0
Tuesday 21 Jan 2020 23:56

قاسم سلیمانی ہی عالمی میڈیا کی زینت کیوں؟

قاسم سلیمانی ہی عالمی میڈیا کی زینت کیوں؟
تحریر: محمد حسن جمالی
 
آج کل سوشل میڈیا پر ایران مخالف قوتوں کی فریادوں میں سے ایک یہ ہے کہ قاسم سلیمانی ہی عالمی میڈیا کی زینت کیوں؟ وہ تو دنیا کے معروف دہشتگردوں کا سرغنہ تھا، اسی نے ہی حلب اور عراق کے اندر سنی مسلمانوں کا قتل عام کروایا ہے، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ دنیا کے لوگ اس کے قتل پر خوشی مناتے، مگر اس کے بالکل برعکس دنیا بھر میں احمقوں نے اس کی موت کو بڑا المیہ قرار دیا، کیوں آخر کیوں؟ ہماری نظر میں اس طرح کی آواز کو گدے کی آواز سے تشبیہ دینا بہتر ہے، بے شک جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت نے پوری دنیا کو بیدار کیا، شہادت سے پہلے ان کی شخصیت گمنام تھی، کچھ محدود لوگ ان کو جانتے تھے، بعد از شہادت ان کی عظیم شخصیت دنیا والوں کے سامنے نمایاں ہوگئی۔ ان کی شہادت کے دن سے مسلسل یہ واقعہ عالمی میڈیا کی زینت بن رہا ہے، دنیا کے معروف تجزیہ نگاروں کی بحث و گفتگو کا موضوع قرار پا رہا ہے۔ یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ قاسم سلیمانی انتہائی اہم شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شخصیت کی اہمیت کے پیش نظر ہی ان کی قابل رشک و پاکیزہ زندگی کے اہم گوشوں پر دنیا کے مختلف قلمکاروں اور کالم نویسوں نے اپنے اپنے انداز میں قلم اٹھا کر شہید کی مقدس روح کو خراج تحسین پیش کیا۔
 
جب ان کی مظلومانہ شہادت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح دنیا میں پھیلی، شرق و غرب میں امن پسند انسان سٹرکوں پر نکل آئے، انہوں نے امریکہ کے اس وحشیانہ اقدام کی پوری طاقت سے مذمت کی اور شہید کے شجاعانہ کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں عالمی ہیرو قرار دیا۔ اسی طرح ہم نے دیکھا کہ دنیا میں جگہ جگہ قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المھندس کے نام فاتحہ خوانی، مجلس اور قرآن خوانی کا اہتمام ہواـ یہ سب کچھ کس لئے ہوا، آخر سوال تو بنتا ہے نا، کہ دنیا بھر کے میڈیا پر قاسم سلیمانی کا ہی تذکرہ کیوں ہو رہا ہے۔؟ ان کی شہادت کا واقعہ ہی عالمی شہرت یافتہ تجزیہ نگاروں کی گفتگو کا موضوع کیوں بنا؟ جواب بالکل سادہ ہے، قاسم سلیمانی نے اسلامی جہاد کو حقیقی معنوں میں سمجھا، اس پر ایمان لائے اور اپنی قیمتی زندگی کو اس راہ میں وقف کیا۔ وہ زندگی بھر عالمی استکبار سے سینہ تان کر مقابلہ کرتے رہے، انہوں نے فلسطین، لبنان، یمن، عراق اور شام میں مظلوم مسلمانوں کے دفاع میں قائدانہ کردار ادا کیا۔

امریکہ نے شام اور عراق میں خطیر رقم خرچ کرکے داعش کو فعال کیا، جس کے ذمے دو اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئیں، وحشیانہ کردار کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا، ان کی پہلی ذمہ داری تھی، چنانچہ داعش نے کلمہ پڑھتے ہوئے مسلمانوں کو بڑی بےدردی سے ذبح کرکے اسے نبھانے کی ناکام کوشش کی۔ دوسری ذمہ داری یہ تھی کہ شام اور عراق میں موجود ائمہ اطہار کے روضوں کو شہید کرکے اربعین کے دن کربلا اور عراق میں جمع ہونے والے کروڑوں زائرین کا راستہ روکا جائے۔ ان اہداف تک رسائی کے لئے امریکہ نے مختلف طبقہ ہای زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے خدمات لیں، ڈالروں سے ان کی جیبیں بھر کر انہیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے آلہ کار بنایا، چنانچہ داعش کے بارے میں سعودی ریال پر پلنے والے مولویوں اور اوریا مقبول جیسے بے ضمیر قلمکاروں نے برصغیر کے مسلمانوں کے ذہنوں کو اس غلط فکر سے آلودہ کرنے کی پوری کوشش کی کہ داعش فقط رافضیوں کی دشمن ہے، اس نے عراق اور شام میں مکتب اہلسنت سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے دفاع میں جنگ لڑی ہے وغیرہ۔

مگر اس ٹولے کی وحشیانہ اور غیر انسانی حرکتوں نے ہی اس حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ داعش تو امن اور انسانیت کی دشمن ہے، اس کی دشمنی کسی خاص فرقے یا گروہ سے متعلق نہیں۔ آئیں ہم ذرا خونی تاریخ کا حصہ بنی ہوئی داعش کی جنایتوں اور ظالمانہ اقدامات پر سرسری نگاہ ڈالتے ہیں، تاکہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ کیا واقعی معنوں میں داعشی انسان نما درندے فقط شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کے دشمن تھے؟ کیا اس نجس ٹولے کے ہاتھوں اہل سنت مسلمانوں کی جان، مال اور آبرو محفوظ رہی۔؟ داعشی گروہ نے تو شیعہ سنی کے علاوہ عیسائیوں اور ایزدیوں کو بھی نہیں چھوڑا، عراق اور شام میں جرائم کے ارتکاب کے لئے اس نے یہ ہرگز نہیں دیکھا کہ کون کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے؟ وہ تو انسانیت کے خون کے پیاسے تھے، سو انہوں نے عراق اور شام میں انسانیت کو خون ناحق کے سمندر میں ڈبو دیا، وہ اقدار اسلامی کے مخالف تھے، وہ انقلاب اسلامی کی بدولت جہاں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی اسلام بیداری کو روکنے کے لئے اپنی شنیغ و غلظ اور پلید حرکتوں کے ذریعے اسلام ناب کے حسیں چہرے کو داغدار کرنے کے درپے تھے مگر۔۔۔۔۔
 
داعش نے جن انسانی جرائم کا ارتکاب کیا، ان میں سے درج ذیل قابل ذکر ہیں: لوگوں کو زندہ جلانا، انسانی اعضاء کی خرید و فروخت، گروہی قتل عام، کیمیائی اسلحے کا استعمال، لوگوں کے اموال کی لوٹ مار اور چوری، مقامات مقدسہ کا انہدام جیسے گرجا گھروں کو منہدم کرنا، نبش قبر کرکے جسد نکالنا اور اس کے علاوہ قدیم تہذیبی آثار کو شرک کے مظاہر قرار دے کر تباہ و برباد کرنا۔، بچوں کو اغوا کرکے انہیں دہشت گردی کی کارروائیوں، قتل و غارت اور جاسوسی کی ٹریننگ دینا اور ان کا خون زخمی جنگجوؤں کو لگانا۔ اسی طرح عورتوں کو اغوا کرکے انہیں مشرق وسطیٰ میں ’’جنسی خدمات‘‘ کے بازار میں خرید و فروخت کیلئے پیش کیا جاتا تھا۔ جہاد النکاح کا عمل حتی محارم کیساتھ دہرایا جاتا۔ جادو کے الزام میں تلوار سے عورتوں کے سر تن سے جدا کرنا اور کیمیائی ہتھیاروں سے تقریباً 300 عراقی فوجیوں کا قتل عام۔

اجتماعی قتل عام کا اہم ترین واقعہ داعش کی جانب سے فضائی بیس پر حملہ کرکے 1700 عراقی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے۔ یہ واقعہ ’’سپائکر قتل عام‘‘ کے عنوان سے معروف ہے۔ یہ سارے فوجی جنوبی عراق سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں فوج اور تشیع کی طرف مائل ہونے کے الزام میں قتل کیا گیا۔ اسی طرح بونمر قبیلے کے 500 افراد کو بھی مار دیا گیا کہ جنہوں نے داعش کا مقابلہ کیا تھا۔ داعش مظاہر شرک ہونے کی حجت قائم کرتے ہوئے مقدس مقامات جیسے گرجا گھروں کو منہدم کرتی، قبریں توڑ کر مردوں کو نکال دیتی اور قدیم تہذیبی نشانات کو نیست و نابود کر دیتی۔ داعش نے جن مقامات کو منہدم کیا؛ ان میں سے کچھ یہ ہیں: 1۔ موصل شہر میں حضرت دانیالؑ کا مزار، یحییٰ بن قاسم کا مزار، حضرت یونسؑ کا مزار، حضرت شیثؑ کی مسجد و مزار عون الدین بن الحسنؑ کا مزار، جرجیس نبیؑ کی مسجد اور قبر، ابن اثیر جزری کی قبر، شیخ فتحی کا مزار، شیخ ابو العلاء کا مزار اور قضیب البان الموصلی کی مسجد اور مزار کو منہدم کیا۔

2۔ تلّعفر شہر: خضر الیاس کا مزار، سعد بن عقیل بن ابی طالب کا مزار، آر محمود یا آرماموط کا مزار گرایا گیا۔ 3۔ محلبیۃ شہر: شیخ ابراہیم کی قبر، شیخ احمد رفاعی کا مزار اور سنجار شہر میں سیدہ زینبؑ سے منسوب مزار۔ اس کے علاوہ انہوں نے حجر بن عدی، عمار بن یاسر، اویس قرنی اور شیخ احمد رفاعی کی قبروں کو بھی منہدم کر دیا۔ داعش نے گرجا گھروں پر حملے کیے اور ان میں خدمات انجام دینے والی بعض راہبات کو اغوا کر لیا۔ انہوں نے ایک پورا گاؤں تباہ کر دیا، کیونکہ اس کے لوگ حضرت مسیحؑ کی زبان یعنی سریانی بولتے تھے۔ مارٹر گولوں کیساتھ تباہ کیے جانے والے مقامات میں دمشق کے مضافات میں واقع معبد صیدنایا، حلب کا گرجا گھر انجیلیہ عربیہ، حلب میں واقع گرجا گھر قدیس کیفورک، حمص میں واقع گرجا گھر (ام الزنار)، شام کے شہر رقہ میں واقع گرجا گھر شہداء اور حمص میں واقع گرجا گھر مار الیاس شامل ہیں۔
 
داعش نے شام کے اندر 300 سے زائد تاریخی مقامات کو تباہ کیا۔ اسی طرح انہوں نے قدیم یادگاروں کو بھی نیست و نابود کر دیا کہ جن میں سے نمایاں ترین حلب میں نصب ابو العلاء معری کے مجسمے کو اڑانا ہے۔ اسی طرح انہوں نے عراق کے شہر موصل میں واقع اسد شیریان، ابو تمام، عثمان موصلی کے مجسمے اور رقہ میں نصب ہارون الرشید کا مجسمہ بھی مسمار کیا۔ داعش کی ان کارروائیوں سے شام کے ثقافتی ورثے کو ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا اور ان میں سے اکثر آثار کی مرمت یا تجدید ممکن ہی نہیں۔(۱) شہید قاسم سلیمانی نے اپنی جنگی حکمت عملی سے عراق اور شام دونوں کو داعش کے نجس وجود سے پاک کیا، زندگی بھر انسانیت کا تحفظ کرتے رہے، وہ امریکہ کے لئے گلے کی ہڈی اور آنکھ کا کانٹا ثابت ہوئے۔ سو وہ اخلاص سے جہاد کرتے رہے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے دنیا والوں کے دلوں کو ان کی محبت سے بھر دیا، کیونکہ خدا کا یہ وعدہ ہے کہ جو ایمان کے ساتھ عمل صالح بجا لائے، اللہ دوسروں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتا، اسے محبوب بناتا ہے۔ شہید قاسم سلیمانی کی جاودانگی، شہرت اور شخصیت کی بلندی کا سبب یہی ہے، بے شک جلنے والے لاکھ یہ کہتے رہے کہ قاسم سلیمانی ہی عالمی میڈیا کی زینت کیوں۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ
(۱) وکیپیڈیا شیعہ
خبر کا کوڈ : 839914
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش