0
Saturday 25 Jan 2020 09:22

عراق میں ریفرنڈم اور مقتدیٰ صدر کے اعلانات

عراق میں ریفرنڈم اور مقتدیٰ صدر کے اعلانات
اداریہ
عراق کے عوام نے گذشتہ روز کی "نو ٹو امریکہ" ریلی میں بھرپور شرکت کرکے امریکی فوجی موجودگی کے خلاف اپنے موقف کا کھلم کھلا اعلان کر دیا۔ عراقی عوام جس طرح ڈونالڈ ٹرامپ کے خلاف نعرے اور امریکی فوجی موجودگی پر سراپا احتجاج تھے، اُس سے امریکہ سمیت عالمی برادری کو یہ پیغام ضرور پہنچ گیا ہوگا کہ عراقی عوام ان کو اپنے ملک زیادہ دیر برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بغداد کے عوامی مظاہروں کو بعض حلقوں نے "ثورۃ العشرین الثانیہ" ماضی کی عراقی عوام کی تحریک سے بھی تشبہہ دی ہے، جو عراق پر برطانیہ کے تسلط کے خاتمے پر منتج ہوئی تھی۔ نو ٹو امریکہ ملین مارچ کو عالمی ذرائع ابلاغ کس انداز میں پیش کرتے ہیں، اس کا جواب آج کل میں سامنے آجائیگا۔ البتہ عالمی میڈیا جس پر صہیونی لابی کا قبضہ ہے، ماضی میں صرف اُس چیز کو نمایاں کرکے پیش کرتا ہے، جو اس کے مفاد میں ہو۔

عراق میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان اگرچہ السعائرون اتحاد کے سربراہ سید مقتدیٰ صدر نے کیا تھا، لیکن مظاہروں میں عوامی شرکت اور مختلف سیاسی و مذہبی دھڑوں کے تائیدی بیانات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس احتجاج میں سب گروہ شامل تھے۔ غیر مسلم قبائل کی بھی قابلِ ذکر نمائندگی تھی۔ البتہ کردوں اور بعض اہلسنت کی طرف سے ان مظاہروں اور امریکہ کو عراق سے باہر نکالنے کے حوالے سے مخالفت کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جنہیں امریکی اور صہیونی میڈیا ضرور بڑھا چڑھا کر بیان کرے گا۔ لیکن جب کسی ملک کی پارلیمنٹ، حکومت، علماء، سیاسی جماعتیں، عسکری دھڑے اور نمایاں اسٹیک ہولڈرز ایک صفحے پر ہوں تو اس کے مقابلے میں زیادہ دیر مزاحمت نہیں کی جا سکتی۔ امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مکمل کوشش ہوگی کہ ان مٹھی بھر عناصر کو پیٹرو ڈالر کے ذریعے عراقی عوام میں اختلافات کی خلیج پیدا کریں۔

اسی طرح یہ ممالک مصنوعی اختلاف کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے میں استعمال کریں گے، لیکن عوام کی واضح اور قاطع اکثریت کے مقابلے میں اس طرح کے ہتھکنڈے عملی طور پر زیادہ دیر پا نہیں ہوتے۔ عراقی عوام نے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنا وظیفہ ادا کر دیا ہے۔ اب عراقی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ اس جوش و جذبے اور موقف کو ہر سطح پر قائم رکھتے ہوئے امریکی فوجی انخلاء کے عملی راستے تلاش کریں۔ امریکی سامراج اتنی آسانی سے باہر نہیں نکلے گا، تاہم مقتدیٰ صدر کی طرف سے جو امریکی انخلاء کے لیے مراحل بیان ہوئے ہیں، دوسرے سیاسی دھڑے بھی اس پر سوچ بچار کرکے اسے مزید واضح اور شفاف بنا کر عراقی عوام کی خواہش اور مطالبات کو پورا کرسکتے ہیں۔ عراقی قیادت کو جس عزم بالجزم کی ضرورت ہے، عوام نے اس کا ماحول تیار کر دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 840534
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش