1
Saturday 18 Jan 2020 15:01

مدافع حرم، شہید قاسم سلیمانی

مدافع حرم، شہید قاسم سلیمانی
تحریر: سید امان حیدر رضوی
(ریسرچ اسکالر،المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی، قم، ایران)


اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ: وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ’’اور خبردار! راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرنا, وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں سے رزق پا رہے ہیں۔‘‘(سورہ آل عمران، ۱۶۹) شہادت وہ عظیم مرتبہ ہے، جو ہر کس و ناکس کو میسر نہیں ہوتا۔ اگر لوگوں کو شہادت کی عظمت کا علم ہو جائے تو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے دریغ نہیں کریں گے، بلکہ ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے نظر آئیں گے۔ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مجاہدوں کے پاکیزہ لہو سے ہی اسلام کی آبیاری ہوئی ہے۔ بنی امیہ کے زمانہ میں دین مبین اسلام کا حقیقی چہرہ مسخ ہوچکا تھا۔ حق اور باطل کی تشخیص مٹ چکی تھی۔ اسلام سسکیاں لے رہا تھا۔ ایسے عالم میں امام حسین علیہ السلام نے اپنے باوفا ساتھیوں کا خون دے کر دین اسلام کو حیات جاویدانی بخشی، باطل کے چہرے سے نقاب الٹ دی اور آنے والی نسلوں کو شہادت و استقامت اور حریت کا درس دیا۔ اگرچہ تعداد میں کم تھے، لیکن ظالم کے خلاف قیام کرنے اور مظلوم کی حمایت کرنے کا جذبہ عنایت کیا اور اس آیہ کریمہ کا بہترین مصداق قرار پائے: كَم مِن فِئَةٍ قَليلَةٍ غَلَبَت فِئَةً كَثيرَةً بِإِذنِ اللَّہِ ۗ وَاللَّہُ مَعَ الصّابِرينَ۔ ‘‘اکثر چھوٹے چھوٹے گروہ بڑی بڑی جماعتوں پر حکم خدا سے غالب آجاتے ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"(بقرہ۲۴۹)

اسی مکتب فکر کے پروردہ اور سپاہ قدس کے کمانڈر، قاسم سلیمانی بھی تھے۔ انہوں نے اپنی حیات اسلام اور دفاع حرم کے لئے وقف کر دی تھی۔ انہوں نے اسلام دشمن قوتوں اور طاغوت زمانہ امریکہ اور اسرائیل کی نیندیں حرام کر دی تھیں۔ اسی لئے ظالم نے ان کو نشانہ ظلم بنایا۔ انہوں نے ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیا اور ہر محاذ پر وقت کے دہشت گردوں کے نرغے میں پیغام اجل بن کر ٹوٹ پڑتے۔ سرزمین عراق و شام سے داعش جیسے منحوس دہشت گرد گروہ کا خاتمہ ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے عراقی حکومت کا ساتھ بھی دیا، شام کے مظلوم عوام کے ساتھ رہے اور اسی طرح ہندوستان کی نرسوں کو داعش کے چنگل سے بچانے میں بھی ان کا ہاتھ رہا ہے۔ اس شیر دل مجاہد کی دہاڑ سے روباہ صفت دہشت گرد تنظیموں کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور آج ان کے نجس پیکر کی ہڈیاں صحرائے شام و عراق میں بکھری نظر آرہی ہیں۔

امام کے اس قول: "کُونَوا لِلظَّالِمِ خَصْماً وَ لِلْمَظْلُومِ عَوْناً" پر عمل کرتے ہوئے اس مجاہد نے ہمیشہ مظلوم کی حمایت کی، چاہے ہندوستان کی مظلوم نرسوں کو داعش جیسے درندوں کی چنگل سے چھڑوانے کا مسئلہ ہو یا فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت یا عراق اور شام کے مظلوموں کی فریاد کا۔ انہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھیڑیہ صفت دشمنوں کے نرغے میں جا کر ان سے مقابلہ کیا ہے۔ یہی وہ مرد شجاع اور مومن انسان ہیں، جن کا وجود "أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَہُمْ" کا ایک نمونہ تھا۔ جب بھی لوگوں سے ملاقات کرتے تو اپنے لئے شہادت کی دعائیں کراتے۔ اس جذبہ شہادت کو دیکھ کر رہبر معظم نے آپ کو ”شہید زندہ‘‘ کا لقب عنایت کیا اور مختلف معرکہ آرائی میں شجاعت حیدری کا مظاہرہ کرتے دیکھ کر نشان ذوالفقار سے نوازا۔ جنرل قاسم سلیمانی رہبر معظم کی ڈھارس تھے۔ ان کی نظر میں وہ زمانہ کے مالک اشتر تھے۔

3 جنوری 2020ء کو ان پر دہشت گردانہ حملہ کرکے انہیں شہید کر دیا گیا۔ قاسم سلیمانی نے حشد الشعبی اور حزب اللہ کے جوانوں کے دلوں میں شہادت کے جذبہ کو جگایا اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ انہوں نے ایران، عراق، شام، لبنان، فلسطین، بحرین اور یمن کے مسلمانوں کو تسبیح کے دانوں کی طرح جوڑ دیا۔ کل تک جو امریکہ مشرق وسطیٰ میں امن و امان کی باتیں کرتا تھا، دہشتگردی کا نقاب اوڑھ کر ساری دنیا میں دہشت مچائے تھا، قاسم سلیمانی کی شہادت نے اس کے مکروہ چہرہ کو بے نقاب کر دیا۔ ان کی شہادت نے ایک طرف امریکہ کے 70 سالہ غرور و تکبر اور گھمنڈ کو خاک میں ملا دیا اور پوری دنیا کے سامنے اسے ذلیل و رسوا کر دیا تو دوسری طرف ایران اور عراق کے اتحاد کو مستحکم کر دیا۔

ساتھ ہی ساتھ ایران کے خلاف کی گئی ناپاک سازشوں کو خاک میں ملا دیا اور عوام کے درمیان شہادت و حریت کے جذبہ کو جگایا اور ایران کا سر پوری دنیا میں فخر سے اونچا کر دیا۔ شہید قاسم سلیمانی و ابو مہدی المہندس اور ان کے ہمراہ دیگر شہیدوں کے ٹپکتے ہوئے لہو اور بکھرے ہوئے اجساد کے ہر ٹکڑے کی ایک ہی آواز ہے ”جیو تو علیؑ کی طرح اور مرو تو حسین ؑکی طرح‘‘ تاکہ تمہاری شہادت بھی لوگوں کے دلوں میں انقلاب کی روح پھونک دے۔
ہماری ہار نہیں، یہ عدو کی جیت نہیں
یزید وقت سے ڈرنا ہماری ریت نہیں

دشمن نے ایک قاسم سلیمانی کو ہم سے چھینا ہے، لیکن آج دنیا کے ہر شریف انسان کے دل میں قاسم سلیمانی زندہ ہیں۔ جسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں مٹاسکتی۔
خبر کا کوڈ : 839246
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش