0
Wednesday 22 Jan 2020 12:02

چیل کے گھونسلے میں ماس کی تلاش

چیل کے گھونسلے میں ماس کی تلاش
اداریہ
یہ اردو کا بڑا مشہور محاورہ ہے۔ چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں؟، یعنی وہ شخص جو گوشت کی تلاش میں ہو اور چیل کے گھونسلے میں اُسے تلاش کرے تو اسے کم از کم نادان اور کم عقل سمجھا جاتا ہے۔ اردو کا ایک اور محاورہ بھی اسی سے ملتا جلتا ہے "اندھے سے بٹیر کی خواہش۔" پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ سے ملاقات اور افغانستان و کشمیر کے مسئلے میں معاونت کی خواہش، اندھے سے بٹیر کی خواہش ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ کب سے مسلمانوں کے ہمدرد ہوگئے ہیں، اس کی تفصیل عمران خان اور ان کے پیچھے دیکھی اور ان دیکھی قوتوں سے ہی پوچھی جا سکتی ہے۔

لیکن امریکہ کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اُس نے امت مسلمہ کو نقصان پہچانے کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ ایران کے اسلامی انقلاب کیخلاف امریکہ کی سازشوں سے دنیا آگاہ ہے اور گیارہ ستمبر کے مشکوک واقعے کے بعد امریکیوں نے افغانستان، عراق، شام، لبنان سمیت فلسطین کو جن جنگوں میں مبتلا کر رکھا ہے، اُس سے امریکی اہداف کا بخوبی ادراک کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ میں چاہے ڈیموکریٹس ہوں یا ری پبلیکنز، امتِ مسلمہ کے خلاف ایک جیسی رائے رکھتے ہیں، دونوں جماعتوں کا ماضی گواہ ہے کہ امریکہ میں کوئی جماعت یا حکومت امریکی مفادات اور اہداف سے ہٹ کر کوئی اقدام انجام نہیں دیتی۔

عمران خان ڈونالڈ ٹرامپ سے افغانستان اور کشمیر کا مسئلہ حل کروانے کے خواہشمند ہیں، حالانکہ امریکی تھنک ٹینک افغانستان اور کشمیر کے بدلے پاکستان سے جو خواہش رکھتے ہیں، اُس کی فہرست طویل و عریض ہے۔ عمران خان اگر چین اور سی پیک منصوبے کو ترک کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہمسایہ ممالک کے خلاف اپنی سرزمین دینے کے لیے تیار ہیں تو انہیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ سے یہ امید رکھنی چاہیئے کہ وہ افغانستان اور کشمیر میں پاکستان کی معاونت کرے گا، ورنہ امریکیوں کی سرشت اور ڈونالڈ ٹرامپ کے عادات و اطوار سے اس طرح کی امید اور خواہش چیل کے گھونسلے میں ماس کی تلاش کے مترادف ہے۔
خبر کا کوڈ : 840061
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش