1
Tuesday 21 Jan 2020 22:43

کیا امریکی صدر پاگل ہیں؟

کیا امریکی صدر پاگل ہیں؟
تحریر: علی احمدی

کسی کو توقع نہیں تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ شدید تناو والے حالات میں اسے آثار قدیمہ کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دے دیں گے۔ وہ ایک بار نہیں بلکہ دو بار۔ بعض سیاسی ماہرین ڈونلڈ ٹرمپ کے اس رویے کو ان کے ذہنی انتشار اور عدم توازن کی علامت قرار دیتے ہیں جبکہ بعض دیگر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک ایسا فنکار سمجھتے ہیں جو عالمی تعلقات عامہ میں "پاگل کھلاڑی" نامی نظریے پر کاربند ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کے بارے میں یہ دو متضاد آراء ان کے برسراقتدار آنے کے فورا بعد ہی سامنے آ چکی تھیں۔ بڑی تعداد میں ایسے ماہرین بھی ہیں جنہوں نے ٹرمپ کو ذہنی مریض قرار دیا تھا لیکن خود ٹرمپ نے اسے شدت سے مسترد کر دیا تھا۔ لیکن کچھ ماہرین ایسے بھی تھے جنہوں نے نفسیاتی امراض کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کو احمق اور نادان بھی قرار دیا تھا۔ حال ہی میں امریکہ میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ دو صحافیوں فلپ راکر اور کیرول لیوننگ اس کتاب کے مصنف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امریکی صدر جنرل نالج میں بھی بہت کمزور ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے پہلے اپنے اوپر نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے پر مبنی الزامات عائد کئے جانے کے جواب میں کہا تھا "میں ایک انتہائی مستقل مزاج ذہین شخص ہوں"۔ اتفاق سے ان کے بارے میں جو نئی کتاب شائع ہونے جا رہی ہے اس کا عنوان بھی A Very Stable genius یعنی ایک انتہائی مستقل مزاج ذہین رکھا گیا ہے۔ اس کتاب میں دعوی کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا کے وزیراعظم سے کہا کہ انڈیا اور چین کے درمیان مشترکہ سرحد نہیں پائی جاتی۔ اس پر نریندرا مودی شدید حیرت کا شکار ہو گئے۔ اس سے پہلے بھی سننے میں آیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیپال اور بھوٹان کو انڈیا کی دو ریاستیں قرار دیا تھا۔ اسی قسم کے بیانات کے پیش نظر بعض ماہرین ڈونلڈ ٹرمپ کو احمق اور نادان قرار دیتے رہے اور اس خطرے کا اظہار کرتے رہے کہ وہ کبھی بھی ایک غیر سنجیدہ اقدام کے ذریعے پوری دنیا کو شدید بحرانی صورتحال کا شکار کر سکتے ہیں۔ بعض دیگر ماہرین کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ جان بوجھ کر خود کو احمق اور نادان ظاہر کرتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ایسے نہیں بلکہ پاگل کھلاڑی والی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔

پاگل کھلاڑی والا نظریہ (Madman theory) بین الاقوامی تعلقات عامہ کے شعبے میں ایک جانا پہچانا نظریہ ہے جس کی جڑیں سابق امریکی صدر رچرڈ نیکسن کے دور سے جا ملتی ہیں۔ نیکسن اور ان کی کابینہ نے جان بوجھ کر ایسا رویہ اپنایا کہ ان کا حریف سابق سوویت یونین رچرڈ نیکسن کو ایک پاگل اور ذہنی عدم توازن کا شکار شخص تصور کرنے لگے۔ اس حکمت عملی سے رچرڈ نیکسن کا مقصد سابق سوویت یونین حکام کو اپنی جانب سے کسی بھی دیوانہ وار اقدام کے امکان سے ڈرا کر انہیں اپنے خلاف جارحانہ اقدامات انجام دینے سے باز رکھنا تھا۔ آج بھی سیاسی ماہرین کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسی حکمت عملی پر کاربند ہیں اور وہ پاگل کھلاڑی والا نظریہ نہ صرف اپنے دشمن اور حریف ممالک کے خلاف استعمال کر رہے ہیں بلکہ اپنے اتحادی ممالک کو بھی اس کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016ء میں وائٹ ہاوس میں قدم رکھتے ہی ماضی میں انجام پائے بین الاقوامی معاہدے یکے بعد از دیگرے توڑنے شروع کر دیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے معاہدوں کے حصول کیلئے واضح طور پر پاگل کھلاڑی والی حکمت عملی اپنائی۔ مثال کے طور پر 2017ء میں امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان فری ٹریڈ کے شعبے میں انتہائی پیچیدہ مذاکرات جاری تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مذاکرات کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ جنوبی کوریا کے ہم منصب افراد کے ساتھ بات چیت کے دوران انہیں یہ کہہ کر ڈرائیں کہ ٹرمپ پاگل شخص ہے۔ امریکی صدر نے اپنے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "انہیں (جنوبی کوریا کے حکام کو) کہنا کہ اگر فورا ہمیں مراعات فراہم نہیں کریں گے تو یہ پاگل شخص (ڈونلڈ ٹرمپ) معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا۔" دوسری طرف بہت سے ماہرین امریکی صدر کی اس حکمت عملی کو بے فائدہ قرار دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب سب اس حقیقت سے مطلع ہو چکے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ مقتدر اداروں کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتے لہذا دیگر ممالک کے حکام کو بھی چاہئے کہ وہ امریکہ کے مقابلے میں اسی جیسے پاگل پن کا اظہار کرے تاکہ امریکی حکام پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائیں۔
 
خبر کا کوڈ : 839878
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش