0
Thursday 23 Jan 2020 13:55

کراچی، تین ہٹی کی جھگیوں میں لگنے والی آگ حادثہ تھی یا پھر کوئی سازش؟

کراچی، تین ہٹی کی جھگیوں میں لگنے والی آگ حادثہ تھی یا پھر کوئی سازش؟
رپورٹ: ایس ایم عابدی

کراچی کے علاقے تین ہٹی پل کے نیچے جھگیوں میں لگنے والی آگ کے حوالے سے متضاد باتیں سامنے آنے کے باعث معاملہ پراسراریت اختیار کرگیا۔ جھگی کے ایک مکین کا کہنا تھا کہ آگ اس کے گھر میں جلائے جانے والے دیئے کی وجہ سے لگی جبکہ بعض مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ آگ مبینہ طور پر جان بوجھ کر لگائی گئی جس میں کیمیکل کا استعمال کیا گیا۔ تین ہٹی پل کے نیچے جھگیوں میں لگنے والی خوفناک آگ میں جل کر خاکستر ہونے والی جھگیوں میں سے ایک جھگی کے مکین برجو نے انکشاف کیا کہ میں گزشتہ 22 سال سے تین ہٹی پل کے قریب قائم جھگیوں میں رہتا ہوں، میری 8 سالہ بھتیجی ممتا نے دیا جلایا تھا اس وقت میں بھی موجود تھا، دیا جلا کر ممتا باہر چلی گئی اور کچھ دیر کے بعد میں بھی جھگی کا دروازہ بند کرکے لیاقت آباد ڈاکخانے روٹیاں لینے چلا گیا۔ برجو کا کہنا تھا کہ وہ جب واپس آیا تو آدھے سے زیادہ بستی جل چکی تھی اور جھگیوں کے دیگر مکینوں نے مجھے کہا کہ تمہاری وجہ سے بستی میں آگ لگی اور اس وجہ سے میں ڈر کر بھاگ گیا۔ برجو کا کہنا تھا کہ آگ جان بوجھ کر نہیں لگائی یہ ایک حادثہ تھا، بھتیجی ممتا کے ہاتھوں جلائے جانے والے دیئے نے پہلے جھگی میں لگے ہوئے پردے میں آگ پکڑی جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے آگ چاروں طرف پھیل گئی۔ برجو کا کہنا تھا کہ میری والدہ نے جہیز کے لئے پیٹی میں 2 لاکھ روپے جمع کئے تھے وہ بھی اسی آگ میں جل کر خاکستر ہوگئے۔

آتشزدگی کے بعد متاثرین اپنی جلی ہوئی جھگیوں کو دیکھ کر افسردہ دیکھائی دیئے اور اس امید پر جلے ہوئے سامان کو اپنی قیمتی اشیاء بھی تلاش کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔ جھگی کے مکین ارجن اور اس کی بیوی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی 2 بیٹیوں کے جہیز کے لیے کئی سالوں سے پائی پائی جوڑ کر ایک ڈبے میں پیسے جمع کئے تھے جبکہ کچھ سامان بھی خریدا تھا مگر آگ نے انہیں اتنی مہلت ہی نہیں دی کہ وہ اپنی جمع پونجی کو بچا لیتے۔ جھگی کی رہائشی بندیا نامی خاتون نے بتایا کہ وہ تو بھیک مانگ کر پیسے جمع کرتی ہے لیکن اس کا شوہر ٹریفک سگنل پھول فروخت کرتا ہے جس سے ان کا گزر بسر چلتا ہے اور اس میں سے جو بچت ہوتی تھی اسے بیٹیوں کے جہیز کے لئے جمع کر رہے تھے جو اس آگ میں پھونک گیا، آگ نے انہیں صرف اتنا ہی موقع دیا کہ وہ بچوں اور اپنی جان بچا کر محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، جھگیوں کے بعض رہائشیوں کی جانب سے یہ بھی الزام سامنے آیا ہے کہ ان کی بستی میں مبینہ طور پر جان بوجھ کر آگ لگائی گئی تھی جس میں کیمیکل کا بھی استعمال کرنے کا شبہ ہے۔

دریں اثناء تین ہٹی پل کے نیچے جھگیوں میں آتشزدگی کے بعد متاثرین کی مدد کے لئے ایم کیو ایم، پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی کی جانب سے ریلیف کیمپ لگائے گئے جبکہ رینجرز کی جانب سے لگائے جانے والے کیمپ سے گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کی جانب سے فراہم کئے جانے والے خیمے، کمبل اور دیگر ضروریات کا سامان متاثرین میں جانچ پڑتال کے بعد تقسیم کیا جاتا رہا۔ اس موقع پر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی موجود تھی جو بیماری کا شکار افراد خصوصاً بچوں کو طبی امداد فراہم کر رہی تھی۔ اس موقع پر سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں کی رہنماؤں اور مقامی قیادت کی جانب متاثرین کو صبح کا ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا بھی فراہم کیا گیا۔ اس موقع پر مال غنیمت لوٹنے والے موقع پرستوں کا ٹولہ بھی سرگرم ہوگیا اور ان کی بھی بڑی تعداد موقع پر جمع ہوگئی اور وہ مخیر حضرات کی جانب سے متاثرین میں تقسیم کی جانے والی امدادی اشیاء، کھانے کے بکسز اور دیگر اشیاء لے اڑے۔

کمشنر کراچی افتخاری شالوانی نے تین ہٹی پل کے نیچے لیاری ندی میں قائم جھگیوں میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لئے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی کو واقعہ کے اسباب اور حقائق معلو م کرکے 2 ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیٹی کا سربراہ ڈپٹی کمشنر وسطی فرحان غنی کو مقرر کیا گیا ہے، چیف فائر آفیسر بلدیہ عظمی، ایس پی لیاقت آباد، میونسپل کمشنر بلدیہ ضلعی وسطی اور فارنسک ایکسپرٹ کراچی یونیورسٹی کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔ کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ مستقبل میں اس قسم کے واقعہ کی روک تھام کے لئے بھی تجاویز دے کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی کی غفلت کی صورت میں اس پر کریمنل پروسیجر کوڈ کے تحت ذمہ داری عائد کی جائے۔
خبر کا کوڈ : 840212
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش