0
Tuesday 21 Jan 2020 14:10

دنیا امریکی دھمکیوں پر کب تک چلے گی؟

دنیا امریکی دھمکیوں پر کب تک چلے گی؟
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

انسانیت نے بڑی تگ و دو کے بعد باہم مل جل کر رہنا سیکھا ہے۔ بڑی انسانی دانش کے نتیجے میں بین الاقوامی اصول و ضوابط معرض وجود میں آئے ہیں۔ پہلے طاقتور حکمران اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اپنے ملکوں سے نکلتے تھے اور سامنے آنے والی چھوٹی چھوٹی پرامن ریاستوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے چلے جاتے تھے۔ سکندر اعظم کو دیکھیں، کہاں سے چلا؟ اور کہاں تک آگیا؟ چنگیز خان اور ہلاکو خان منگولیا جیسے پہاڑی علاقے سے چلے اور کہاں یورپ کے دروازے تک پہنچ گئے؟ یہ سب طاقت کا کمال تھا، جس کے پاس زیادہ طاقتور فوج اور زیادہ مال ہوتا، وہی حکمران بن جاتا اور جب تک کوئی بڑی طاقت اس کے مقابل آکر یا کسی سازش سے اسے شکست نہ دیتی، وہ حکمران ہی رہتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی سرحدوں کا تعین ہوگیا، سمندری حدود کا بھی ضابطہ تقریباً مان لیا گیا، جنگ اور امن کے قوانین بھی طے کر لیے گئے۔ تجارت، سفر اور تعلقات کے لیے ضابطے امن کی بنیاد ٹھہرے۔ مگر پچھلے کچھ عرصے سے امریکہ نے ان تمام بین الاقوامی ضابطوں کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے اور ممالک کی خود مختاری کو روندتے ہوئے اپنی من مانی کرتا ہے اور دوسری اقوام کو دھمکیاں دیتا ہے۔

ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے بعد واشنگٹن سے آنے والی اس ٹیلی فون کال جس میں امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کو دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ ”آپ ثابت کریں کہ ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ۔“ نیم شب کو آنے والی اس کال پر پاکستان کے فوجی حکمران کا فوری ردعمل تھا کہ ”ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ الگ موضوع ہے کہ اتنی جلدی امریکی کیمپ میں جانے کی قیمت ستر ہزار پاکستانیوں کے خون سے ادا کی۔ امریکی وزیر خارجہ کنڈو لیزا رائس نے اپنی کتاب میں بہت حیرت انگیز انداز میں اس پر قلم کشائی کی تھی کہ امریکیوں کا خیال تھا کہ اس ٹیلی فون کے جواب میں جنرل مشرف بہت سی شرائط رکھیں گے، مشاورت کے لئے وقت مانگیں گے اور یوں انہیں منانے میں مشکل پیش آئے گی، مگر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی، جب وہ موقع پر ہی امریکہ کا غیر مشروط ساتھ دینے پر آمادہ ہوگئے۔

دھمکیوں کا یہ سلسلہ صرف مسلمان اور غریب ممالک تک محدود نہیں ہے۔ یورپی ممالک کو ٹرمپ نے دھمکی دی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کو دھمکی دی ہے کہ یورپ سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھا دیں گے۔ یورپی یونین کے تجارتی سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ان کی گاڑیوں پر محصولات  میں اضافہ کرے گا تو امریکی اشیاء پر بھی 35 ارب یورو کے اضافی ٹیکس لگائے جائیں گے۔ ٹرمپ کو شدید مایوسی ہوئی کہ یورپ نے جنرل قاسم سلیمانی پر کیے گئے حملے پر امریکہ ساتھ نہیں دیا، ایسے میں علی الاعلان ٹرمپ نے انہیں دھکایا۔ جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس پر امریکی حملہ عراقی خود مختاری پر حملہ تھا، اس پر عراقی پارلیمنٹ میں قرارداد کے ذریعے امریکی افواج کے اخراج کا مطالبہ  کیا۔ اس پر صدر ٹرمپ کا نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہمارے پاس عراق میں انتہائی غیر معمولی اور مہنگی ائیربیس ہے، جسے اربوں ڈالر میں تعمیر کیا گیا، اس لیے ہم اسے اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے، جب تک وہ (عراقی) ہمیں اس کی واپس ادائیگی نہیں کر دیتے۔ اس نے کہا اگر عراق نے امریکی افواج سے انخلا کا مطالبہ کیا تو ہم اس پر ایسی پابندیاں عائد کریں گے، جو انہوں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھیں ہوں گی اور ان پابندیوں کے سامنے ایران پر عائد پابندیاں بہت معمولی نظر آئیں گی۔ اس سے زیادہ دھمکی اور کیا ہوسکتی ہے۔؟

امریکی صدر ڈونڈ ٹرمپ کی طرف سے چین سے درآمد شدہ مصنوعات اور اشیاء پر اضافی محصولات لگانے کی تنبیہ کے بعد چین نے بھی خبردار کیا ہے کہ وہ بلیک میل نہیں ہوگا بلکہ جوابی اقدامات کرے گا۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان خوا چن ینگ نے بیجنگ میں نیوز بریفنگ کے دوران بتایا کہ چین امریکی دبائو اور بلیک میلنگ میں نہیں آئے گا۔ یہاں بھی صدر ٹرمپ نے مالی دھمکی دے کر مفاد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ کی دیکھا دیکھی اس کی سرپرستی قبول کرنے والے ہندوستان نے بھی  بڑے پیمانے پر اپنی خارجہ پالیسی میں دھمکیوں کا سہارا لینا شروع کیا ہے۔ ملائیشیا، ترکی اور انڈیا کی ہی مثال لے لیں۔ بھارت کے سرکاری عہدیدار کا کہنا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے بدلے میں ترکی سے درآمدات کو کم کرنے اور ملائیشیاء سے پام آئل تیل گیس سمیت دیگر مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ دنیا میں خوردنی تیل کے سب سے بڑے خریدار بھارت نے پہلے ہی ملائشیاء سے پام آئل کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اپنے درآمد کنندگان کو دیگر مارکیٹوں سے خریداری کرنے کا کہا ہے۔ امریکہ نہ صرف کسی بین الاقوامی قانون کا لحاظ نہیں کرتا اور دھمکیاں دیتا ہے بلکہ  ثقافتی مقامات پر حملے کی بھی دھمکی دیتا ہے، جن پر حملہ کرنا جنگی جرائم میں سے ہے۔

جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کرنے کے بعد امریکی صدر نے یہ ٹویٹ کیا تھا: انہوں نے ہم پر حملہ کیا اور ہم نے ان پر جوابی حملہ کیا۔ اگر انہوں نے ہم پر دوبارہ حملہ کیا، جس سے گریز کرنے کا میں انہیں مشورہ دیتا ہوں، تو ہم ان پر اتنا سخت حملہ کریں گے، جو ان پر پہلے نہ ہوا ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایران نے کسی بھی امریکی شہری یا تنصیب کو نشانہ بنایا تو امریکہ "بہت تیزی اور شدت سے" ایسی 52 اہم تنصیبات اور مقامات پر حملہ کرے گا، جو ایران اور اس کی ثقافت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ تعجب ہوا کہ جب طالبان نے مہاتما بدھ کے مجسمے گرائے تھے تو انہیں انسانیت دشمن گروہ کہا گیا تھا اور اب وہی کام ملا عمر کی جگہ ٹرمپ کر رہا ہے تو دنیا کا ضمیر سو رہا ہے۔ ویسے جب آپ دھمکی دیتے ہو تو آپ اس بات کا اظہار کرتے ہو کہ آپ کے پاس دلیل نہیں ہے یا آپ میں قائل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، اس لیے آپ اپنی رائے کو طاقت کے زور پر نافذ کرنا چاہتے ہو۔ ٹرمپ بنیادی طور پر ایک تاجر ہے، اس لیے وہ دنیا بھر کے معاملات کو صرف تاجر کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہر ملک پر معاشی پابندیاں لگا کر اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 839792
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش