0
Tuesday 21 Jan 2020 10:56

علامہ اقبالؒ ملی اتحاد کے مثالی قائد

علامہ اقبالؒ ملی اتحاد کے مثالی قائد
تحریر: جے اے رضوی
 
اسلام کا نصب العین اجتماعیت اور اتحاد ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان ایک مضبوط ملت کی صورت میں منصب امامت پر فائز ہوجائیں اور دنیا میں وحدت کی خوشبو و اجتماعی زندگی کی خوبیاں آشکار ہوجائیں۔ اس کے برعکس مغرب نے جو قومیت کا نظریہ پیش کیا ہے دنیا والوں نے دیکھ لیا کہ اس میں انسانیت کے لئے تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس لئے ملت اسلامیہ کو ملی شعور اور دینی تشخص قائم رکھتے ہوئے اس کا توڑ کرنے کے لئے ہمیں باہمی اتحاد و اتفاق پر قائم رہنا ہوگا۔ حضور اکرم (ص) نے تمام امت کو توحید کے پیغام سے منور کرکے ایک ہی پرچم کے نیچے مجتمع کرکے اتحاد و اتفاق کا لاثانی کردار ادا کیا، جسے ہمیں اپنا نقش راہ بنانا ہوگا۔ علامہ اقبال (رہ) کے نزدیک اگر مسلمانوں نے اب بھی اجتماعیت اختیار نہیں کی تو وہ دن دور نہیں جب مسلمان بڑے پیمانے پر زوال کے شکار ہونگے۔ علامہ اقبال کے معجز نما اشعار میں قومیت اور وطنیت کے بجائے دین اور ملت کے دروس پیوستہ ہیں۔

علامہ اقبال کی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ ملت اسلامیہ اپنے مذہب کے حقائق سے پوری طرح آشنائی حاصل کرسکیں اور خودی کے اسرار سے واقف ہوکر ذہنی غلامی سے مکمل چھٹکارا پائیں، تب جاکر ملت کا ہر فرد اپنی زندگی کی حقیقتی تعمیر کرسکتا ہے۔ ماہر اقبالیات جگن ناتھ آزاد اس حوالے سے لکھتے ہیں ’’اقبال نے ملت اسلامیان ہند کے دلوں میں اسلام کا حقیقی تصور اجاگر کر کے مسلمانوں کی خودی کو بیدار کرنے کی سعی کی اور انہیں ذہنی غلامی سے نجات دلائی۔ علامہ اقبال کے مطابق جب فرد اپنی تعمیر کرتا ہے تو یہ جماعت کو مضبوط بنانے میں کارگر ثابت ہوتا ہے کیوںکہ فرد کے لئے پھر جماعت رحمت بن کر اس کی زندگی کو چار چاند لگاتی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ جماعت سے وابستہ افراد میں استحکام اور مضبوطی رونما ہوتی ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ فرد کے لئے جماعت رحمت ہے۔ اس کی خوبیوں کو ملت ہی کے ذریعے کمال حاصل ہوتا ہے۔

علامہ اقبال نے ہمیں تلقین کی ہے کہ جہاں تک ہوسکے جماعت کے ساتھ وابستہ رہو اور آزاد لوگوں کے ہنگامے کی رونق بنے رہو۔ علامہ اقبال کی یہ سب سے بڑی تمنا اور آرزو تھی کہ مسلمان ایک اکائی ہوجائیں اور پوری دنیا پر چھا جائیں۔ مسلمان ایک جسم اور ایک جان کی حیثیت سے پوری دنیا کو یہ پیغام سنائیں کہ ہم سب ایک ہی جسد واحد ہیں، چاہے کوئی مشرق کا ہو یا مغرب کا، گورا ہو یا کالا۔ شمال کا ہو یا جنوب کا۔ علامہ اقبال (رہ) مسلمانوں کی سربلندی کے بے حد متمنی تھے، یہاں تک کہ ان کو ایک ہی راستے پر لانے کی بھرپور سعی و کاوش کی لیکن آج کے مسلمان مسلکی منافرت اور اختلافات و تضادات لئے ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں، آج کلمہ پڑھنے والوں پر رنگ و نسل، ذات پات اور فرقہ پرستی و شخصیت پرستی کا غلبہ ہے۔ علامہ اقبال اپنے اشعار کے ذریعے ہمیشہ جمعیت، اخوت اور اتحاد و اتفاق کے پیغامات سے ملت کو نوازتے ر ہے اور ہمیشہ دامن دین کو مضبوطی سے تھام کر جمعیت مسلمانی بچانے کی حتی الوسع کوششیں کرتے رہے مگر زبردست جدوجہد کے باوجود ہم مسلمان نااتفاقی اور جنگ و جدل میں لگے رہے کہ قرآنی پیشن گوئی کے مطابق ہماری ہوا اکھڑتی رہی۔

علامہ اقبال کی فکری سعی و کاوش کا محرک و مقصود بنی نوع انسان کی ہمدردی ہی کا جذبہ ہے جس کا سرچشمہ صرف اسلام ہے۔ علامہ اقبال کی انسان دوستی اجتماعی شعور کا ہی مظہر ہے اور دراصل یہ اسلام کے اصول اور ضابطے ہیں جنہیں اللہ نے خود مقرر فرمایا ہے اور جو انہیں تسلیم کرے اور بجا لائے وہ حقیقی مسلمان ہے۔ علامہ اقبال کے بارے میں ڈاکٹر عبدالمغنی لکھتے ہیں ’’چنانچہ اسلام خالص اصولی بنیاد پر ایک خدا، ایک رسول (ص) اور ایک کتاب کے تحت تمام بنی آدم کی ایک ملی وحدت قائم کرنا چاہتا ہے، جس میں رنگ، نسل، وطن، رتبہ اور اثاثہ وغیرہ کی تنگ اور غیر فطری بنیادوں پر کسی قسم کی تفریق و تمیز روا نہیں رکھی جائے گی۔ ہر شخص کی حیثیت صرف اس کے انفرادی عمل و کردار کے مطابق متعین ہوگی اور اس عمل و کردار کا معیار ہوگا۔ خدمت خلق، یعنی ذاتی خوبیوں کا اعتباراسی وقت قائم ہوگا جب وہ اجتماعی فلاح میں معاون ہوں‘‘۔

علامہ اقبال کے نزدیک جدید انسان علم وعقل کی فراوانی کے ہوتے ہوئے بھی پریشان اور بدحال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے اصول فطرت، طریق حکمت اور اتحاد کی نعمت سے بہت دور چلا گیا ہے۔ آج کا انسان صرف فرقہ، قوم، وطن، نسل اور اپنی ذات کی تنگ حدود میں سوچتے ہیں۔ اس وجہ سے عالمی سطح پر اخوت، انسان دوستی، حریت فکر اور مساوات وغیرہ جیسی حیات بخش قدریں سب زائل ہوگئی ہیں۔ آج اگر علامہ اقبال زندہ ہوتے تو موجودہ ملت کی زبوں حالی پر خوب آہ و زاری کرتے اور پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے ہمارا گریباں پکڑ کر پوچھتے کہ کیا تم اللہ کے پیغام کو بھول چکے ہو کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور اپنے آپ کو مختلف فرقوں میں تقسیم مت کرو۔

حکیم الامت کے نزدیک جب تک مسلمان مختلف فرقوں سے آکر صرف ایک مضبوط جماعت نہ بن جائے اور جب تک قرآن حکیم و رسول اکرم (ص) کی تعلیمات اور پیغامات کو مل کر نہ اپنائیں تب تک فرقہ پرستی کے گندے تالاب میں یہ ملت گرفتار رہے گی اور مسلمان قوم مجبور و مقہور و محکوم رہے گی۔ اس لئے جس طرح حضور اکرم (ص) کے دور مبارک میں تمام مسلمان ایک ہی پرچم، ایک ہی نعرے و مقصد اور ایک ہی قائد کے تحت مضبوط ارادوں اور پختہ عزائم کے ساتھ آگے بڑھتے گئے اور اسلامی بہار کی بناء ڈالی اسی طرح ہمیں بھی ایک ہی سایہ دار شجر طیبہ کے نیچے اکٹھے رہنا ہوگا تاکہ ہر یورش سے بچنا ہمارے لئے ممکن ہوسکے اور منزل مراد کا حصول آسان ہو۔ اس حوالے سے پروفیسر شفیق الرحمٰن ہاشمی لکھتے ہیں ’’اسلام کی سربلندی کے لئے مسلمانوں کا باہمی اتحاد نہایت ضروری ہے۔ اتحاد میں بڑی برکت ہوتی ہے۔

مسلمانوں کے اتحاد کی ایک ہی صورت ہے وہ یہ کہ مسلمان اللہ تعالٰی کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔ فروعی اختلافات میں اپنی قوتیں صرف کرنے کی بجائے اپنی اصلاح کریں اور پھراللہ کے دین کو دنیا میں غالب کرنے کی کوشش کریں۔ اگر اللہ پر ایمان لانے والے ایک دوسرے کو اپنا بھائی تصور کریں اور باہمی اتحاد کو اللہ تعالیٰ کا ایک حکم سمجھیں، شعوب و قبائل اور رسوم کہن کی زنجیروں کو توڑ دیں تو وہ دنیا میں توحید عام کرنے کے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں‘‘۔ اسلام میں کسی کو فضیلت رنگ و نسل، قبیلے اور خاندان پر موقوف نہیں ہے بلکہ خوف خدا اور عمل صالح پر ہے۔ ہم مسلمانوں کو رنگ و نسل، فروعی اور مسلکی اختلافات کے احساس کو ختم کرنا چاہیئے۔ علامہ اقبال ملت کی شیرازہ بندی چاہتے ہیں۔ انکے نزدیک مسلمان ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے سے ہی اپنا دین و ایمان بچا سکتے ہیں اور مقاصد اسلام کی تکمیل کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مساوات اور اخوت کا درس اور پیغام قدم قدم پر دیا۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے 
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
خبر کا کوڈ : 839717
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش