ تعلقات ہیں، جو امریکہ کیلئے خطرناک ہوسکتے ہیں۔ عراق، شام اور لبنان میں بھی ایران کا اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، اگر جنگ ہوتی ہے تو اس میں امریکا کا نقصان زیادہ ہوگا۔

اُدھر حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے بھی امریکہ کیخلاف "اعلان جنگ" کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہم بدلہ لیں گے۔ عراق میں بھی ایسی فورسز موجود ہیں، جو ایران کے اشارہِ آبرو پر کچھ بھی کرسکتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورت میں امریکہ کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکہ نے عراق سے اپنے تمام اہم افراد کو نکال لیا ہے، جبکہ صرف امریکی فوج کے کچھ اہلکار  موجود ہیں، جو عراقی فوج کو ٹریننگ کیلئے وہاں موجود ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کیلئے صورتحال کافی مشکل ہوچکی ہے۔ اس معاملے میں پاکستان کے اندر سے بھی ردعمل آسکتا ہے، اس لئے حکومت کو بہتر انداز میں سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کرنا ہوگا، تاکہ معاملے کو بہتر انداز میں حل کیا جائے، یہ صورتحال موجودہ حکومت کی ذہانت کا ایک کڑا امتحان ہے، دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی حمایت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

امریکہ نے ایران کیساتھ معاملے پر پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کیلئے "رشوت" دینے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ امریکہ نے آئی ایم ایف کا ایک پیکیج بھی بحال کر دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کیلئے بین الاقوامی فوجی تعلیم و تربیت پروگرام دوبارہ بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منظوری کا مقصد پاکستان کی حمایت حاصل کرنا ہے، جبکہ امریکہ نے فوجی امداد کی بحالی کو مشروط قرار دیا ہے۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ نے آرمی چیف کو امریکہ کی مدد کرنے کے صلے میں فوجی امداد بحال کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم آرمی چیف نے اس حوالے سے سوچنے کا وقت مانگا ہے۔ جنرل حمید گل کہا کرتے تھے کہ امریکہ ایران پر براہ راست حملہ نہیں کرے گا، بلکہ وہ پڑوس کے ممالک میں ہی ایرانی مفادات کو نقصان پہنچائے گا، اب تک کی امریکہ پالیسی تو یہی چل رہی ہے، تاہم اب کچھ حلقے کہہ رہے ہیں کہ قاسم سلیمان کی شہادت کی آڑ میں بھی نشانہ پاکستان ہی ہے۔ امریکہ پاکستان کا سی پیک منصوبہ لپیٹنا چاہتا ہے، جس کیلئے ایسی فضا بنا دی گئی ہے کہ پاکستان اِدھر کا رہے نہ اُدھر کا۔

بزرگ کہا کرتے ہیں کہ ہمسائے نہیں بدلے جا سکتے، اس لئے پاکستان کو کوئی بھی پالیسی مرتب کرنے سے پہلے سات سمندر پار بیٹھے امریکہ کو ترجیح دینے سے پہلے چین اور ایران کیساتھ اپنے تعلقات کو ترجیح دینی چاہیئے۔ اس میں امریکہ کے مفادات کچھ بھی ہوں، ہمیں پاکستان کا مفاد دیکھنا چاہیئے اور پاکستان تب ہی محفوظ رہ سکتا ہے، جب ہمارے ہمسایوں کیساتھ اچھے تعلقات ہوں۔ چین نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر محتاط ردعمل دیا ہے، جبکہ روس نے بھی اسے جارحیت قرار دیا ہے۔ اس صورتحال میں روس، چین، ترکی، ایران، افغانستان، شام، قطر، عراق اور لبنان ایک بلاک میں دکھائی دے رہے ہیں جبکہ امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل ایک طرف کھڑے ہیں، جبکہ پاکستان اس وقت ایک دو راہے پر کھڑا ہے۔ ماضی کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو امریکہ کا کردار یہ ہے کہ اس نے کسی بھی مشکل میں ہماری مدد نہیں کی جبکہ ایران کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ کشیدگی کے باوجود ایران نے کبھی پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑا، فیصلہ جو بھی کریں، دوستوں اور دشمنوں کی شناخت کرکے کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 836440
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش