0
Sunday 19 Jan 2020 13:50

مصالحت کا شوق

مصالحت کا شوق
رپورٹ: ایس اے زیدی

ایران کے جنرل سردار قاسم سلیمانی کی ساتھیوں سمیت امریکی حملہ میں شہادت کے سانحہ نے خطہ کو ایک نئی جنگ کے موڑ پر لاکھڑا کر دیا، امریکہ کو خود بھی یہ احساس نہیں تھا کہ شہید سلیمانی کے قتل کا دنیا بھر میں اس قدر شدید ردعمل ہوگا۔ امریکہ، اسرائیل اور ان کے پروردہ دہشتگرد گروہوں کیخلاف عملی اقدامات اور خاص طور پر مقدسات اسلامی کے تحفظ میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی وجہ سے سردار قاسم سلیمانی شہادت سے قبل ہی امت مسلمہ میں ہیرو کی حیثیت حاصل کر چکے تھے۔ اس وجہ سے ان کی شہادت کا عالمی حالات پر اس طرح سے اثر انداز ہونا فطری تھا۔ ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے شہید قاسم کے قتل کا امریکہ سے سخت انتقام لینے کے اعلان نے خطہ میں امریکہ اور اس کے مفادات کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا تھا۔ بعدازاں عراق میں امریکی فوجی بیسز پر ایران کی جانب سے حملے نے حالات کو مزید کشیدہ بنا دیا۔ ٹرمپ سمیت اعلیٰ امریکی قیادت کو اس حملہ کے بعد اندازہ ہوگیا کہ جنرل قاسم کو شہید کرکے انہوں نے اپنے دشمن اول سے تو جان چھڑا لی، لیکن اس جرنیل کی شہادت ان کے خطہ میں ناپاک عزائم کے تابوت میں آخری کیل کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ ان حالات میں امریکہ کا جارحانہ رویہ فوری طور پر دفاع میں تبدیل ہوگیا اور امریکی قیادت نے اپنے اتحادیوں اور اہم ممالک کے سربراہان سے رابطے شروع کر دیئے۔

برادر اسلامی ملک ایران کے اعلیٰ فوجی جنرل کی شہادت پر پڑوسی اور واحد اسلامی ایٹمی قوت کہلانے والے ملک پاکستان کا ردعمل اور پالیسی انتہائی اہمیت اختیار کر گئی تھی اور توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ اسلام آباد کی جانب سے اس اندوہناک سانحہ کی نہ صرف شدید مذمت کی جائے گی، بلکہ ایرانی قیادت کیساتھ تعزیت اور شہید جنرل کی نماز جنازہ میں پاکستان کا سرکاری وفد شرکت کرے گا، مگر درحقیقت ایسا کچھ نہ ہوا۔ امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے اگلے روز افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ٹیلی فون کیا، امریکی عہدیدار ایران کیخلاف کسی ممکنہ کارروائی کیلئے جے ایچ کیو سے تعاون کے طلب گار تھے، تاہم پاکستان کے سپاہ سالار نے اس حوالے سے غیر جانبدار رہتے ہوئے کسی جنگ کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ وزیراعظم سمیت کسی حکومتی عہدیدار کو حیران کن طور پر قاسم سلیمانی کے قتل کی مذمت کرنے تک کی ہمت نہ ہوئی۔ یاد رہے کہ یہ وزیراعظم وہی عمران خان ہیں، جو اپوزیشن میں ہوتے ہوئے امریکہ کیخلاف تقاریر کرتے نظر آتے تھے، نواز شریف اور آصف زرداری کو امریکی غلام کہتے تھے اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد پاکستان کو امریکی غلامی سے نجات دلانے اور آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دینے کی یقین دہانیاں کرواتے تھے۔

وزیراعظم عمران خان، جن کا طرز حکمرانی اور پالیسز اس وقت اپنے عوام کے سامنے ایک مذاق بنا ہوا ہے، انہوں نے امریکہ اور ایران کو کشیدگی سے گریز کرنے اور کسی نئی جنگ کی طرف نہ جانے کا ‘‘مفت مشورہ’’ دیا۔ خان صاحب نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ایران، سعودی عرب اور امریکہ کے فوری دورہ جات کی ہدایت کی۔ یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی کا دورہ امریکہ یو این او کے زیراہتمام اجلاس میں شرکت کیوجہ سے طے شدہ تھا۔ پاکستان میں سینیئر صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور اہل علم و دانش نے عمران خان کے اس اقدام کو ڈرامہ اور غیر سنجیدہ قرار دیا۔ ہمارے یہاں اگر کسی دیہات یا محلہ میں دو فریقین کے درمیان کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو علاقہ کا وہ معزز شخص مصالحت اور ثالثی کا کردار ادا کرتا ہے، جس کا اپنا کردار غیر متنازعہ ہو، فریقین اس کی بات کو اہمیت دیتے ہوں، نہ کہ وہ ان دونوں میں سے کسی کے زیر اثر یا غلام ہو اور سب سے اہم یہ کہ ثالثی کرانے والے شخص کی خود اپنے گھر میں اس کی ‘‘چلتی’’ ہو۔ مگر اس صورتحال میں وزیراعظم پاکستان کا مصالحت کا کردار واقعی کسی مذاق سے کم نہیں لگتا۔ خان صاحب شائد یہ سمجھ رہے تھے کہ امریکہ کی ناراضگی مول نہ لینے کے جس ڈر سے انہوں نے قاسم سلیمانی کی شہادت کی مذمت تک نہیں کی، ایرانی قیادت اس کا ادراک ہی نہیں کر پائے گی۔

خان صاحب نے کس منہ سے وزیر خارجہ کو سعودی عرب کے پاس بھیجا۔؟ یہ وہی سعودی عرب ہے کہ جس کے حکم پر خان صاحب نے کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہیں کی تھی، اسی سعودی قیادت نے آپ کو پیسہ دیکر مالی بحران سے بچایا، شاہ صاحب ایرانی قیادت کے سامنے کیا موقف لیکر پیش ہوئے ہوں گے۔؟ وہی ایران، جس نے کشمیر جیسے مسئلہ پر بھارت کیساتھ اپنے تجارتی مراسم کو پس پشت ڈال کر محض اپنا شرعی فریضہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے موقف کی اس طرح کھل کر حمایت کی، جس طرح کوئی دوسرا اسلامی ملک نہ کرسکا۔ اس برادر اسلامی ملک کو شاہ محمود قریشی مصالحت کا ‘‘مفت مشورہ’’ دینے گئے تھے، جس کا ہردلعزیز جنرل امریکہ نے مار دیا۔ سعودیہ اور ایران کے بعد وزیر خارجہ امریکہ پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات کی، اس ملاقات کے بعد امریکی سیکرٹری خارجہ کا ایک بیان پاکستانی میڈیا کی بھی زینت بنا، جس نے وزیر خارجہ کی مصالحت کی کوششوں کی قلعی کھول دی کہ ‘‘پاکستان کیساتھ ایرانی جارحیت روکنے پر بات چیت ہوئی ہے۔’’ شاہ محمود قریشی اگر مصالحتی یاترا پر تھے، تو امریکی سیکرٹری خارجہ کا یہ بیان تو ثالث کی بجائے پاکستان کو ایران کیخلاف امریکہ کا اتحادی ظاہر کر رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد خطہ کی بدلتی صورتحال میں غیر سنجیدہ، مضحکہ خیز اور قابل مذمت پالیسی تشکیل دے پائے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کی نیک نامی کی بجائے الٹا جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے سامنے پاکستانی حکمرانوں کی اس وقت بھی کیا حیثیت ہے۔ یہاں اس جانب توجہ دلانا ضروری ہے کہ عالمی سطح پر مصالحت کے شوقین عمران خان کی اپنی جماعت اس وقت ان کے کنٹرول میں نہیں اور اپوزیشن سمیت سیاسی حلیفوں کیساتھ انکا رویہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قاسم سلیمانی کی شہادت سے قبل سعودی عرب کی خواہش تھی کہ وہ یمن کی دلدل سے نکلنے کیلئے ایران کی طرف مذاکرات کا ہاتھ بڑھائے اور اس ثالثی کیلئے سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی حکمرانوں کو کردار ادا کرنے کا حکم ملا۔ یہ حکم تعریفوں کے شوقین عمران خان کو سوٹ کرتا تھا، شاہ محمود قریشی کے طے شدہ دورہ امریکہ کے دوران امریکی قیادت سے ملاقاتوں کا مقصد شائد یہ تھا کہ انہیں یقین دہانی کروائی جائے کہ پاکستان آپ کو کسی صورت ایران کیساتھ کھڑا نظر نہیں آئے گا، جس کا یہ عین ثبوت ہے کہ ہم نے قاسم سلیمانی کے قتل کی نہ تو مذمت کی اور نہ ہی ایرانی قیادت سے تعزیت، جس پر ‘‘شاباشی’’ کی وصولی ہمارا حق ہے۔
خبر کا کوڈ : 839400
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش