0
Thursday 23 Jan 2020 12:09

ایک عظیم ہیرو کی کردار کشی

ایک عظیم ہیرو کی کردار کشی
تحریر: نصرت علی شہانی

 قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں کسی پر بہتان و افتراء کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ جتنی بڑی شخصیت ہوگی، تہمت و بہتان اتنا ہی سنگین جرم ہوگا۔ ان دنوں جبکہ مسلمانان عالم، فلسطین، کشمیر سمیت اسلامی تحریکوں کے راہنما، امریکہ، اسرائیل اور ان کے کاسہ لیسوں کی نیندیں حرام کرنے والے عظیم مجاہد جنرل قاسم سلیمانی کو خراج تحسین پیش کرر ہے ہیں، بعض اجرتی لکھاری اس ہیرو کی کردار کشی کا سونپا گیا ”فرض" ادا کر رہے ہیں۔ اس طرح کی شخصیات کی کردار کشی کا جرم تاریخی تسلسل ہے۔ انبیاؑء کو مفسد کہا گیا، رسول اکرمﷺ کو جادوگر کہہ کر ان کی شخصیت کو داغدار کرنے کی باطل کوششیں ہوئیں۔ ایک رات میں ایک ہزار رکعت نماز ادا کرنے والے علی بن ابیطالبؑ کو شامی مسلمان ”بے نماز“ کہتے تھے۔

روزنامہ جسارت 20 جنوری میں سمیع اللہ ملک کا ”امریکی دوستی اور اس کا انجام“ کے عنوان سے رنگین صفحہ کا مضمون جنرل قاسم سلیمانی کے روشن کردار اور حقیقی اسلام کے تابناک چہرے کو دھندلانے اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی ایسی ہی سعیء لاحاصل ہے۔ بدنام زمانہ سی آئی اے اور اسی قماش کے امریکیوں کی خرافانہ باتوں پر ایمان لاتے ہوئے مضمون نگار نے اس مجاہد جنرل کو امریکی آلہء کار ثابت کرنے پر توانائی صرف کی ہے اور ان کی رضا شاہ پہلوی سمیت چند مکروہ کرداروں سے تشبیہ دے کر اپنے بغض و عناد کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ سمیع اللہ صاحب نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ابھی تو قاتل ٹرمپ کے اعتراف جرم کی صدا کانوں میں گونج رہی ہے کہ قاسم سلیمانی ہزاروں امریکیوں کا قاتل تھا، برطانوی وزیراعظم بھی جنرل قاسم کو اپنے فوجیوں کے قتل کا ذمہ دار ٹھرا رہا ہے۔ اسرائیل و داعش کے دیگر سرپرست اپنے انتقام کا اعلان کررہے ہیں تو کس منطق کی بنا پر مضمون نگار کا بہتان درست ہوسکتا ہے۔؟

سمیع اللہ نے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے جنرل قاسم سلیمانی پر ایران سے باہر ”اپنے مفادات“ کے لئے سرگرم رہنے کا الزام لگایا، لیکن ان کے جنازے میں شریک لاکھوں سنی، شیعہ عراقی اس زعم باطل کی نفی کرتے ہوئے اس مرد مجاہد کو اپنا مسیحا تسلیم کرتے ہیں، جس نے انہیں خونخوار داعش سے نجات دی۔ اسلام کا درد رکھنے والے کروڑوں مسلمان بھی سمیع اللہ کی فکر سے اظہار بیزاری کر رہے ہیں، کیونکہ جنرل قاسم نے انبیاؑء، اہلبیؑت و اصحاب رسولﷺ کے مزارات کا دفاع کیا۔ بلاشبہ جنرل سلیمانی نے اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کو ”اپنے مفادات“ قرار دے کر اسلامی غیرت و حمیت کی وہ تاریخ رقم کی، جو داعشی لابی کو تڑپا رہی ہے۔ ایران میں اسلامی حکومت کی چالیس سالہ تاریخ میں ایران، امریکہ دشمنی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اقتصادی شکنجے سے لے کر جنرل قاسم کے قتل تک امریکہ نے کون سی کسر چھوڑی ہے کہ ایران کی اس طاقتور ترین شخصیت کے امریکی آلہء کار ہونے کی غیر عقلائی تہمت کی حماقت کی جا رہی ہے۔

مضمون میں طالبان، القاعدہ کے وجود اور معدومیت کے قصہء پارینہ کو بھی زیب داستاں کے لئے دہرایا گیا ہے۔ اپنے ہی ہموطن ہزاروں مردوں کے بے رحمانہ قتل، عورتوں کو کنیزیں بنانے، مسلمانوں سے جزیہ لینے جیسے ”کارنامے“ انجام دینے والے اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکے۔ کسی ذمہ دار افغان حلقے نے افغانی عوام، مساجد، عوامی مقامات کو ہدف بنانے کا الزام جنرل سلیمانی پر نہیں لگایا۔ سمیع اللہ نے حقائق مسخ کرنے کے لئے عراق میں داعش کے خاتمے میں امریکہ کے کردار کا ذکر کیا، جبکہ یہ کام مرجع تقلید آیت اللہ سید علی سیستانی کے حکم پر بننے والی عوامی رضاکار فورس ”الحشد الشعبی“ کے عراقی جوانوں نے جنرل قاسم اور ابو مہدی کی کمانڈ میں انجام دیا۔

مضمون نگار کی تضاد بیانی کی ایک مثال یمن میں جنرل سلیمانی کا کردار ہے۔ سمیع اللہ صاحب کو بتانا چاہیئے تھا کہ یمن میں یہ مجاہد، امریکی سرپرستی میں یمن تباہ کرنے والے عسکری اتحاد کے ساتھ کام کر رہے تھے یا مظلوم یمنی مسلمانوں کا دفاع۔؟ ایران کی طرف سے امریکی اڈے پر تباہ کن حملے اور امریکہ کی بدترین پسپائی، ذلت و رسوائی اس دور کا منفرد واقعہ ہے، جس میں اس فرعون کا غرور خاک میں ملا، لیکن سمیع اللہ کو اسے سراہنے کی توفیق بھی نہیں ہوئی بلکہ جنگ ٹلنے سے مایوسی ہوئی۔ بعض حلقے یہ حسرت لئے بیٹھے تھے کہ ایران بھی ”تورا بورا“ بنے گا، لیکن امریکہ جانتا ہے یہ قوم کرار غیر فرار کی ماننے والی ہے۔ سمیع صاحب کے حقائق کو غلط رنگ دینے کا اندازہ اس جملے سے ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت نے عوامی دباؤ کے ہاتھوں مجبور ہو کر کئی میزائل داغے۔ اسے اچھے الفاظ میں ”تجاہل عارفانہ“ کہتے ہیں۔

انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران کی اسلامی حکومت کے سرپرست متعھد، ذمہ دار علماء ہیں۔ ان کے فیصلے خود مختاری، غیرت و دینی حمیت کے مظہر ہوتے ہیں، جو فرعون وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے ذلیل و رسوا کرنے کا حوصلہ رکھتے اور عمل کر دکھاتے ہیں۔ اسلامی غیرت سے سرشار اس حکومت کا یہ شعوری شجاعانہ فیصلہ تھا، جس کے پیچھے اس غیور ملت کا ہر فرد تھا، جس نے عالم اسلام کا جھکا ہوا سر بلند کر دیا۔ وطن عزیز کے حوالے سے امریکی بدمعاشیوں کے بہت سے تلخ حقائق کے ذکر سے جان چھڑاتے ہوئے سمیع اللہ صاحب نے ہمارے فوجی موقف کے ذکر پر ہی اکتفا کیا کہ ہماری سرزمین کسی برادر ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ بلا شبہ پاک فوج کا عزم لائق تحسین ہے، لیکن اس میں یہ اضافہ بھی ضروری ہے کہ ہم ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار ہوں گے، کیونکہ اسلامی تعلیمات میں ”غیر جانبداری“ کا کوئی تصور نہیں۔
خبر کا کوڈ : 840218
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش